برف کی دیوار (افسانہ) سلیم آذر

ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے جتنی تنہا ئی کی ضرورت تھی

وہ اس بھرے پرے گھر میں میسر نہ تھی

جس کی وجہ سے ہمارے اندر جھنجلاہٹ در آئی تھی

 

 مجھے اس کی یہ عادت ہمیشہ زہر لگتی تھی کہ

جس بات کے پیچھے پڑ جاتی اسے جان کر ہی دم لیتی تھی

 

آج سردی معمول سے زیادہ تھی۔ اس سرد موسم نے میرے رویے میں بھی ایک سرد مہری سی پیدا کردی تھی۔ میں نے سوئٹر پرکوٹ پہن کر کانوں کے گرد مفلر لپیٹا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ اسی وقت پیچھے سے میری بیوی نے چیختے لہجے میں کہا۔” اتنی سردی میں رات کو کہاں جارہے ہو؟“

میں نے پلٹ کر سرد نگاہوں سے اسے گھورا اور تلخ لہجے میں کہا۔” ہزار دفعہ منع کیا ہے، جاتے وقت پیچھے سے آواز مت دیا کرو۔“

اس نے حسب عادت میری تلخی کو نظرانداز کردیا اور اپنا سوال دہرایا۔ مجھے اس کی یہ عادت ہمیشہ زہر لگتی تھی کہ جس بات کے پیچھے پڑ جاتی اسے جان کر ہی دم لیتی تھی۔ ”حامد کی طرف جارہا ہوں۔“ میںنے اس کے سوالوں سے جان چھڑانے کے لیے جلدی سے کہا۔” وہاں دوستوں کے ساتھ تاش کی ایک دو بازیاں لگاﺅں گا۔“ یہ کہہ کرمیںجلدی سے باہر نکل گیا۔

جس کی شادی کو پانچ سال گزر چکے ہوں اور کوئی اولاد نہ ہو تو ان کی ازدواجی زندگی میں خود بہ خود ایک نامعلوم سی سرد مہری اور تلخ آمیز خلیج حائل ہوجاتی ہے۔ گھرمیں کوئی حیران کن تبدیلی یا اجنبی بات نہیں ہوتی اور رویوں میں ایک بیزار کن یکسانیت اور ٹھہرﺅ آجاتا ہے۔ بیوی پر روز بہ روز افسردگی اور مظلومیت اور شوہر کے رویے میں اکھڑ پن اور جارحیت آتی چلی جاتی ہے۔ ہوسکتا ہے سب کے ساتھ ایسی بات نہ ہوتی ہولیکن میرے معمولات میں بیزار کن ٹھہراﺅآ چکا تھا۔ کبھی کبھار ہماری آپس کی تلخی جھگڑے کی شکل اختیار کرلیتی اور ہم چیخ چیخ کر اپنے اندر کا غبار نکال لیتے تو چند لمحوں کے لیے ضرور ہیجان اور جوش پیدا ہوجاتا جیسے پرسکون جھیل میں کوئی کنکر پھینک دے اور کچھ وقفوں کے لیے لہروں میں ارتعاش پیدا ہوجائے۔

ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ شادی کا ابتدائی ایک سال بہت پرجوش اور پر لطف گزرا۔ میرا زیادہ وقت اس کی صحبت میں گزرتا۔ وہ بھی ہر وقت میرے قرب کی تمنائی رہتی۔ میں دفتر سے فارغ ہو کرسیدھا گھر جاتا تووہ سجی سنوری ، لبوں پر مسکراہٹ سجائے مجھے منتظر ملتی۔ میری موجودگی میں ساس نندوں یا گھر کا کوئی کام کرنا پڑجاتا تو اس کے چہرے پر ناگواری چھا جاتی۔ مجھے بھی اس کی ذرا سی دوری کھل جاتی تھی۔ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے جتنی تنہا ئی کی ضرورت تھی وہ اس بھرے پرے گھر میں میسر نہ تھی جس کی وجہ سے کبھی کبھی ہمارے اندر جھنجلاہٹ سی در آتی۔

ایک سال پلک جھپکتے گزر گیا۔ ایک دوسرے کی صحبت میں ہمارے اندر کی پرتیں آہستہ آہستہ اترتی رہیں پھر ہم خالی ہوگئے۔اولاد کی صورت میں جب کچھ بھی ان پرتوں سے برآمد نہیں ہوا تو پہلے گھر والوں، پھر قرب وجوار کے لوگوں اور آخر میں ہمارے اندر بھی سوالیہ دائرے بننے بگڑنے لگے۔

امی کے اصرار پر میں نے اپنا اور فرحت کا میڈیکل چیک اپ کرایا، ڈاکٹر کی’ ’سب صحیح ہے“ رپورٹ کے باوجود کچھ بھی صحیح نہیں ہوا۔ لوگوں کی نظروں اور معنی خیز باتوں نے میرے اندر اشتعال سا پیدا کردیا۔ فرحت بھی جسے سہم کر رہ گئی۔ہم تنہائی میں اب محبت کے بجائے ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے تھے۔ ہمارے اندر غیرمحسوس احساس شکست سا پیدا ہو چلا تھا۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی محرومی کا احساس یوں ہمارے دل میں راسخ ہوا کہ ہمارا رویہ ایک دوسرے کے ساتھ تبدیل ہوتا چلا گیا۔ ان حالات میں ہم ایک دوسرے کی مدد کرسکتے تھے، خود کو ڈھارس دے سکتے تھے لیکن دوسروں کے رویوں اورباتوں نے ہمارے اندر جرم کا سا احساس پیدا کردیا تھا۔ ہم ایک دوسرے کو قصور وار سمجھتے ہوئے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔

انہی دنوں میرا تبادلہ ہوگیا۔ میں لاہور سے کراچی آگیا۔میں نے فیڈرل بی ایریامیں دو کمروں کا ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا۔ دوسرے شہرمیں آکر بھی ہمارے آپس کے رویے میں ابتدائی دنوں کی گرم جوشی پیدا نہ ہوسکی۔ لاہورمیں تو گھر کے دوسرے افراد کی وجہ سے کچھ نہ کچھ تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔کراچی بالکل اجنبی شہر تھا۔ کوئی واقف کار تھا نہ کوئی دیگر مصروفیت لہٰذا جلد ہی ایک معمول کی زندگی شروع ہوگئی۔ہرچیز پرجیسے جمود سا طاری ہوگیا۔گھر میں ایک ہی شکل دیکھ دیکھ کر ہم بیزار ہوگئے تھے۔ بس ایک دوسرے کی ضرورت تھے، جیسے لباس یا کھانا ضروری تھا اسی طرح ہم ایک دوسرے کو برت رہے تھے۔

میں نے گھرکی بیزار کن فضا سے فرارکاراستہ تلاش کرلیا۔دفتر میں میرے کئی دوست بن گئے تھے جن کے گھر شام کو تاش اور شطرنج کی بازی جمتی یا وسی آر پر فلم دیکھی جاتی، محلے میں حامد صاحب کے گھر میں بھی میرا آنا جانا ہوگیا جہاں رات گئے تک دوستوں کی محفل سجی رہتی تھی۔ میں دفتر سے آکر کچھ دیر اپنے کمرے میں پڑا رہتا پھر رات کو کھانا کھا کر باہر نکل جاتا۔آدھی رات کے بعد جب میں گھر واپس آتا تو فرحت کبھی سوئی ہوئی ملتی، کبھی جاگتی ہوئی میرا انتظار کررہی ہوتی۔ مجھے دیکھتے ہی وہ غصے میں بڑبڑانے لگتی۔ اس کے غصے کی آگ میں ہمارے ازدواجی بندھنوں کی چمک دمک کچھ اور ماند پڑجاتی۔ ہمارا یہ بندھن آہستہ آہستہ اپنی چمک دمک کھو چکا تھا کیونکہ ازدواجی بندھن کی چمک دمک کے لیے بچے پالش کا کام کرتے ہیں اور ہم اسی پالش سے محروم تھے۔

کبھی کبھی وہ بہت غصے میں آجاتی۔میں رات کوواپس آکر جب اس کی نیند خراب کرتا تو وہ غصے میں بھڑک اٹھتی لیکن یہ عجیب بات تھی کہ جب میں اس کے غصے کی آگ میں اپنے گرم جذبوں کی تپش شامل کرتا تو وہ ایک دم ٹھنڈی ہو کربرف بن جاتی۔ اس کا سارا غصہ ختم ہوجاتا اور وہ ایک معمول کی طرح میرے اشاروں پرعمل کرتی رہتی۔کبھی کبھی میں اس کے سرد رویے سے چڑ بھی جاتا تھا۔

ہماری زندگی اسی طرح معمول سے گزر رہی تھی، جب میری ساس کے ایک خط نے ہمارے معمولات میں ہل چل پیدا کردی۔ ان کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی تھی۔ انھوں نے مجھے اور فرحت کو فوراً بلایا تھا۔ مجھے تو دفتر سے چھٹی نہیں مل سکی کیونکہ آڈٹ ہورہا تھا البتہ فرحت کومیں نے فوراً ٹرین میں سوار کرادیا۔ میںنے لاہور میں اپنے گھر اور سالے کو فون کرکے فرحت کی آمد کی اطلاع دے دی اوربوگی وسیٹ نمبر بھی بتا دیا تاکہ وہ فرحت کو لاہور اسٹیشن پر اتار لیں۔

فرحت کو لاہور روانہ کرکے جب میں اسٹیشن سے باہر آیا تو مجھے اپنے اندر آزادی کا احساس ہوا۔ مجھے یوں لگا جیسے میرے جسم کے گرد کسی بھاری زنجیریں ٹوٹ گئی ہوں۔ میں خود کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔ ازدواجی زنجیریں جو ہر وقت مجھے باندھے رکھتی تھیں آج ڈھیلی پڑ گئی تھیں۔ فرحت جا چکی تھی۔ اب میں آزاد تھا۔ مجھے فضا میں ہر طرف خوشی بھرے قہقہے گونجتے سنائی دے رہے تھے۔مجھے فرحت کی جواب طلبی کا کوئی ڈر نہیں تھا۔ میں جب جی چاہتا گھر واپس جاتا۔ آزاد اور کنوارے مردوں کی طرح ماحول سے اپنی خوشیاں اپنی مرضی سے کشید کرسکتا تھا۔جی کھول کر دوستوں کی صحبت میں لطف اندوز اور آوارہ گردی کرسکتا تھا۔ اب مجھے یہ ڈر نہیں تھا کہ جب پو پھٹے میں گھرمیں داخل ہوں گا تو فرحت میری خوشیوں کو اپنے غصے اور بڑبڑاہت سے ملیامیٹ کردے گی۔

اسٹیشن سے میں سیدھا حامد کے گھر چلا گیا اور رات گئے تک اپنی آزادی کا بھرپور ثبوت دیتا رہا۔جب میں حامد کے گھر سے نکلا تو رات ڈھل چکی تھی۔ میں دھیمے سروں میں سیٹی بجاتا اپنے فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔میرے انگ انگ سے آزادی اور خوشی جھلک رہی تھی۔ جوں ہی میں اپنے فلیٹ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو بے اختیار ٹھٹھک گیا۔ آج فرحت گھرمیں میری منتظر نہ تھی۔ اس کے استعمال کی اشیا ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں۔ڈریسنگ ٹیبل پر پاﺅڈر کے ذرات بکھرے ہوئے تھے،کنکھے میں چند بال الجھے ہوئے تھے، بکھری ہوئی اشیا سے اندازہ ہورہا تھا کہ فرحت روانگی کے وقت سخت مضطرب اور عجلت میں تھی ورنہ وہ ایسا نہ کرتی۔ وہ تو بہت سلیقہ مند تھی اور گھر کو ہمیشہ بہت صاف ستھرا رکھتی تھی۔

ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں ٹیپ سے ایک کاغذ چسپاں تھا۔ میں نے جھپٹ کر وہ کاغذ نوچ لیا۔ فرحت نے جاتے جاتے مجھے ہدایات تحریر کی تھیں۔ دودھ والے، دھوبی اور ماسی کے بارے میں ہدایات تھیں، کھانے کی تفصیل اورمجھے اپنا خیال رکھنے کی تاکید لکھی تھی۔میرے موزے ، ٹائی اور رومال جہاں رکھے تھے وہاں کی نشاندہی تھی اور گیس وبجلی کا بل جمع کرانے کی تاکید تھی۔ اس کا ہدایت نامہ پڑھ کر مجھے احساس ہورہا تھا کہ اس کا خاموش وجود گھر میں کتنی ذمے داریوں کا حامل تھا۔

میری پانچ سالہ ازدواجی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ فرحت مجھ سے یوں جدا ہوئی تھی۔ میری ازدواجی زندگی کے معمولات میں یہ پہلی دفعہ خلاف توقع کام ہوا تھا۔ میں یکایک فرحت کی کمی شدت سے محسوس کرنے لگا۔ کمرے کی فضا اور ادھر ادھر بکھری اشیا پکار پکار کر اپنی روح رواں کی غیر موجودگی کا اعلان کررہی تھیں۔ کمرے میں اس کی مانوس خوشبو کی غیرموجودگی نے میرے اندر ایک غم انگیز تنہائی کااحساس پیدا کردیا تھا۔

میں نے بوجھل دل کے ساتھ اپنا بستر درست کیا۔ بستر پر اس کی نیلی ریشمی قمیص پڑی تھی جو وہ جاتے وقت اتار کر گئی تھی۔ اس قمیص میں ابھی تک اس کے جسم کے نشیب وفراز محفوظ تھے، آستینوں کے درمیان مخصوص انداز کی سلوٹیں پڑی ہوئی تھیں۔اس قمیص میں سے اس کے وجود کی مانوس بھینی بھینی مہک آرہی تھی۔ میرا دل اس کی محبت میں ایک دم سرشار ہوگیا۔ میں نے اس کی قمیص کو چھوا تو میرے اندر ایک سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے فرحت سے کبھی جدا بھی ہونا پڑے گا۔ اس کے بغیر مجھے زندگی بے رنگ اور بے کیف لگ رہی تھی۔وہ غیرمحسوس طریقے سے میری زندگی اور میرے حواس پر یوں چھا گئی تھی کہ میں اس کے بغیرخود کو نامکمل اور ادھورا محسوس کررہا تھا۔وہ میری زندگی کا لازمی جزو بن گئی تھی، ایسا جزو جس کا مجھے آج سے پہلے احساس بھی نہیں تھا۔

وہ کچھ ہی دنوں کے لیے گئی تھی لیکن اس کے بغیر مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے اس گھر کی پرسکون اور محفوظ زندگی پر موت چھا گئی ہو۔ اس کے بغیر گھر مجھے بھوتوں کا مسکن معلوم ہورہا تھا، ویران، اجاڑ اور ہیبت ناک! آج سے قبل فرحت کے ساتھ مجھے اپنے رویے کا کبھی احساس نہیں ہوا لیکن اس کے بغیر گھر میں جو چند پل میں نے گزارے ان لمحات نے میرے اندر جو بے چینی،اضطراب اور ادھورے پن کا احساس پیدا کیا اس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ میری خوشیوں اور تکمیل کے لیے فرحت کا وجود ناگزیر ہے۔ اکتادینے والے گھریلو معاملات اور بیزارکن یکسانیت نے میرے اندر سے اس کی محبت کے احساس کو جیسے ختم کردیا تھا وہ محبت اس کی غیرموجودگی میں یکایک انگڑائی لے کر بیدار ہوگئی۔ میںنے اپنے دل میںاس کے لیے بے پایاں محبت محسوس کی۔ مجھے فرحت کے ساتھ اپنے ظالمانہ رویے کا احساس ہوا۔میں نے خود کو لعنت ملامت کی کہ میں اس کے

 ساتھ کتنا ظلم کرتا رہا ہوں۔میں نے اسے نظرانداز کرکے اسے تنہائیوں کے حوالے کردیا اورخود اپنے لیے فرار کے راستے ڈھونڈ لیے۔اس کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے آدھی آدھی رات تک گھر سے باہر رہا، دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتا اور وقت گزارتا رہا اوروہ بے چاری گھر میں تنہا میری محبت کی قید میں رہی۔ اس کے پاس دل بہلانے کا کوئی ذریعہ بھی تو نہیں تھا۔مجھے خود سے ندامت ہورہی تھی۔ میں اب اپنے رویے کی تلافی کروں گا۔ میںنے سوچا۔ اب وہ واپس آئے گی تو اس کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاروں گا ، اسے سیر کرانے لے جاﺅںگا، اب ہم دونوں گرم جوشی سے محبت میں وقت گزاریں گے۔ میں نے عزم کیا۔

اس کے بغیر ایک ہفتہ میں نے بہ مشکل گزارا۔ مجھے رہ رہ کر پچھتاوا ہو رہا تھا کہ میں اب تک اس کی محبت سے اتنا بے خبر کیسے رہا۔ اس کی یادیں ، ایک ایک بات مجھے تڑپاتی رہی،میرے معمولات بالکل تبدیل ہوگئے تھے۔ دوستوںکی محفل میں اب میرا دل نہیں لگتا تھا۔ میں حامد کے گھر جاتا تو کچھ ہی دیر بعد اکتا کر واپس خالی گھر میں آجاتا تھا۔ اس کی غیرموجودگی میں میرا زیادہ وقت خالی گھر میں گزارا۔ میں اس کے تصور میں کھویا رہتا اور اسے خوش رکھنے کے نت نئے انداز سوچتا رہتا تھا۔ میں یہ سوچ کر اپنے اندر سنسنی محسوس کرتا کہ جب فرحت آئے گی اور گھر کا نقشہ اور مجھے بالکل بدلا ہوا پائے گی تو کیسا محسوس کرے گی۔ جب میں اس سے اپنی زیادتیوں کی تلافی کروں گا تو زندگی کتنی کیف آور اور رنگین ہوجائے گی، بھلا فرحت کے بغیر اب زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔ میں نے سوچ لیا کہ صبح فون کرکے فرحت کو واپس آنے کے لیے کہہ دوں گا۔

فرحت واپس آئی تو سارا دن وہ اپنی امی کی بیماری کا حال سناتی رہی۔ میں اسے اپنے جذبات و احساسات کے بارے میں بتانا چاہتا تھا لیکن میری نظریں احمقانہ انداز میں اس کے وجود کا طواف کرتیں اورمیں جانے کیا سوچ کر خاموش ہوجاتا۔ شام تک میں اپنے دل پر جبر کرکے اس کی باتیں سنتا رہا پھر بے اختیار میں نے اسے اپنی بانہوںمیں سمیٹ لیا اور اس کے وجود سے اپنے تشنہ جذبوں کو سیراب کرنے لگا۔ رات تک ہماری زندگی معمول پر آچکی تھی اور زندگی کی گاڑی اسی ڈگر پر دوڑنے لگی تھی۔

رات کو کھانا کھا کر میں کچھ دیر اپنے کمرے میں پڑا اخبار دیکھتا رہا۔ اچانک میری نظر گھڑی پر پڑی۔ میں اچھل کر کھڑا ہوگیا۔ میں نے کوٹ پہنا اور مفلر گلے میں ڈال کر باہر کی طرف لپکا۔ اسی وقت پیچھے سے فرحت نے چڑ چڑے لہجے میں کہا ” میرے آتے ہی تم کہاں جارہے ہو؟“

میں نے پلٹ کر سرد نگاہوں سے اسے دیکھا اور دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے کہا ” ذرا حامد کی طرف جارہا ہوں۔ وہاں دوستوں کے ساتھ تاش کی ایک دو بازی لگاﺅں گا۔“

Facebook Comments