سندھ :40ہزار گھوسٹ اساتذہ، کام کیے بغیر تنخواہ ومراعات لے رہے ہیں

حمنہ گل۔ فیصل آباد

ایسے اساتذہ کی تنخواہیں ایک ارب چالیس کروڑ روپے بنتی ہیں

گھوسٹ اسکولوں کی تعداد 2 ہزار سے زائد ہے

سابق وزیر تعلیم سندھ نے کہا تھا کہ 6 ہزار گھوسٹ اسکولوں میں سے

2 ہزار میں تدریسی عمل شروع ہوچکا ہے

 

اساتذہ کاپیشہ بہت معزز اور قابل فخر ہے جس کے تین بنیادی عناصر ہیں، فکر و تدبر کا سلیقہ سکھانا ، اچھے اعمال اور اخلاق کی تعلیم دینا۔ تعلیم دینا نہایت اہم فریضہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم فریضہ بچوں اور نوجوانوں کو فکر کرنے کا سلیقہ سکھانا ہے۔ سطحی فکر اور غیر معیاری تعلیم سے ملک نہ صرف سیاسی، معاشی، انتظامی بلکہ معاشرتی، اخلاقی اورتعلیمی لحاظ سے پسماندگی کا شکار ہوجاتا ہے۔

آج ہم ایسی ہی معاشرتی انحطاط کی صورت حال سے دوچار ہیں جس کی بنیادی وجہ تعلیم سے عدم توجہی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے حکام بالا کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ جہاں ایک جانب تعلیم سے محروم پاکستان کے لاکھوں بچے اسکول نہیں جاتے وہیں بے شمار ایسے اساتذہ بھی ہیں جو اسکول جا کر پڑھاتے تو بالکل نہیں مگر ماہانہ تنخواہ باقاعدگی سے حاصل کرتے ہیں۔یہی اساتذہ تعلیم جیسے مسئلے کو مزید مشکلات سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ صوبہ سندھ میں گھوسٹ اسکولز اور ایسے اساتذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے جو صرف کاغذ پر موجود ہیں اور جن کا اصل میں کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ اسکولز اور اساتذہ صوبے کے وسائل پرنہ صرف بوجھ ہیں بلکہ ملک میں غربت کا سبب بھی ہیں۔صوبہ سندھ میں ایسے اساتذہ کی تعداد 40 ہزار کے لگ بھگ ہے جو نوکری کے نام پر تنخواہیں تو باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں مگرا سکول جا کر پڑھانے کی ذمے داری ادا نہیں کرتے۔

وزارت تعلیم کے عہدیداروں نے ملک میں دو ہزار ایسے ”گھوسٹ“ یعنی فرضی سرکاری اسکولوں کی نشاندہی کی ہے جن کا وجود محض کاغذات کی حد تک ہے۔ صوبہ سندھ میں 5229 گھوسٹ اسکول بتائے جاتے ہیں۔ سندھ کے سابق وزیر تعلیم نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 6 ہزار گھوسٹ اسکولوں میں سے 2 ہزار میں تدریسی عمل شروع ہوچکا ہے۔وفاقی وزارت تعلیم و تربیت نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ملک میں دو ہزارسے زائد ”گھوسٹ“ اسکول ہیں، حکومت نے آٹھ ارب روپے کی لاگت سے قومی تعلیم فاو ¿نڈیشن کے تحت بنیادی تعلیم کے20 ہزار کمیونٹی اسکول بنانے کے خصوصی منصوبے پرکام شروع کیا لیکن بعض وجوہ کی بنا پر اس منصوبے پر کام روک دیا گیا ۔ اس حوالے سے وزارت تعلیم کو بتایا گیا کہ 15 ہزاراسکول قائم کیے جا چکے ہیں جن کی تحقیقات کی گئیں تو معلوم ہوا کہ ان میں سے دو ہزار ”گھوسٹ“ اسکول ہیں۔ قومی تعلیم فاو ¿نڈیشن کے تحت بنیادی تعلیم کے کمیونٹی اسکولزپراجیکٹ میں ڈائریکٹرز کے عہدوں پر فائز چار افسران کے خلاف مالی خورد برد کے الزامات کی تحقیقات کی گئیں اوروفاقی وزارت تعلیم نے ”گھوسٹ“ اسکولوں کے بارے میں درج مقدمات مزید تحقیقات کے لیے قومی احتساب بیورو اور ایف آئی اے کو بھیج دیے۔

 گھوسٹ اساتذہ کی تعداد اندرون سندھ میں زیادہ ہے ۔ایسے اساتذہ کا معاملہ اسکولوں کی حدتک محدودہے، کالجزکی سطح پرایسا کم ہوتا ہے تاہم ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ سندھ میں کم ازکم ایک کالج ایساموجود ہے جو صرف کاغذوں کی حدتک ہی محدود ہے جہاں ہرمہینے بجلی کے بل ‘گیس کے بل ‘اساتذہ کی تنخواہ ‘پرنسپل کی تنخواہ ‘مالی کی تنخواہ اور دیگر اخراجات وصول کیے جارہے ہیں ۔ ایسی بات جان کر افسوس ہوتا ہے کہ جو زمین پر موجود ہیں ان کی خبرنہیں لی جاتی لیکن جوصرف کاغذوں میں ہیں ان کو تمام مراعات حاصل ہیں ۔

یہ معاملہ نیا نہیں بلکہ سالہاسال پرانا ہے۔ یہ سندھ کے وڈیرہ شاہی کا روایتی روپ ہے جہاں با اثر افراد تعلیمی اداروں میں بھرتی ہوکر فرائض کی انجام دہی کے بجائے صرف تنخواہیں لیتے آرہے ہیں جس پر حکومت سندھ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں ایسے ہزاروں اساتذہ کی تنخواہیں ایک ارب چالیس کروڑ روپے کے لگ بھگ بنتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سندھ میں ایسے گھوسٹ اسکولز اور اپنے فرائض ادا کیے بغیر تنخواہ وصول کرنے والے اساتذہ کی وجہ سے سندھ کے تعلیمی ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کے لیے بجٹ میں بمشکل دو فیصد فنڈز مختص کیے جاتے ہیںجب کہ ان محدود مالی وسائل میں سے بھی بڑا حصہ بدانتظامی اور بدعنوانی کی نذر ہوجاتا ہے جو ملک میں سرکاری نظام تعلیم کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ کے تعلیمی نظام میں رشوت کا چلن بہت عام ہے۔ لوگ رشوت دے کر ٹیچنگ کی نوکری حاصل کر لیتے ہیںجب کہ بعد میں ان سے پوچھ گچھ کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں حکومت کو کارروائی کرنا بہت ضروری ہے۔

٭٭٭

Facebook Comments