عظمت علی خاں، سائنس کے عوامی ابلاغ کی تحریک کے بانی

کتاب اور صاحب کتاب

بزم سائنسی ادب  کا قیام عظمت علی خان کا سب سے اہم کارنامہ ہے

جس کی بنیاد انہوں نے 4جون 1992ءکو رکھی تھی

”ادب اور سائنس میں حِسِ حُسن، قدرِمشترک ہے“ ، ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی

امتزاج

حمیرا اطہر

عظمت علی خان (7جون 1931ءتا 21اکتوبر 2012ئ) اردو میں سائنسی معلومات کے فروغ کے لیے کام کرنے کی بِنا پر بلاشبہ پاکستان میں سائنس کے عوامی ابلاغ کی تحریک کے بانی کہلانے کے مستحق ہیں۔ وہ رام پور میں پیدا ہوئے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیمیا، ارضیات اور جغرافیہ کے مضامین میں گریجویشن کرنے کے بعد 1954 میں کراچی آئے۔ یہاں اردو کالج میں تدریسی فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ کیمیا میں جامعہ کراچی سے ماسٹرز کی تعلیم مکمل کی۔ تب انہیں پاکستان کے ممتاز اردو سائنسی اصطلاحات ساز اور سائنسی مضمون نگار میجر آفتاب حَسن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور انہوں نے سائنٹیفک سوسائٹی آف پاکستان کے جریدے ”جدید سائنس“ کے لیے بھی لکھنا شروع کردیا جو میجر آفتاب حسن کی صدارت میں شائع ہوتا تھا۔

”بزم سائنسی ادب“ کا قیام عظمت علی خان کا سب سے اہم کارنامہ ہے جس کی بنیاد انہوں نے 4جون 1992ءکو رکھی تھی۔ ہر ماہ کے آخری سنیچر (ہفتے) کو اس کی باقاعدگی سے نشست منعقد کراتے تھے۔ اسی ”بزم سائنسی ادب“ کے زیراہتمام انہوں نے ایک اور کارنامہ یہ سرانجام دیا کہ ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کے حوالے سے ایک یادگار مجلّہ شائع کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ ”امتزاج “ اسی مجلّے کا نام ہے۔ اگرچہ یہ مجلّہ وہ اپنی زندگی میں شائع نہ کر سکے کیوںکہ خوب سے خوب تر بلکہ ہر زاویے سے مکمل ومستند کرنے کی جستجو نے انہیں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک مسودوں کی چھان پھٹک میں مشغول رکھا۔ تاہم، بزم سائنسی ادب کے اراکین نے ان کے بعد اسے شائع کرا دیا کہ سارا کام تو خود عظمت علی خان مکمل کر گئے تھے۔

ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کا کہنا تھا کہ ”ادب اور سائنس میں حِسِ حُسن، قدرِمشترک ہے۔“ اور یہ حسِ حُسن، کتاب کے سرورق سے لے کر ایک ایک مضمون میں نمایاں ہے۔ سب سے پہلے ملک کے مایہ ناز سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے تاثرات شامل ہیں جس میں وہ لکھتے ہیں:

پروفیسر سلیم الزّماں صدیقی ایک مکمل سائنس دان تھے۔ لاتعداد مقالوں اور کتب کے مصنف ہونے کے علاوہ کئی ایجادوں کے موجد تھے، شاعر تھے اور بہت اچھے مصور بھی۔ یہ تمام خصوصیات پرانے زمانے کے تمام اعلیٰ سائنس دانوں میں ہوا کرتی تھیں۔“

دراصل عظمت علی خان کو پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی سے بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔ وہ ان کی کثیرالجہات شخصیت پر ”بزم سائنسی ادب“ کی طرف سے ایک ایسی کتاب مرتب اور شائع کرنا چاہتے تھے جس میں ان تمام پہلوﺅں کا جائزہ لیا جائے جو ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی شخصیت میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے مگر بہت کم لوگ ان سے واقف تھے اور یہ بھی کہ اس میں ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی ایک عالمی شہرت کے حامل کیمیاداں کی پوری تفصیل تو ہو ہی مگر ان کے خاندانی حالات، ان کی مصوری، ان کی رنگوں کی شناخت کی صلاحیت، جرمنی کے شعرا ¿، بطور خاص رینے ماریا رِلکے کے مترجم، میر تقی میر کے چھ دواوین میں سے اشعار منتخب کرنے والے اور سماجی طور پر اہم افراد سے ان کے تعلقات پر روشنی پڑسکے۔

”پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی“ کے عنوان سے ان کے بارے میں لکھے جانے والے اپنے مضمون کے آغاز میں عظمت علی خان لکھتے ہیں:

” اس کرہ ¿ ارض پر حیات کی مثال دھوئیںکے چھوٹے سے مرغولے جیسی ہے؛ یہ مرغولہ بنتا ہے اور ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ تاہم، معاشرے پر اس لمحاتی زندگی کے اثرات دیر تک باقی رہتے ہیں۔ اسی طرح سے جو افراد انسانی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتے ہیں، ان کی یادیں ذہنوں میں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔ ہمارے خطے کی ایک ایسی ہی عظیم ہستی پاکستان کے بابائے سائنس پر وفیسر ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی تھی جن کی تاریخِ حیات پاک وہند میں عظیم کارنامو ں اور کام یابیوں سے پُر ہے۔“

ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی ایک بہت ہی نفیس، شریف النفس، قابل اور دُھن کے پکے انسان تھے۔ وہ ایک نام ور، فعال سائنس داں، فلسفی اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کی بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ بالخصوص فنِ موسیقی اور شاعری کے حوالے سے۔ تاہم، ان کی سائنسی کام یابیوں کی خاص صفت یہ رہی ہے کہ ان سے سائنسی علم، معلومات اور معاشرے کو بہت فوائد پہنچے ہیں اور پہنچتے رہیں گے۔

”امتزاج“ کو اپنے مندرجات کے اعتبار سے آٹھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا حصہ ”تعارف“ پر مبنی ہے جس میں عظمت علی خان سمیت ڈاکٹر فرمان فتح پوری، پروفیسر ڈاکٹر منظور احمد، پروفیسر ڈاکٹر عطاءالرحمن اور پروفیسر ڈاکٹر قاضی عبدالقادر نے اپنے اپنے انداز میں ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی زندگی کے مختلف گوشوں کا تعارف کر ایا ہے۔

دوسرا حصہ ”شخصیت“ پر مبنی ہے جس میں خود ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کے لکھے ہوئے تین مضامین ”خود نوشت، آپ بیتی اور پروفیسرفان براﺅن میرے مشفق استاد“ شامل ہیں۔

تیسرے حصے ”مصوری“ میں فنِ مصوری کے حوالے سے ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کے نو (9) مضامین شامل ہیں ۔

چوتھے حصے کا عنوان بھی ”امتزاج“ ہے جس میں دو مضامین، ”شخصیت کی تعمیر میں کلاسکی علوم وفنون کی اہمیت“ اور ”فنونِ لطیفہ اور سائنس، ایک متوازن معاشرے میں“ شامل ہیں۔

پانچواں حصہ ”ادب“ پر مبنی ہے جس میں ”فیض صاحب کی یاد میں، رینے ماریا رِلکے اور انتخابِ کلام میر“ شامل ہیں۔ فیض کے حوالے سے اپنے مختصر مضمون کے آخر میں یہ انکشاف بھی کیا کہ ”اس زمانے (1940ءسے 1941ءتک) کی شامیں بارہا ان کے ساتھ گزرتی تھیں اور ان کے ”نقش فریادی“ سے دل کو دل سے ایسی کچھ راہیں ہوئیں کہ ان کی پہلی بچی کا نام میرے ہی نام پر پڑا۔“ واضح رہے کہ فیض کی پہلی بیٹی کا نام سلیمہ ہے جو سلیمہ ہاشمی کے نام سے مشہور ہیں۔

رینے ماریا رِلکے کے حوالے سے لکھتے ہیں:

” رلکے کا کلام قومی طرزِ ادا سے الگ اور بالاتر ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ رِلکے یورپ کا پہلا شاعر ہے جس نے تصوف کے راز کو سمجھا ہے۔ اور اس طرح پر نہیںکہ اس پر فارسی یا عام طور پر مشرقی شاعری کا اثر ہوا ہو، یا زمانہ ¿ متوسط کی شاعری میں جو کوششیں اکثر نصرانی شعرا ¿ نے تصوف کے میدان میں کی ہیں، ان کا اس پر کو ئی صریحی اثر پڑا ہو۔“

انتخاب کلام میر کے حوالے سے ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے ایک نوٹ جسے دیباچہ کہہ لیجئے، لکھا ہے۔ ”ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کو فارسی میں سعدی، حافظ اور عرفی سے خاص دل چسپی تھی اور ان کے سیکڑوں اشعار یاد تھے۔ اردو کے اساتذہ ¿ فن میں وہ سب ہی کے قائل تھے لیکن غالب اور میر کے رسیا تھے۔ ان کی تحریر وتقریر میں عموماً انہی کے اشعار برجستہ جگہ پاتے تھے۔

میر سے ان کے شغف کا اندازہ اس بات سے کیجئے کہ انہوں نے میر تقی میر کے چھ کے چھ دیوان بغور پڑھے تھے۔ پورے کلیات پر غائر نظر ڈالی ہے۔ پہلے لطف لینے کے لیے پڑھا تھا پھر پسندیدہ اشعار انتخاب کرلیے۔ یہ انتخاب میر کو سمجھنے سمجھانے کے سلسلے ہی میں کارآمد نہیں بلکہ اس انتخاب میں کلام میر کے سارے محاسن اس طرح سمٹ آئے ہیںکہ قاری کو ”کلیات میر“ سے بے نیاز کر دیتے ہیں۔

امتزاج کا چھٹا حصہ ”فلسفہ ¿ سائنس“ کا ہے جس میں چار مضامین شامل ہیں۔

ساتویں حصے”اطلاقی تحقیق“ میں چھ گراں قدر مضامین شامل ہیں جن کی تصدیق ان کے عنوانات سے کی جا سکتی ہے۔ ”راوّلفیا کی کہانی، حشرات کُش، دوا سازی کی صنعت کے لیے دیسی ادویاتی پودوں کے وسائل کا ارتقا، نامیاتی کیمیا کی نئی راہیں، طبعی وکیمیاوی اصطلاحات پر ایک تنقیدی نظر اور نامیاتی کیمیا پر ایک درسی کتاب کی تالیف کا آغاز۔“

آٹھویں اور آخری حصے میں ”ملاقاتی باتیں“ شامل ہیں۔ لفظ ”انٹرویوز“ کا یہ ترجمہ بھی عظمت علی خاں کی زباں دانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس میں پہلا مضمون بھی اسی عنوان سے ہے جو ڈاکٹر صاحب کی اپنی خودنوشت ہے۔ دوسرا مضمون ایک ریڈیائی گفتگو ہے جو کشور ناہید اور جون ایلیا نے ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی سے ریڈیو پاکستان کر اچی کے لیے جولائی 1986ءمیں کی۔ تیسرا اور آخری مضمون ”ایک صدی کا آدمی“ ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی وہ سرگزشت ہے جسے رقم کرنے کی سعادت میرے حصے میں آئی۔ ان کی عمر کے آخری حصے میں جب وہ 97برس کے ہو چکے تھے، مجھے یہ موقع ملا کہ ان سے وقتاً فوقتاً مل کر گفتگو کرتی رہی۔ مَیں ان کی سرگزشت ”ایک صدی کا آدمی“ کے عنوان سے لکھنا چاہتی تھی۔ وہ بھی کمال شفقت سے مجھے وقت دیتے تھے اور تفصیلی باتیں کیا کرتے تھے لیکن قدرت کو یہ منظور نہ تھا اور وہ صدی مکمل کرنے سے پہلے ہی گفتگو ادھوری چھوڑ کر دنیا سے منہ موڑ گئے۔ مَیں نے وہی اپنی یادداشتیں مرتب کر کے عظمت صاحب کو دے دیں جسے انہوں نے ”امتزاج“ کا حصہ بنالیا۔

 یہ بات تو یونہی برسبیل تذکرہ آگئی۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ ”امتزاج“ ایک اسم بامسمیٰ مجلّہ ہے جس میں ڈاکٹر سلیم الزّماں صدیقی کی زندگی، شخصیت اور کام کو بڑی جاں فشانی سے یک جا کیا گیا ہے۔ یقیناً یہ مجلّہ آئندہ ان کی شخصیت، کارناموں اور تحقیق کے مختلف پہلوﺅں پر کام کرنے والوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگا۔ 312صفحات پر مشتمل یہ مجلّہ آفسٹ کاغذ پر سلیقے سے شائع کیا گیا ہے جس کی قیمت چار سو روپے ہے۔ اسے ”بزم سائنسی ادب“ کراچی کے آفس سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments