خواتین کومختصر مدت میں روزگار فراہم کرنے والے ادارے

حکومت نے 1980 میں مختصر تربیت اور روزگار فراہمی کے ادارے قائم کیے
لاکھوں خواتین اب تک فائدہ اٹھا چکی ہیں

خواتین کی فنّی تعلیم کے ادارے مختصر مدت میں روزگار حاصل کرنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں

اسداللہ غنی

پاکستان کی تقریباً نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔ ہنر مند افرادی قوت کے بیرون ملک جانے سے صنعتی اداروں میں اسکلڈور ورکرز کی ضرورت کو بہت زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا، جس کے تناظر میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کے اداروں میں وسعت دی گئی اور بالخصوص خواتین کے فنّی ادارے قائم کیے گئے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے اسلام آباد میں ویمن ڈویژن نے خواتین کے لیے پولی ٹکنک انسٹی ٹیوٹ (لیاقت آباد) کریم آباد کراچی، لطیف آباد (حیدر آباد)، کورنگی کراچی اور سکھر میں گارمنٹس الیکٹرانکس، آرکیٹیکچر سیکریٹریل اور فوڈ ٹیکنالوجی میں تین سالہ ڈپلوما آف ایسوسی ایٹ انجینئر پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کئی ادارے قائم کیے گئے جس کے نتیجے میں مقامی گارمنٹ، ٹیکسٹائل انڈسٹری، تعمیراتی ادارے اور میڈیا کے مختلف شعبوں تدریسی اور انتظامی عہدوں تک ہزاروں خواتین کو روزگار مل گیا اور مقامی صنعت کو ہنر مند افرادی قوت میسر آگئی۔

تجارتی تعلیم کے حصول کے لیے دو سالہ ڈپلوما ان کامرس کا پروگرام جو انٹر کامرس کے مساوی ہے۔ گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ عزیز آباد اور ملیر میں لڑکیوں کو داخلے دیے جاتے ہیں۔ اس پروگرام میں داخلے کی اہلیت میٹرک پاس رکھی گئی ہے۔

صوبہ سندھ کے تقریباً پندرہ نجی اداروں میں ڈپلوما ان بزنس ایڈمنسٹریشن کا کورس مکمل کرایا جاتا ہے۔ یہ انٹر کامرس کے مساوی ہے۔ کراچی میں مصوری سکھانے کے چھ اداروں میں فائن آرٹ اور کمرشل آرٹ کے ساتھ ٹیکسٹائل ڈیزائننگ کے شعبوں میں دو سالہ سرٹیفکیٹ ان فائن آرٹ اور چار سالہ ڈپلوما ان فائن آرٹ کےپروگرام نہایت کام یابی سے چل رہے ہیں، جن میں خواتین کی کثیر تعداد داخلے حاصل کرتی ہے۔ آٹھویں جماعت پاس طالبات کے لیے گورنمنٹ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے خواتین عزیز آباد میں ٹیلرنگ و ڈریس میکنگ مشین و ہینڈ ایمبرائیڈری، ہینڈ و مشین نٹنگ اور ڈومیسٹک اپلائنسز ریپر کی ٹریڈز میں دو سالہ میٹرک ٹیکنیکل پروگرام کروایا جاتا ہے۔ ٹیلرنگ اور ڈریس میکنگ ٹریڈ میں خواتین کے لیے یہ پروگرام گورنمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میر پور خاص اور سکھر میں کروائے جاتے ہیں۔

مخلوط ذریعہ تعلیم کے تحت تقریباً بیس نجی اداروں میں لڑکیوں کو الیکٹریشن، الیکٹرونکس، کمپیوٹر سائنس، سول ڈرافٹنگ، میکینکل ڈرافٹنگ اور ریفریجریشن اور ایئر کنڈیشنگ ٹریڈز سکھائی جاتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالبات باآسانی پولی ٹیکنک اداروں میں داخلے حاصل کرسکتی ہیں۔

نہایت ہی مختصر مدت میں روزگار حاصل کرنے کے لیے 1980ءکے اوائل میں سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے چار ماہ کی مختصر مدت کا بیوٹیشن کورس متعارف کرایا جس میں ہیر ڈریسنگ و میک اپ کے کورس سے لاکھوں خواتین نے بھرپور فائدہ حاصل کیا، تقریباً سو سے زیادہ نجی اداروں نے اس ٹریڈ کے پروگرام کو چلایا ہے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت یعنی چار ماہ کے قلیل عرصے میں ہنر سیکھ کر روزگار حاصل کرنے کے لیے 1980ءمیں سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے ٹیلرنگ و ڈریس میکنگ کے کورس کا آغاز کیا جس میں خواتین کو جینٹس کورس اور لیڈیز کورس کی تعلیم دی جاتی ہے، نیز چار ماہ کی مختصر مدت کے دیگر کورسز میں کڑھائی سلائی ہاتھ اور مشین سے بنائی، مشین ایمبرائیڈری، ہینڈ ایمبرائیڈری، مکرامے، فلاور میکنگ، گلاس و فیبرک، نٹنگ میں تعلیم دی جاتی ہے۔ نجی اداروں کے علاوہ محکمہ بیت المال کے اداروں میں یہ کورسز سکھائے جاتے ہیں۔ گھریلو خواتین اور نسبتاً کم تعلیم یافتہ بچیوں کے لیے ایک اور پروگرام نے نہایت مقبولیت حاصل کی۔ 1970ءکی دہائی میں حکومت سندھ کے محکمہ ¿ تعلیم نے پورے سندھ میں ایک سالہ سرٹیفکیٹ ان ووکیشنل گرلز اور دو سالہ ڈپلوما ان ووکیشنل گرلز پروگرام چلانے کے لیے عزیز آباد، کھڈہ مارکیٹ، پی ای سی ایچ سوسائٹی، لانڈھی، اورنگی ٹاﺅن، ماری پور، نیو کراچی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، لائنز ایریا اور درسنہ چھنہ کراچی کے علاوہ ٹھٹھہ، لطیف آباد حیدر آباد، کوٹری، میر پور خاص، ڈیپلو، ڈگری، سانگھڑ، ماتلی، بدین، ٹنڈو محمدن، مورو، نواب شاہ، دادو، میہڑ، سہون شریف، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ، جیکب آباد، سکھر، روہڑی، خیر پور، گمبٹ، عمر کوٹ، خیر پورناتھن شاہ، سجاول، جوہی، رتو ڈیرہ کندھ کوٹ، شکار پور، گڑھی یاسین اور نوڈیرو میں ان کورسز میں خواتین کو ٹیلرنگ و ڈریس میکنگ، ہینڈ و مشین ایمبرائیڈری، ہینڈ و مشین نٹنگ سکھائی جاتی ہیں۔

سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے تقریباً بیس اداروں میں یہی پروگرام کام یابی سے چلائے جارہے ہیں۔ شہر اور دیہاتوں کی خواتین ان ٹریڈز میں مہارت حاصل کرکے با آسانی اپنا روزگار حاصل کرلیتی ہیں۔ حکومت سندھ کے محکمے مین پاور ٹریننگ کے تحت لڑکیوں کے لیے کراچی میں بفرزون، نارتھ کراچی اور کورنگی میں ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ اندرون سندھ قاسم آباد (حیدر آباد) میں لڑکیوں کی فنّی تربیت کا ادارہ قائم کیا گیا۔ ان اداروں میں لڑکیوں کے لیے ایک سالو ڈپلوما انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چھ ماہ کی مدت کا سرٹیفکیٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ بیوٹیشن، ڈریس ڈیزائننگ، آرٹ و کرافٹ، کوکنگ، بیکنگ اور سیکرمیٹریل سے متعلق مختصر مدت کے کورسز کرواتے جاتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی وزارت پیداوار نے لڑکیوں کے لیے ایک سالہ ڈپلوما انفارمیشن اور مختصر مدت کے کمپیوٹر کورسز کے لیے پیرومین ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ناظم آباد کراچی میں قائم کیا۔ مخلوط طرزِ تعلیم کے تحت سو سے زیادہ کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ نجی شعبے میں پورے صوبہ سندھ میں کمپیوٹر ایجوکیشن دے رہے ہیں، نیز ایکسپورٹ پروموشن بیورو نے ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کرکے مختلف صنعتوں کی ایسوسی ایشن کے تعاون سے تربیتی ادارے قائم کیے جو کہ چمڑے کی مصنوعات، فیشن ڈیزائن، ہوزری گارمنٹس، کارپیٹ، مینو فیکچرنگ، جیم و جیولری، پنکھا سازی، ریڈی میڈ گارمنٹس، سرجیکل آلات کی تیاری، کھیلوں کے سامان کی تیاری، کٹلری میکنگ اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات میں سنتھٹک فائبر، ٹاول مینو فیکچرنگ (تولیہ سازی) بیڈ ویر (بستر کی چادریں) اور گھریلو ہینڈ لومز سے وابستہ مختلف ہنر جدید ترین مشینوں پر سکھائے جاتے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹور ازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کلفٹن کراچی میں فوڈ، بیوریج، ٹریول ایجنسی اور ہوٹل مینجمنٹ کی ٹریڈز میں ایک ہفتے سے لے کر ایک سال کی مدت کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔ میڈیا اور ایڈور ٹائزنگ سے متعلق کمپیوٹرائزڈ کورسز سیکھنے کے لیے خواتین با آسانی پاکستان ایڈور ٹائزنگ انسٹی ٹیوٹ گلشن اقبال سے استفادہ کرسکتی ہیں۔ میڈیکل کے شعبوں میں خواتین حکمت کے کورسز اور ہومیو پیتھی میں ڈپلوما کے علاوہ نرسنگ اور پیرا میڈیکل کورسز میں تربیت حاصل کرکے باآسانی اندرون اور بیرون ملک روزگار حاصل کرسکتی ہیں۔ ان فنّی اداروں کے قیام میں وویمن ڈویژن اسلام آباد ایکسپورٹ پروموشن بیورو، صنعتی اداروں کی ایسوسی ایشن، پاکستان کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ ایسوسی ایشن، آرسی ویلفیئر ٹرسٹ، پی آئی اے انڈسٹریل ہوم، پاکستان نیوی وویمن ویلفیئر ایسوسی ایشن، پاکستان ایئر فورس ویمن ویلفیئر ایسوسی ایشن، فرسٹ وویمن بنگ، سنگر ایجوکیشن سینٹر، انجمن مفاد نسواں، کراچی پورسٹ فرسٹ انڈسٹریل ہوم اور نجی فنی اداروں کی انجمنوں نے بھرپور حصہ لیا۔ سرکاری سطح پر محکمہ ¿ تعلیم کے ڈائریکٹریٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، مین پاور ٹریننگ سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ اور پاکستان بیت المال قابل ذکر ہیں بیش تر اداروں کی فیس نہایت معمولی ہے بعض رفاحی ادارے مفت تعلیم کا بندوبست کرتے ہیں، لہٰذا ان مواقعوں سے فائدہ اٹھا کر نہایت ہی قلیل مدت میں بیروزگاری سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، بعض کورسز میں نمایاں کام یابی حاصل کرکے انجینئرنگ اور اعلیٰ تجارتی یونی ورسٹیوں میں داخلے حاصل کیے جاسکتے ہیں، نیز صنعتی اداروں میں خواتین تربیت یافتہ ہنر مند ورکر کے علاوہ سپر وائزر، منیجر اور ڈائریکٹر کے اعلیٰ ترین عہدے حاصل کرسکتی ہیں۔

Facebook Comments