پاکستانی تہذیب کی پہچان

تحریر: سبط حسن

 جب سے پاکستان ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے وجود میں آیا ہے ہمارے دانش ور پاکستانی تہذیب اور اس کے اجزا ئے ترکیبی کی تشخیص مصروف ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا پاکستانی تہذیب نام کی کوئی شے ہے بھی یا ہم فقط اپنی خواہشات ہی پر حقیقت کا گمان کیے بیٹھے ہیں، پاکستانی تہذیب اگر ہے تو اس کو پہچانا کیسے جائے، اس کا تعین کیسے کیا جائے، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی تہذیب کا ظہور بھی اسی دن ہوا جس دن پاکستان وجود میںآیا۔ اس خطے کے باشندے 14 اگست 1947 سے پہلے بھی تہذیب سے آشنا تھے۔ سبط حسن نے زیرِ نظر مضمون میں پاکستانی تہذیب کا احوال اور خدوخال بیان کیے ہیں۔ ہم ان کے اس مضمون کا حصہ آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہےں اورقارئین کو ہم اس موضوع پر ا ´طہار خیال کی دعوت دیتے ہیں۔(ادارہ)

 

ہر قوم کی اپنی جدا گانہ تہذیبی شخصیت ہوتی ہے۔ اس شخصیت کے بعض پہلو دوسری تہذیبوں سے ملتے جلتے ہیں لیکن بعض ایسی انفرادی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو ایک قوم کی تہذیب کو دوسری تہذیبوں سے الگ اور ممتاز کردیتی ہیں ۔ہر قومی تہذیب اپنی ان ہی انفرادی خصوصیتوں سے پہچانی جاتی ہےں۔ جب سے پاکستان ایک آزاد حیثیت سے وجود میں آیا ہے ہمارے دانش ور پاکستانی تہذیب اور اس کے عناصر ترکیبی کی تشخیص میں مصروف ہےں۔وہ جاننا چاہتےہیں کہ آیا پاکستانی تہذیب نام کی کوئی شے ہے بھی یا ہم نے فقط اپنی خواہش پر حقیقت کا گمان کرلیا ہے۔ پاکستانی تہذیب کی تلاش اس مفروضے پر مبنی ہے کہ پاکستان ایک ریاست ہے اور چونکہ ہر قومی ریاست کی اپنی ایک علیحدہ تہذیب ہوتی ہے لہٰذا پاکستان کی بھی ایک قومی تہذیب ہے یا ہونی چاہےے۔لیکن پاکستانی تہذیب پر غور کرتے وقت ہمیں بعض امور ذہن میں رکھنے چاہئے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ ریاست فقط ایک جغرافیائی یا سیاسی حقیقت ہوتی ہے اور قوم اسی کے واسطے سے قومی تہذیب، ایک سماجی حقیقت ہوتی ہے چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ ریاست اور قوم کی سرحدیں ایک ہوں۔ مثلاً جرمن قوم (دیوار برلن گرنے سے قبل) دو آزاد ریاستوں مےں بٹی رہی ہے ۔یہی حال کوریا اور ویت کا نام ہے۔ مگر جب ہم جرمنی اور کوریا یا ویت نام کی قومی تہذیب سے بحث کریں گے تو ہمیں مشرقی اور مغربی جرمنی،جنوبی اور شمالی کوریااور جنوبی اور شمالی ویت نام کو ایک تہذیبی یا قومی وحدت ماننا پڑے گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ریاست کے حدود اربع گھٹتے بڑھتے رہتے ہےں ۔مثلاً پاکستان کی سرحدیں آج وہ نہیں ہیں جو14اگست1947 کو تھیں مگر قوموں اور قومی تہذیبوں کی حدود بہت مشکل سے بدلتی ہےں ۔تیسری بات یہ کہ بعض ریاستوںمیں ایک ہی قوم آباد ہوتی ہے جیسے جاپان میں جاپانی قوم، اٹلیمیں اطالوی قوم اور فرانس میں فرانسیسی قوم۔ ایسی ریاستوں کو قومی ریاست کہا جاتا ہے لیکن بعض ریاستوں میں ایک سے زیادہ قومیں آباد ہیں۔ جیسے کینیڈا میں برطانوی اور فرانسیسی قومیں۔ چیکو سلواکیہ میں چیک اور سلاف، عراق میں عرب اورکرد۔ جن ملکو ں میںایک قوم آ با دہوتی ہے وہا ں ریا ستی تہذ یب اور قو می تہذیب ایک ہی حقیقت کے دو نا م ہو تے ہیںلیکن جن ملکوں میں ایک سے زیادہ قومیں آباد ہو ں وہا ں ریاستی تہذیب کی تشکیل و تعمیرکا انحصار مختلف قوموں کے طرزِ عمل، طرزِفکر اور طر زِاحساس کے ربط و آہنگ پر ہوتا ہے۔اگر اتفاق اور رفاقت کی قوتو ں کو فروغ ہو تو رفتہ رفتہ ایک بین القومی تہذیب تشکیل پا تی ہے اور اگر با ہمی نفاق اور عداوت کا زور بڑھے، اگر مختلف قومیں صنعت و حرفت میں، زراعت وتجارتمیں، علو م وفنون میں ایک دوسرے پر غلبہ پا نے یا ایک دوسرے کا استحصا ل کرنے کی کو شش کر یں یا ایک دوسرے سے نفرت کریں، اگر ملک میں باہمی اعتماد کے بجا ئے شک و شبہ اور بدگمانی کی فضا پیدا ہو جا ئے تو مختلف تہذ یبی اکائیوں کی سطح اونچی نہیں ہو سکتی اور نہ ان کے ملاپ سے کوئی  ریاستی تہذیب ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔ کسی معاشر ے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدارکے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور طرز فکر و احسا س کا جوہر ہوتی ہے چنانچہ زبان،آلات و اوزار، پےداوار کےطریقے اور سماجی رشتے، رہن سہن، فنون لطیفہ، علم وادب، فلسفہ و حکمت، عقائد وافسوں، اخلاق و عادات، رسوم وروایت،عشق ومحبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات ووغیرہ تہذیب کے مختلف مظاہر ہیں۔

انگریزی میں تہذیب کے لیے ”کلچر“ کی اصطلا ح استعمال ہو تی ہے۔کلچر لاطینی زبان کالفط ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں ”زراعت ،شہد کی مکھیوں ریشم کے کیڑوں ، سیپیوں یا بیکٹریا کی  پرورش یاافزائش کرنا، جسمانی یا ذہنی اصلا ح وتر قی ،کھےتی باڑی کرنا۔ “ اُردو، فارسی اور عربی میں کلچر کے لیے تہذےب کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔
تہذیب عربی زبان کالفظ ہے۔اس کے لغوی معنی ہیں کسی درخت یا پودے کو کاٹنا چھانٹنا، تر اشنا تاکہ اس میںنئی شاخیں نکلیں اور نئی کونپلیں پھوٹیں۔ فارسی میں تہذیب کے معنی”آراستن پیراستن، پاک ودرست کردن واصلاح نموون “ ہیں ۔اردومیں تہذیب
کا لفظ عام طور سے شائستگی کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ مثلاًجب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص بڑا مہذب ہے تو اس سے ہماری مراد ےہ ہوتی ہے کہ شخص مذکورکے ببات چیت  کرنے، اُٹھنے  بیٹھنے اور کھانے پینے کا انداز روایتی معیار کے مطابق ہے۔ وہ ہمارے آداب مجلس کو بڑی خوبی سے برتتاہے اور شعر و شاعر ی یا فنون لطیفہ کا سُتھرا ذوق رکھتاہے۔
تہذیب کایہ مفہوم دراصل ایران اورہندوستان کے امرا وعمائدین کے طرزِ زندگی کا پرتو ہے۔لوگ تہذیب کے تخلیقی عمل میں خود شریک نہ ہوتے تھے اور نہ تخلیقی عمل اور تہذیب میں جو رشتہ ہے اس کی ایمیت کو محسو س کرتے تھے۔ وہ تہذیب کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا توجانتے تھےلیکن فقط تماشائی بن کر، اداکار کی حیثیت سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہذیب کا تخلیقی کردار ان کی نظروں سے اوجھل رہا اور وہ آداب مجلس کی پابندی ہی کو تہذیب سمجھنے لگے۔ وہ جب ”تہذیب“ یاتہذیب اخلاق“ کا ذکرکرتے تھے تو اس سے ان کی مراد نفس یا اخلاق کی طہارت یا اصلاح ہوتی تھی۔

 سرسید احمد خان ہمارے پہلے دانش ور ہیں جنھوںنے تہذیب کا جدید مفہوم پیش کیا۔ انھوں نے تہذیب کی جامع تعریف کی اورتہذیب کے عناصر و عوامل کا بھی جائزلیا۔چنا نچہ اپنے رسالے ”تہذیب الاخلاق“کے اغراض ومقاصد بیان کرتے ہوئے سرسید پرچے کی پہلی اشاعت (1870ئ)میں لکھتے ہیں”اس پرچے کے اجرا سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجے کی سولائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جاوے تاکہ جس حقارت سے (سولائزڈ) مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں وہ رفع ہووے اور وہ بھی دنیا میں معزز ومہذب قومیں کہلاویں۔ سولائزیشن انگریزی کا لفظ ہے جس کا تہذیب ہم نے ترجمہ کیا ہے مگر اس کے معنی نہایت وسیع ہیں۔ اس سے مراد ہے انسان کے تما م افعال ارادی،اخلاق و معلاملات، معاشرت و تمدن و طریقہ تمدن، صرف اوقات وعلوم اورہر قسم کے فنون وہنر کواعلیٰ درجے کی عمدگی پر پہنچانا اور ان کو نہایت خوبی وخوش اسلوبی سے برتنا جس سے اصل خوشی اور جسمانی خوبی ہوتی ہے اور تمکین، وقار اور قدرو منزلت حاصل کی جاتی ہے اور وحشیانہ پن اور انسانیت میں تمیز نظر آتی ہے۔ (منقول ازد بستانِ تاریخ اردو مصنفہ حامد حسن صفحہ344 کراچی 1966)سرسید نے کلچراور سولائزیشن کو خلط ملط کردیا ہے لیکن اس میں ان کا قصور  نہیں ہے بلکہ بیشتر دانایانِ مغرب کے ذہنوں میں اس وقت تک کلچر اور سولائزیشن کا فرق واضح نہیں ہوا تھا۔سرسید نے تہذیب الاخلاق ہی میں اس پر دو مفصل مضمون بھی لکھے تھے۔ پہلے مضمون کا عنوان ”تہذیب اور اس کی تعریف“ اور دوسرے کا ”سولائزیشن یعنی شائستگی اور تہذیب“ تھا۔ یہ مضامین جیسا کہ خود سرسید احمد خان نے اعتراف کیاکہ ٹامس بکل (1821ئ۔1862ئ) کی کتاب سے ماخوذ ہےں۔ ٹامس بکل برطانیہ کا مشہور مورخ تھا۔ وہ تہذیب عالم کی مفصل تاریخ کئی جلدوں میں لکھنا چاہتا تھالیکن ابھی فقط دو جلدیں شائع ہوئی تھیں کہ (1861ئ) میں بکل کا انتقال ہو گیا۔ بکل نے انسانی تہذیب کی تاریخ سا ئنسی معلومات کی روشنی میں لکھنے کی کوشش کی تھی اور استقرائی اصولوںکی بنیاد پرانسانی تاریخ کے کچھ ”قوانین“بھی وضع کئے تھے مثلاًموسم کا قانون۔ اور یہ ثابت کیا تھاکہ انسانی تہذیب پرطبعی ماحول اور موسم کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ پھر اس قانون سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ تہذیب فقط یورپ میں ترقی کر سکتی ہے کیوںکہ یورپ کا مو سم بہت خوشگوار ہوتا ہے۔ بکل کے ”نظریات“گو تاریخی حقائق کے سرتا سرخلاف تھے (وادی سندھ، وادی نیل اوروادی دجلہ وفرات کی قدیم تہذیبوں کا طبعی ما حول یورپ سے مختلف تھا۔ پھربھی ان تہذیبوںکی عظمت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا) اس کے باوجود اہل فرنگ نے بکل کے خیالات کا بڑی گرم جوشی سے خیر مقدم کیا تھا کیونکہ اس نے سفید فام قوموںکے غلبے اور ایشیائی قوموں کی غلامی کو قانون قدرت کی شکل دی تھی اور اس طرح برطا نیہ کے سامراجی مفادات کے لیے ایک نظریاتی جواز پیش کیا تھا۔ ہیگل، مارکس اور دوسرے مغربی مفکرین انسانی تہذیب کے ارتقا کے قانون کو بکل سے بہت پہلے دریافت کر چکے تھے۔ سرسید کا یہ کارنامہ کوئی کم نہیں کہ انہوں نے ہمیں تہذیب کے جدید مفہوم سے آشنا کیا۔تہذیب کی تشریح کرتے ہوئے سرسید لکھتے ہیں ”جب ایک گروہ انسانوں کا کسی جگہ اکھٹا ہوکر بستا ہے تو اکثر ان کی ضرورتیں اور حاجتیں، ان کی غذائیں، ان کی پوشاکیں،ان کی معلومات، ان کے خیالات،ان کی مسرت کی باتیں اور ان کی نفرت کی چیزیں سب یکساں ہوتی ہیں، اسی لیے برائی اور اچھائی کے خیالات بھی یکساں ہوتے ہیں اور برائی کو اچھائی سے تبدیل کرنے کی خواہش سب میں ایک سی ہوتی ہے اور یہی مجموعی خواہش تبادلہ یا مجموعی خواہش سے وہ تبادلہ اس قوم یا گروہ کی سولائزیشن ہے۔“ (مقالات سرسید جلد6 صفحہ3 لاہور 1962ئ) سرسید نے انسان اور انسانی تہذیب کے بارے میں اب سے سو سال پیشتر ایسی معقول باتیں کہی تھیں جو آج بھی سچی ہیں اور جن پر غور کرنے سے تہذیب کی اصل حقیقت کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے مثلاََ سرسید کہتے تھے ”انسان کے افعال اور نیچر کے قاعدوں میں نسبت قریبی ہے۔“ یعنی انسانی معاشرے اور نیچر کی حرکت کے قانون یکساں ہیں۔ دوسرے یہ کہ ” انسان کے افعال اور ان کے باہمی معاشرت کے کام کسی قانون معین کے تابع ہیں۔ اتفاقیہ نہے ہیں۔“تیسرے یہ کہ انسان کے افعال ان کی خواہش کے نتیجے نہیںہیں بلکہ حالات ماسبق کے نتیجے ہیں۔“ چوتھے یہ کہ” کوئی انسانی معاشرہ تہذیب سے خالی نہیں ہے۔“ اور پانچویں یہ کہ ”انسان نیچر کو تبدیل کرتاہے اورنیچر انسان کو تبدیل کرتی ہے اور اس آپس کے ان تبدیلات سے سب واقعات پیدا ہوتے ہےں؛“ سر سید ہمارے پہلے مفکر ہیں جنھوں نے موجودات ِ عالم اور انسانی معاشرے کے اندر جو تغیرات ہوتے رہتے ہیں ان کی تشریح خود معاشرے اور موجودات کے قوانین حرکت سے کی۔ کسی ماورائی قوت کے ارادے کو

اس میں شامل نہیں کیا۔ (جاری   

Facebook Comments