سعودی عرب میں خواتین کے گاڑی چلانے کی آزادی کا آغاز ہوگیا

 شہزادی ریم بنت االولید بن طلال سب سے پہلی خاتون ہیں جو 12بج کرایک منٹ پر ریاض کی سڑکوں پر گاڑی لے کر نکلیں

شہزادہ الولید بن طلال گاڑی میں بیٹھے ہیں، ان کی بیٹی ریم گاڑی چلا رہی ہیں۔ نواسیاں بھی ہمراہ ہیں

 شہزادہ ولید بن طلال نے گاڑی چلاتے ہوئے اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کی اور تصاویر و وڈیو میڈیا کو جاری کیں

زہرہ جبیں

سعودی عرب کے32سالہ ولی عہد محمد بن سلیمان جو کافی عرصے سے اپنے انقلابی خیالات اور اقدامات کے لیے عالمی سطح پر مشہور ہیں۔

وہ سعودی عرب میں معاشی، معاشرتی، سماجی اور سیاسی اصلاحات پرعمل پیرا ہیں اور سعودی عرب کو قدامت پسندی سے نکال کر ماڈریٹ سلطنت بنانے کے ویژن پر عمل پیرا ہیں۔

 نوجوان ولی عہد نے قدامت پسندی کی شکار سلطنت میں معاشی، سماجی اور مذہبی اصلاحات کے لیے اقدامات شروع کررکھے ہیں، ان کی جانب سے ثقافتی اور معاشی طور پر جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ خلیجی ریاست کی تاریخ میں کبھی دیکھنے میں نہیں آئیں۔

انہوں نے سلطنت میں عوام کے سینما جانے پر عائد پابندی کا خاتمہ کیا، یہاں تک سعودی عرب میں مخلوط جشن منانے کو بھی سراہا گیا جوآج سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔ گزشتہ سال کے آخر میں انہوں نے خواتین کے گاڑی چلانے پر عائد پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور ڈرائیونگ سکھانے کے ادارے قائم کرکے خواتین کو ڈرائیونگ سیکھنے کی سہولت فراہم کی تھی۔

23جون کو رات 12بجے خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی کی مدت ختم ہوگئی اور24جون کو صبح سویرے 12بجکر ایک منٹ سے خواتین کے گاڑی چلانے کی آزادی شروع ہوگئی۔ 

پہلے دن 24جون کو صبح سویرے 12بجکر ایک منٹ پر ریاض کی سڑک پر جو سب سے پہلی خاتون گاڑی لے کر نکلیں وہ شہزادی ریم بنت االولید بن طلال تھیں۔ انہوں نے وڈیو کلپ میں 12بجکر ایک منٹ کا وقت ریکارڈ کیا ہوا ہے۔ شہزادہ ولید نے گاڑی چلاتے ہوئے اپنی بیٹی کی وڈیو اور تصویر میڈیا کو جاری کی ہیں۔ شہزادہ ولید بن طلال نے ڈرائیونگ کے فیصلے پر عملدرآمد کے روز اپنی بیٹی ریم کے ہمراہ سفر کیا۔ الولید بن طلال نے ٹویٹر پر ایک وڈیو اور تصویر جاری کرکے ناظرین کو دکھایا کہ ان کی بیٹی ریم گاڑی چلا رہی ہیں۔ نواسیاں بھی ہمراہ تھیں۔ شہزادہ ولید بن طلال نے اپنی بیٹی کی بار بار حوصلہ افزائی کی۔

Facebook Comments