ن لیگ قیادت کو پارٹی رہنماﺅں پر اعتبار نہیں، اہلیت کے بجائے ذاتی وفاداری ترجیح

 تجزیہ: سلیم آذر

 نواز شریف کو یقین نہیں کہ کارکن و رہنما ان کے بیانیہ کی حمایت کرینگے اوروفا دار رہیں گے

کارکنوں و رہنماﺅں پر بے اعتباری کے باعث آنکھ بند کرکے حمایت کرنے اور” وفاداروں“ کے نا اہل ہونے پر ان کے بیٹوں ، باپ اور بیویوں کو ٹکٹ جاری کیے

 متعدد رہنما اور امیدوار اپنے اپنے حلقوں کے عوام کے دباﺅ پر پارٹی ٹکٹ واپس کرکے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑ رہے ہیں

 ”ٹکٹ کیا ریوڑی ہے جو وفاداروں میں بانٹتے رہو؟“ انور عزیز ، دانیال عزیز کے والد ن لیگ چھوڑ کر آزاد حیثیت میں مقابل آگئے

پاکستان مسلم لیگ (ن) کو انتخابات 2018کے لیے ”اہل“ ( وفادار) امیدوار نہیں مل رہے یا انہیں اپنے سیاسی رہنماﺅں کی وفاداری پر اعتبار نہیںکہ وہ ان کے بیانیہ کی حمایت کریں گے، ساتھ دیں گے اور وہ ہر حال میں ان کے وفا دار رہیں گے۔اسی لیے ن لیگ نے صرف ان امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ ذاتی وفا داری کا حلف اٹھایا ہے یا ان کے بیانیہ کی آنکھ بند کرکے حمایت کی ہے۔

 درج بالا بات کے دو ثبوت ہیں ۔ ایک یہ کہ عدالت سے نااہل ہونے والے رہنماﺅں کے باپ، بیٹوں، بیٹیوں اور بیویوں کو انتخابی ٹکٹ جاری کیے گئے ۔ کیونکہ دیگر رہنماﺅں اور کارکنوں پر اس طرح اعتبا ر نہیں تھا جیسا نااہلوں کی وفاداری پر تھا

دوسر ا یہ کہ انتخابات میں قربانی دینے والے سینئر رہنماﺅں اور کارکنوں کی خدمات کو نظر انداز کرکے خوشامد پسند اور ذاتی وفاداری کی خوبی کی بنیاد پر ٹکٹس جاری کیے گئے۔

اسی لیے نہ صرف زعیم قادری او ر چوہدری نثار جیسے سینئر رہنما پارٹی کی قیادت سے نالاں اور پارٹی سے الگ ہوگئے، اس کے علاوہ متعدد رہنما اور امیدوار اپنے اپنے حلقوں کے عوام کے دباﺅ پر پارٹی ٹکٹ واپس کرکے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔

 مسلم لیگ قیادت کو اسی بات کا خدشہ تھا جس کے باعث انہوں نے ٹکٹ کے اجرا کے لیے وفاداری کی شرط رکھی تھی۔

 سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی کرپشن اورمنی لانڈرنگ چھپانے کے لیے دو سال سے عدالت کے ان سوالوں کا جواب نہیں دے رہے کہ دولت کہاں سے آئی اورملک سے باہر کیسے گئی۔ جس کے باعث عدالت کو فیصلہ دینا پڑا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے، وہ تاحیات نااہل قرار دے دیے گئے۔

نااہلی کے اس فیصلے کے بعد نہ صرف نواز شریف بلکہ ن لیگ کے دیگر رہنما بھی عدلیہ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں ، وہ عدالت اور ججزکے خلاف تقریریں ، بیان بازی ، نازیبا الفاظ اور احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیںجس کا عدالت نے ازخود نوٹس لیا اور کئی رہنماﺅں کے خلاف لوگوں نے توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی

 اس ضمن میںعدالت تاحال نہال ہاشمی اور دانیال عزیز قصور سے شیخ وسیم اور ان کے دیگر تین ساتھیوں کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر انہیں سزا اور جرمانے کا حکم سنا چکی ہے۔

گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ آف پاکستان نے مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وفاقی وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دے کر عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی جس سے وہ پانچ سال کے لیے نااہل ہوگئے اور الیکشن 2018کے لیے اہل نہیں رہے جس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی جگہ اب والد الیکشن لڑیں گے۔

تاہم دانیال عزیز نے اپنی نااہلی کے فیصلے کے بعدن لیگ کا ٹکٹ والد کے بجائے اپنی بیگم مہناز اکبر کو تھمایا تو ابا ناراض ہوگئے۔ انہوں نے

پارٹی چھوڑ کر آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے کا اعلان کردیا۔ شوہر کی عدالت سے نااہلی کے بعد دانیال عزیز کی اہلیہ ن لیگ کے ٹکٹ پر این اے77ون ظفروال، شکرگڑھ سے انتخابیمیدان میں آگئیں۔

مہناز اکبر کو ٹکٹ ملا تو سسر اور بہو کا جھگڑا شروع ہوگیا، اس صورتحال کے بعد دانیال عزیز کو گھر میں ہی بڑی بغاوت کاسامنا کرنا پڑ گیا، ان کے والد انورعزیزنے بہو کو ٹکٹ دینے پر احتجاجاً پی پی48شکر گڑھ سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ نے کا اعلان کردیا اور کہا کہ ٹکٹ کیا ریوڑی ہے جو بانٹتے رہو؟ پی پی 48 پر دانیال عزیز کے والد انورعزیز لیگی امیدوار رانا منان کے مدمقابل ہیں

انہوں ادھر لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے قصور میں عدلیہ مخالف ریلی نکالنے والے ن لیگ کے سابق ن لیگی ایم این اے شیخ وسیم اختر، سابق چیئرمین بیت المال قصور ناصر خان، ن لیگ قصور کے سینئر نائب جمیل خان اور سابق چیئرمین بلدیات قصور احمد لطیف کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک ایک ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی، فیصلہ آتے ہی سزایافتہ نون لیگی رہنماو ¿ں کو پولیس نے احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا ہے۔ جس کے بعد انہوں نے اعلان کیا کہ اب ان کی جگہ ان کا بیٹا انتخاب لڑے گا۔

 مسلم لیگ (ن) نے عدلیہ مخالف ریلی پر سزاپانے والے سابق رکن قومی اسمبلی وسیم اختر شیخ کے بیٹے سعد وسیم شیخ کو قصور کے حلقہ این اے 137 سے ٹکٹ جاری کردیا

 طلال چوہدری پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ اگر وہ نااہل ہوگئے تو ان کے والد ان کی جگہ الیکشن لڑیں گے۔

یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ نواز شریف کو اہل اور پارٹی سے مخلص رہنماﺅں ، کارکنوں اور امیدواروں کے بجائے اپنے ذتی وفاداروں اور اپنے بیانیہ کی حمایت کرنے والوں کی تلاش ہے۔ اسی لیے بقول انور عزیز ٹکٹ ریوڑیوں کی طرح بانٹے گئے ہیں۔

Facebook Comments