محبت دھوپ میں ہو، چھائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

آئرین فرحت

محبت دھوپ میں ہو، چھائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

گلے لگ کے ہو چاہے پائوں میں ہو ایک جیسی ہے

کسے دکھ سکھ رہا ہے یاد پھر دن او ر راتوں کا

ذرا بھی ڈرکہاں رہتا ہے ملنے والی ماتوں کا

محبت میں کہاں ہے فرق اونچی نیچی ذاتوں کا

نہیں کچھ بھی اثر کوئی یہاں لوگوں کی باتوں کا

محبت شہر میں ہو، گائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

چلی جاتی ہے یہ بے خوف ،محلوں میں مِناروں میں

نظر آتی ہے یہ ٹوٹے ہوئے لاکھوں ستاروں میں

سمندر میں یہ آملتی ہے موجوں میں ، کناروں میں

یہ ہر موسم میں ہوتی ہے، خزائوں میں بہاروں میں

کہیں بھی ہاتھ کی ریکھائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

یہی بے رنگ جیون میں نیا اِک رنگ بھرتی ہے

کبھی بنجر نہ ہو پائے،محبت ایسی دھرتی ہے

یہی وہ چیز ہے جو نفرتوں سے جنگ کرتی ہے

امر ہو جائے یہ تو موت بھی پھر ہاتھ ملتی ہے

یہ گلشن میں ہو یا صحرائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

محبت دھوپ میں ہو، چھائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

گلے لگ کے ہوچاہے پائوں میں ہو، ایک جیسی ہے

٭٭٭

Facebook Comments