اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ، ڈاکٹر حنا امبرین طارق

  اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ
ڈاکٹر حنا امبرین طارق کی معروف غزلوں‌میں‌سے ایک ہے۔ وہ وطن سے بہت عرصے سے دور ہیں پہلے وہ سعودی عرب میں مقیم تھیں اب کینیڈا میں سیٹل ہوگئی ہیں، گھریلو ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ شاعری کی مشقت بھی جاری ہے۔
اسی صفحے پر ان کی غزل اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ
کے علاوہ ان کی تازہ غزل ’’غم یا خوشی کا ترجماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں ملاحظہ فرمائیں

خوشہ شاعری

اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ

اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ

دنیا میں کم کم ہی ملتے ہیں ہم جیسے دیوانے لوگ

چاک گریباں انکا دل و جاں پارہ پارہ سینہ ہے

خونِ جگر اپنا دے کر لکھتے ہیں جو افسانے لوگ

ساری راہیں ان رستوں کی ایک ہی جانب جاتی ہیں

ڈھونڈتے پھرتے ہیں راہوں پر پھر بھی کیا نجانے لوگ

اپنے لوگ ہی قاتل ہیں اور اپنے ہی مقتول بھی ہیں

پھر غیروں کے پاس کیوں جائیں درد اپنا سنانے لوگ

ہم ہیں ہر اک موسم میں ٹھہرے ہر ایک موسم ہم سے ہے

خوشبوئے حنا سے گھر کو لگیں ہیں مہکانے لوگ

٭٭٭

مزید کلام

غم یا خوشی کا ترجماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں
اک دوجے پر ہرگز عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

بدلا کہیں کچھ بھی نہیں دنیا میں سب کچھ ہے وہی
لیکن جدھر تھے کل وہاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

دل تھا ترا ہم تھے ترے، ہر سمت تھیں رعنائیاں
سچ پوچھ تو اب مہرباں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

زرخیز ہے دل کی زمیں، اب بھی ہرا ہر زخم ہے
بھولا وہ دکھ کی داستاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

دریا چڑھے تھے عشق کے دل میں طلاطم خوب تھے
اب حالِ دل کرتا بیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

اک پھول کی تختی پہ تو نے نام لکھا تھا مرا
اس پل مگر تجھ سا یہاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

کل جب ہوائیں تیز تھیں، کب خوف تھا کب وسوسے
شمعِ وفا کا پاسباں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

Facebook Comments