اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ، ڈاکٹر حنا امبرین طارق

ڈاکٹر حنا امبرین طارق

اپنی دھن میں رہنے والے ہم ایسے مستانے لوگ

دنیا میں کم کم ہی ملتے ہیں ہم جیسے دیوانے لوگ

چاک گریباں انکا دل و جاں پارہ پارہ سینہ ہے

خونِ جگر اپنا دے کر لکھتے ہیں جو افسانے لوگ

ساری راہیں ان رستوں کی ایک ہی جانب جاتی ہیں

ڈھونڈتے پھرتے ہیں راہوں پر پھر بھی کیا نجانے لوگ

اپنے لوگ ہی قاتل ہیں اور اپنے ہی مقتول بھی ہیں

پھر غیروں کے پاس کیوں جائیں درد اپنا سنانے لوگ

ہم ہیں ہر اک موسم میں ٹھہرے ہر ایک موسم ہم سے ہے

خوشبوئے حنا سے گھر کو لگیں ہیں مہکانے لوگ

٭٭٭

Facebook Comments