’’غم یا خوشی کا ترجماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں‘‘ غزل: ڈاکٹر حنا امبرین طارق

خوشہ شاعری

غم یا خوشی کا ترجماں تو بھی نہیں میں بھی نہیں
اک دوجے پر ہرگز عیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

بدلا کہیں کچھ بھی نہیں دنیا میں سب کچھ ہے وہی
لیکن جدھر تھے کل وہاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

دل تھا ترا ہم تھے ترے، ہر سمت تھیں رعنائیاں
سچ پوچھ تو اب مہرباں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

زرخیز ہے دل کی زمیں، اب بھی ہرا ہر زخم ہے
بھولا وہ دکھ کی داستاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

دریا چڑھے تھے عشق کے دل میں طلاطم خوب تھے
اب حالِ دل کرتا بیاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

اک پھول کی تختی پہ تو نے نام لکھا تھا مرا
اس پل مگر تجھ سا یہاں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

کل جب ہوائیں تیز تھیں، کب خوف تھا کب وسوسے
شمعِ وفا کا پاسباں تو بھی نہیں میں بھی نہیں

Facebook Comments