عمران حکومت کا پہلا قدم ہی فیصلہ کن ہوگا ، سلیم آذر

پھونک پھونک کر نہیں جم کر قدم رکھنے اور جارحانہ فیصلے کرنے کا وقت ہے

 سب سے پہلے بنیادی آٹھ چیزوں آ ٹا، چاول، دالیں، آئل، دودھ، چینی، چائے کی پتی اور موٹرسائیکل سواروں کے لیے

ایک تا دو لیٹر پٹرول کی قیمت یا  ٹیکس میں 25 تا 50فیصد تک کمی جائے

 تعلیمی امتیازات کے خاتمے کے لیے پہلے مرحلے میں نجی اور سرکاری اسکولوں کی یونی فارم یکساں کرنے کا اعلان کیا جائے

ایک سال کے اندر ملک بھر میں قومی تقاضوں سے ہم آہنگ یکساں نصاب جاری و نافذ کیا جائے

 مخالفین عمران کو الزامات کی سیاست میں الجھا کر عوام کی فلاح کے مقصد سے بھٹکاتے رہیں گے

لہٰذا حریفوں کو جواب دینے کے بجائے الزامات کا عملی جواب اپنے فلاحی کاموں کے ذریعے دیں

سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، تعلیمی ماحول ، معیار اوراساتذہ کی حالت بہتر بنانے کے لیے سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے

کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلوائیں خاص طور پر ملازمین کی ترقی کو اس سے مشروط کیا جائے

مان لو تو مشورہ نہ مانو تو رائے

عمران خان کو سمجھ لینا چاہیے کہ حریف ان کو الزامات کی سیاست میں الجھا کر عوام کی فلاح کے مقصد سے بھٹکاتے رہیں گے اور ہر وہ جتن کریں گے

کہ عمران عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے نہ کرسکیں اور اپنی پالیسیوں کو بروئے کار لانے کے قابل نہ رہیںلہٰذا وہ خود حریفوں کو جواب دینے کے بجائے اپنی پارٹی کے کسی نمائندے کو متعین کردیں یعنی وزرا کو بھی جوابات دینے سے روک دیں اور الزامات کا عملی جواب اپنے فلاحی کاموں کے ذریعے دیں۔ مخالفین عمران خان کو اسمبلی اور ایوان سے باہرآسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں گے،عمران صرف اپنے منفرد ،عوام دوست ، دو ٹوک واضح اور جارحانہ اقدامات ہی کے ذریعے مخالفین کی بولتی بند کرسکتے ہیں، عمران کے فیصلوں اور اقدامات سے جتنا عوام کو فائدہ پہنچے گا، ان کی زندگی میںجتنی سہولت آئے گی اتنا ہی مخالفین کا پراپیگنڈا اپنی موت آپ مرتا جائے گا۔

 حکومت بناتے ہی عمران اگرآٹھ چیزوں آ ٹا۔ چاول۔ دالیں۔ آئل۔ دودھ۔ چینی۔ چائے کی پتی اور موٹرسائیکل سواروں کے لیے ایک تا دو لیٹر پٹرول کی قیمت یا اس کے ٹیکس میں 25سے 50فیصد تک کمی کردیں تو عوام انہیں سرآنکھوں پر بٹھا لیں گے ، اس سے نہ صرف عام افراد کی زندگی آسان ہوجائے گی بلکہ عوام کے دل میں عمرا ن کی محبت اور اعتماد بھی بڑھ جائے گا۔ اور ساتھ ہی مخالفین کا پراپیگنڈا بھی غیر موثر ہو جائے گا۔

اس سے ہوسکتا ہے معاشی طور پرمشکل میں گرفتار ملک پر مزید معاشی بوجھ بڑھ جائے مگر حکومت اناج کے تاجروں، مخیر حضرات سے مدد لے سکتی ہے اور ملک بھر میں قائم یوٹیلیٹی اسٹور ز کے ذریعے سستی اشیا فراہم کرکے عوام کی ضرورتیں پوری اور ان کے دلوں کو تسخیر کرسکتی ہے۔

عمران خان اپنی حکومت کے پہلے ہی ہفتے میں نجی اور سرکاری اسکولوں کے درمیان امتیازات کے خاتمے کا اعلان کریں، جس کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کی یونی فارم یکساں کی جائے اور ایک سال کے اندر ملک بھر میں قومی تقاضوں سے ہم آہنگ یکساں نصاب جاری و نافذ کیا جائے ۔سرکاری اسکولوں کی عمارتوں، تعلیمی ماحول ، معیار اوراساتذہ کی حالت بہتر بنانے کے لیے سرکاری ملازمین کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلوائیں خاص طور پر سرکاری ملازمین کی ترقی کو اس سے مشروط کیا جائے پھر دیکھیں ایک ہی سال میں سرکاری اسکول پیلے اسکول کی کٹیگری سے نکل کر ملک کے بہترین اسکول بن جائیں گے۔

 مخالفین عمران کو 100دن کی کارکردگی، ملکی معیشت چلانے کے اہداف ، پرویز مشرف کوانصاف کے کٹھہرے میں لانے اور وعدوں کو پوراکرنے سمیت طرح طرح کے جال میں پھنسانے اور گھیرنے کی کوشش کریں گے عمران نے اگر انہیں جواب دینے اور مطمئن کرنے کی کوشش کی تو گویا وہ ان کے جال میں پھنستے چلے جائیں گے بہتر یہ ہے کہ عمران مخالفین کے بولنے کو نظر انداز کرکے اپنی توجہ عوام کو سہولت بہم پہنچانے کے اقدامات پر مبذول رکھیں۔ یہی سب سے بہتر طریقہ ہے ۔عمران مخالفین کو جواب دینے کے بجائے ہر ماہ ایک تاریخ مخصوص ومقررکرکے ریڈیو اور ٹیلی وڑن پر عوام سے خطاب کریں اورانہیں اپنی پالیسی و اقدامات سے آگاہ کرنے کے ساتھ آئندہ کے فیصلوں پر ان سے رائے بھی طلب کریں یوں عوام عمران کے ساتھ پالیسی وقانون سازی میں شریک ومددگار رہیں گے۔اسی طرح روز روز پریس کانفرنس کرنے کے بجائے ہر وزارت اپنی کارکردگی اور آئندہ کے اقدامات کے بارے میں وزارت اطلاعات کے ذریعے ہرہفتے صحافیوں سے بات چیت کریں۔

عمران خان عجب کرشمہ ساز شخصیت ہیں۔وہ بے لوث ،بے باک جرا ¿ت مند، خود اعتماد ، ہار نہ ماننے والے اور آخری بال اور آخری سانس تک مقابلہ کرنے والے لیڈر ہیں۔وہ پاکستان میں تبدیلی کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اسی لیے پاکستانی عوام کو ان سے بہت توقعات ہیں۔ عمران خان کی حکومت کے لیے معاشی، سیاسی ، اندروانی و بیرونی چیلنجز درپیش ہیں، ان سے عوام کو توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔میں عمران خان کو پسند نہیں کرتا نہ کبھی ان کا حامی رہا ہوں۔لیکن پہلے بطورکھلاڑی انہیں پسند کرتا تھااور اب صاف ستھرے، کھرے اور سچے انسان کے طور پر ان کو پسند کرتا اور ان کی حمایت کرتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورت حال میں عمران خان واحد امید ہیں جو پاکستان کو باعزت مقام تک لے جاسکتے ہیں۔ اور میںدعا کرتا ہوں کہ اللہ انہیں کامیاب کرے ۔

میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ عمران مخالف اتحاد کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو ، اس میں کتنے ہی بڑے اور سینئر سیاست داںکیوں نہ شامل ہوں ، انہیں عوام سے عمران کی مخالفت کی پذائی حاصل نہیں ہوسکتی۔ وہ عمران کی جتنی مخالفت کریں گے عوام کے دل سے اترتے جائیں گے اور آئندہ الیکشن میں انہیں عوام کے ہاتھوں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور اگر وہ عوام کو عمران کی مخالفت پر سڑکوں پر لے آئے اور اس کے نتیجے میں عمران واقعی ناکام ہوگئے تو یقین رکھیں کہ عمران کی ناکامی کے بعد جو انتخابات ہوں گے وہ اصلاحات یا احتساب کے نعرے پر نہیں انقلاب کے نعرے پر ہوں گے اور تمام سینئر سیاست داں انقلاب کی نذر ہوجائیں گے۔

دراصل ہرخاص مدت بعد ایسا زمانہ آتا ہے جو اپنے مخصوص عہد سے پہچانااوریاد رکھا جاتا ہے ، انسان خود بخود اس عہدمیں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ جو نہیں ڈھلتا اسے وہ عہد روندتا ہوا گزر جاتا ہے۔موجودہ عہد علم، ترقی، ایجادات، چیزوں اور معاملات کو بہتر بنانے، بے باک اور فلاحی اقدامات اور دوٹوک موقف اختیار کرنے کا عہد ہے۔ جو لیڈر فلاحی کاموںکے لیے بولڈفیصلے اور اقدامات نہیں کرے گا وہ بھی روندا جائے گا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا آ جائے گا جو معاملات بہتر کرنے کے لیے جارحانہ فیصلے اور اقدامات کرے گا۔ دنیا بھرمیں ہروہ شخص جو صرف اپنے مفادات کو فوقیت دینے والا ہوگا، مشکل میں مبتلا ہوجائے گا۔ جس خود غرض اور کرپٹ لیڈر نے عوام کا حق مار کر جو پیسہ چھپا کر رکھا ہے وہ سب نہ صرف ظاہر ہوگا بلکہ وہ لیڈر ہمیشہ کے لیے اپنا اقتداراور اختیار کھو دے گااور اسے پیسہ بھی واپس کرنا پڑے گا۔

عمران خان اور ان کی حکومت کے ہر ذمے دار کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت چاہے وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو اسے واپس لانے کے اقدامات کریں۔ ہوسکتا ہے انہیں اپنی کوششوں میں مکمل کامیابی نہ ہو مگر ان کی کوششیں اور اخلاص عوام کو یہ عتماد دے گا عمران جو کہتے ہیں وہ ضرور کرتے ہیں۔ یہ عمران کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ عوام سے غلط بیانی کرنے کے بجائے صاف صاف بات کریں۔

Facebook Comments