”میرا مسیحا میرا قاتل“ ( سچی کہانی) تحریر : شہلا شہناز

بیوی کا حسن ہی اس کا دشمن بن گیا

بیوی کی خوب صورتی نے اسے احساس کمتری میں مبتلا کردیا تھا

آسیہ ڈھائی مرلے کے مکان میں بیاہ کر آئی تھی۔ وہ انتہائی خوبصورت اور نازک اندام تھی۔ اس کا شوہر جہاں اسے بے انتہا پیار کرتا تھا وہاں اندر ہی اندر اس کے دل میں کہیں یہ ڈر بھی پل رہا تھا کہ شاید آسیہ مجھے پسند نہیں کرتی کیونکہ میں اس کی طرح خوبصورت نہیں ہوں بلکہ بد شکل ہوں۔

 آسیہ سمجھ دار لڑکی تھی ، وہ بھانپ گئی تھی کہ اس کا شوہر اعجاز اس کے حسین ہونے سے ڈرتا ہے۔ اس پر وہ اور بھی اترانے لگی تھی، اتراتی بھی کیوں ناں ”خدا جب حسن دیتا ہے نزاکت آ ہی جاتی ہے“ یہ اس کے خوش ہونے، اترانے اور نئے خواب بننے کا موسم جو تھا۔ وہ دھان پان سی لڑکی سارا دن کام کاج کرتی، اچھے طریقے سے گھر داری چلارہی تھی۔

 ایک روز اس کی سہیلی ملنے آئی، ہنسی مذاق کے دوران سہیلی کے پوچھنے پر کہ اس کا شوہر کیسا ہے وہ مذاق میں کہہ گئی کہ میراثی لگتا ہے۔ یہ جملہ اس کی نند نے سن لیا، یہ مذاق اس کی زندگی میں زہر گھول گیا۔ نند نے سسرال میں سب کو بتا دیا۔ اب ساس اورنندیں بھی آسیہ سے ناراض ناراض رہنے لگیں، شوہر کے دل میں بھی یہ بات جا گزیں ہوئی کہ آسیہ اپنے حسن پر غرور کرتی ہے اور دل ہی دل میں اس سے نفرت کرتی ہے۔

اعجاز اس سے حسد کرنے لگا۔ بظاہر اس نے بیوی کو رانی بنا کر رکھاہوا تھا ،وہ اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش تھی اور اس کی ہر جا ئز و ناجائز بات بے چوں و چرا مان لیتی تھی۔ حتیٰ کہ شوہر کے نا جائز کاروبار نشہ آور ادویات کی سپلائی میں بھی اس کا ساتھ دینے لگی۔ یک دن اس کا شوہر دوسرے ملک ڈرگ لے جاتا ہوا پکڑا گیا۔ آسیہ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ۔اس کا واحد سہارااور اس کی دو معصوم بچیوں کا باپ دیارِ غیر میں پابند سلاسل ہو گیا تھا۔

 جانے کتنے ہی موسم بیت گئے ساون برستا اوراس کی جوانی پر بین کرتا رہا ۔کھیتوں میں سرسوں پھولتی رہی، کئی بہاریں آئیں ، پھول کھلے، نئی کونپلیں پھوٹیں مگر آسیہ کے آنگن میں ہجر رت نے ڈیرے ڈالے رکھے آخر کاروہ وقت آ گیا کہ 12 سال بعد وہ دشمن جاں لوٹ کر آیا۔ آسیہ دو بچیوں کو لے کر اسی کے انتظار میں اب تک بیٹھی رہی تھی۔پے در پے مشکلات نے ایک معصوم لڑکی کے حوصلے پہلے خود ہی بلند کر دیے تھے، پھر جب وہ اپنے شوہر سے برابری کی سطح پر بات کرتی تو نہ ساس کو اچھی لگتی نہ شوہر کو ۔ وہ چاہتے تھے کہ آسیہ نوکروں کی طرح کام کرتی رہے اور کسی کارندے کی طرح ان کے کاروبار میں مہرہ بنی رہے اور ہمارے آگے اف تک نہ کرے۔ اللہ نے ان دونوں کو دو اور پیارے بچوں سے نوازا ۔

بڑی دونوں بیٹیوں کی شادی آسیہ اپنی مرضی سے کرنا چاہتی تھی کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹیاں اپنی اپنی پسند رکھتی ہیں۔ باپ نے مخالفت کی جس کی وجہ سے ماں بیٹیاں اس کے خلاف ہو گئیں۔ روز بروز جھگڑے بڑھتے رہے۔ اب آسیہ کوئی نازک اندام حسینہ نہیں تھی جو بات بات پر شرما جاتی یا شوہر سے ڈرتی۔ اب شوہر اسے اسے گالیاں بکتا تو وہ بھی اس کو خوب کھری کھری سناتی، اس کی بے عزتی کرتی۔ دونوں میں گھمسان کی لڑائیاں معمول بن گیئں۔ اعجاز کو آسیہ سے نفرت ہونے لگی ، ہر وقت گھر میں ٹینشن رہتی۔ آسیہ بھی ساس اور نندوں کو گھاس نہیں ڈالتی تھی ۔اعجاز نفرت کے سمندروں میں غوطہ زن رہنے لگا۔ اب معاملات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ دونوں ایک دوسرے سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ مجھے مار نہ دے۔

اچانک اعجاز کا رویہ بدل گیا ۔ وہ غیر معمولی طور پر آسیہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگا ا۔ آسیہ کی حیرانی پر اعجاز نے اسے بتایا کہ میری طبیعت روز بہ روز خراب ہو رہی ہے۔ میں نے میڈیکل ٹیسٹ کرائے ہیں،ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شدید ہارٹ اٹیک ہونے کا خطرہ ہے۔ اعجاز کی بیماری کا سن کا آسیہ کے دل سے ساری کدورت دور ہوگئی اور وہ فرطِ محبت سے کہنے لگی ۔ ”اعجاز اپنا خیال رکھا کریں۔ آپ کے سوا ہمارا کوئی نہیں ہے۔“

آسیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی گیلے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی کہ اعجاز کمرے میں داخل ہوا۔ آسیہ نے اچانک گھبرا کے دیکھا ،کیوں کہ وہ اپنے دھیان میں بیٹھی تھی ۔اعجاز اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا اس کے بالوں کو چھوتے ہوئے کہنے لگا ۔ ”آسیہ! یہ لو دس ہزار روپے۔ اپنے لیے موسم گرما کے کپڑے خریدو یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے اپنی، بن سنور کے رہا کرو۔“

 وہ حیران رہ گئی اوریک ٹک اسے دیکھتی رہ گئی کہ یہ اتنا اچھا کیسے ہو گیا؟ دوسرے دن آسیہ بازار گئی اور اعجاز کی پسند کے رنگوں والے سوٹ خرید لائی ۔ آسیہ اب اعجاز کی محبت کے نشے میں چور رہنے لگی تھی۔ ایک دن اعجاز نے کہا ” آسیہ! میرا دل چاہتا ہے کہ تم پردے میں رہا کرو۔“

” اعجاز آپ میرے ساتھ ٹھیک ہو ،مجھے کچھ نہیں چاہیے۔“ آسیہ نے محبت سے سرشار لہجے میں کہا ” جیسا آپ کہو گے، میں ویسی ہی بن جاوں گی۔“

 کئی دن رات اسی سرشاری میں گزر گئے۔ آسیہ کی بہن آئی، اس نے بازار چلنے کی فرمائش کی کہ باجو چلو بازار چلیں تو آسیہ نے جواب دیا۔ ”میں اعجاز سے پوچھ کر بتاتی ہوں۔ اس کی اجازت کے بغیر نہیں جاﺅں گی۔ “

 ” باجو! تم تو بالکل بدل گئی ہو۔“ بہن نے کہا ” یہ تبدیلی اچھی ہے۔“

 ”کرن!“ آسیہ نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا ” اعجاز مجھ سے پیار تو بہت کرتا ہے لیکن مجھے کبھی کبھی اس سے خوف آتا ہے۔“

 ” وہ کیوں بجو؟“ کرن حیرانی سے بولی

 ” اعجاز مجھ سے کئی بار کہہ چکا ہے کہ بن سنور کر تنہامیرے ساتھ نہر پر چلو۔ بس ہم اور تم آج ڈنر وہیں کریں گے۔ بچوں کو کرن کے یہاں بھیج دیتے ہیں ۔“

 ”نا بجو ہرگز مت جانا اس کے ساتھ۔ آسیہ کی بہن کرن نے کہا ” اعجاز کا ایک دم اچھاہو جانا کچھ عجیب بات ہے ۔ اللہ مالک ہے۔ تم ڈرو نہیں۔ مگر اس کے ساتھ اکیلے مت جانا۔“

 اسی تانے بانے میں تھی کہ اعجاز نے آج پھر کہا۔ کہ بیٹی ملنے آئی ہے۔ دونوں چھوٹے بچوں کو اس کے ساتھ بھیج دو تم اور میں اکیلے کچھ وقت ساتھ بتائیں گے۔

 نہیں اعجاز آپ کیسی باتیں کرتے ہیں اب اس عمر میں یہ سب زیب نہیں دیتا۔ میں بچوں کوکبھی نہیں بھیجوں گی۔ اندر سے آسیہ کا دل خوف کے مارے بیٹھ رہا تھا۔ جب اعجاز نے دیکھا کہ دال نہیں گل رہی تووہ چپ ہورہا۔

 ایک دن دوپہر کو وہ گھر آ کر صحن میں ہی لیٹ گیا۔ اور بولا آسیہ طبیعت بہت خراب ہے۔ وہ دو گھنٹے وہیں آسیہ سے تیمارداری کرواتا رہا، پھر کہنے لگا ۔اب بہتر ہوں چلتا ہوں کام پر۔ شام کو اعجاز کا فون آیا۔” ہیلو آسیہ !میں سڑک پر گاڑی میں ہوں، جلدی پہنچو اور کسی کو بتانے نہ بیٹھ جانا۔ میری حالت بہت خراب ہے، جلدی پہنچو۔“

 آسیہ دونوں بچوں کو اپنی بہن کرن کے دروازے پرچھوڑا اور کہا ” بیٹا! تمہارے ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ میں انہیںڈاکٹر کے پاس لے جا رہی ہوں۔ جلدی آ جاوں گی۔ تم اندر جاو اور خالہ کو بتا دینا۔“ یہ کہہ کر وہ چلی گئی

آسیہ سڑک پر پہنچی تو اعجاز نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بولا ”آو جلدی بیٹھو ۔ “گاڑی ہائی وے پر دوڑنے لگی ۔

”اعجاز اس طرف کہاں جا رہے ہیں۔ “ آسیہ نے احتجاج کیا

” شہر میں اس وقت بہت رش بہت ہوتا ہے ناں، اس لیے یہاں سے چل رہے ہیں۔ وہ ٹال مٹول کرتا اور اسے باتوں میں لگاتا اپنے کسی عزیز کے ہاں لے گیا، وہاں جاتے ہی اس کے تیور بدل گئے

اعجاز آپ کی طبیعت خراب تھی ناں۔“ آسیہ نے سہمی ہوئی آواز میں کہا

”ہاں خراب تھی اب تو نہیں۔“ اعجاز نے عجیب سے لہجے میں جواب دیا۔ اعجاز کی سرخ پھٹی ہوئی آنکھیں دیکھ کر آسیہ کوخوف آ رہا تھا ۔ اس پر حیرانیوں کے در وا ہونے لگے۔ یک لخت اس کا ا دم گھٹنے لگا۔ اس نے ارد گرد کا جائزہ لیا۔وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔یہ آپ کیا اور کیوں کر رہے ہیں؟ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا؟“

 تمہیں توساری زندگی کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیاآسیہ کہ ساس اور نندوں کو اہمیت دیتے ہیں، شوہر کی عزت کرتے ہیں۔ مجھے تم سے نفرت ہے شدید نفرت ۔“

”اچھا دیکھو! “ آسیہ نے روہانسی آواز میں کہا ” میں دو معصوم بچوں کو اکیلے چھوڑ کر آئی ہوں۔ مجھے جانے دو ۔“

”نہ نہ نہ اب کھیل ختم ہو گا ،بھول جاو بچوں کو۔“ اس نے چمکتی ہوئی کلہاڑی نکالی ،پھر ظالم نے ایک وار کیا۔ آسیہ نے بے ساختہ بازو آگے کر کے روکا۔ اس کے منہ سے ایک آہ چیخ بن کر نکلی۔ آسیہ ہال نما کمرے میں چاروں طرف بھاگنے لگی۔ وہ اس کے ہر وار پر چیختی رہی چلاتی رہی مگر اسے ترس آیا نہ کوئی مدد کو

 آسیہ کے دونوں بازو کٹ کر لٹک چکے تھے، ا لہولہان جسم سے دھاروں خوب بہہ رہا تھا۔وہ شوگر کی مریضہ تھی ۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔چھت کی طرف نگاہ اٹھائی اور بے ساختہ اللہ کو پکارا ” اے اللہ میری مدد کر۔ پھر اعجاز کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر بولی ”اعجاز! تمہیں رب کا واسطہ میرے بچوں کے لیے میری جان بخش دے۔ تیرے پاﺅں پڑتی ہوں۔ چل تو اپنی مردانگی میں جیت گیا مجھ پر تشدد کر کے۔ میں تجھے معاف کر دوں گی۔ تو میرا قاتل نہیں میرا مسیحا بن جا ۔مجھے معاف کر دے۔“

”چپ کر غلیظ عورت! تیری اوقات ہے مجھے معاف کرنے کی۔“ اس یزید نے طیش میں آکر کلہاڑی کے وار سے اس کا سر دولخت کر دیا۔ وہ دھڑام سے زمین پر گر گئی۔ اس نے پے در پے سر اور جسم پر مزیدوار کیے، نہ جانے اس نازک جسم نے کتنے وار جھیلے ۔جب وہ ٹھنڈی ہو گئی تو اسے گاڑی میں ڈال کر اسی نہر کے کنارے آیا اور اس کی لاش کو اسی نہر میں پھینک دیاجس کے کنارے بیٹھ کر وہ آسیہ سے کینڈل لائٹ ڈنر کی بات کرتا تھا

Facebook Comments