اٹل بہاری واجپائی93سال کی عمرمیں چل بسے

اٹل بہاری واجپائی93سال کی عمرمیں چل بسے، وہ برصغیر کی قدآور سیاسی شخصیت اوربھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی تھے،  دو بار بھارت کے وزیر اعظم رہے، انہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا تھا، وہ ہندی کے عمدہ شاعر بھی تھے ، عمران خان، بلاول بھٹو نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ، اٹل بہاری واجپئی کو گردوں میں تکلیف اورسانس کی نالی میں انفیکشن تھا، تشویشناک حالت کے باعث انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا

شخصیات ویب ڈیسک

 اٹل بہاری واجپائی 93 برس کی عمر میں چل بسے۔  بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی ، دو بار بھارت کے وزیر اعظم بننے والے اٹل بہاری واجپائی برصغیر کی قدآور سیاسی شخصیت تھے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو 11 جون کو گردوں میں تکلیف کے باعث نئی دہلی کے اسپتال ل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) میں میں داخل کرایا گیا تھا، ڈاکٹروں نے ان کی سانس کی نالی میں انفیکشن بھی بتایا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کی حالت گزشتہ 36 گھنٹوں سے انتہائی تشویشناک تھی جس کی بنا پر انہیں اسپتال نتظامیہ نے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کر دیا تھا اور تشویشناک حالت کے باعث وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا مگر ڈاکٹرز کی انتھک محنت کے باوجود وہ جانبرنہ ہوسکے اور آج 16اگست کو زندگی کی بازی ہار گئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے آج صبح ہسپتال میں ان کی عیادت کی تھی۔

اٹل بہاری واجپائی سابق بھارتی وزیراعظم

اٹل بہاری واجپائی کا شمار بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے بانی ارکان میں ہوتا ہے، وہ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996 سے یکم جون 1996 یعنی 15 دن کے وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19 مارچ 1998سے 1999کے ددرمیان13 ماہ  کے لیے ملک کے وزیراعظم رہے، بعدازاں 1999 سے 2004 تک پانچ سالہ مدت کے لیے وزیراعظم رہے۔ 2005 میں خرابی صحت کے باعث انہوں نے سیاست کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اٹل بہاری واجپائی نے بطور وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میںپاکستان کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔

اٹل بہاری واجپائی عمدہ شاعر بھی تھے

اٹل بہاری واجپائی صف اول کے سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔واجپائی کو اعتدال پسند قائد کہا جاتا تھا۔

عمران خان اور بلاول بھٹو کا اظہار افسوس

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان  اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی برصغیر کی قد آور سیاسی شخصیت تھے، پاک بھارت تعلقات میں واجپائی کی کوششیں یاد رکھی جائیں گی، ان کے انتقال سے جنوبی ایشیا کی سیاست میں خلا پیدا ہوگیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ قیام امن کی خواہش سرحد کی دونوں جانب پائی جاتی ہے، قیام امن ہی سے واجپائی کی خدمات کا حقیقی اعتراف ممکن ہے، دکھ کی اس گھڑی میں بھارت کے غم میں شریک ہیں۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی واجپائی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ واجپائی نے پاکستان اور بھارت میں اعتماد سازی کی کوششیں کیں، امید ہے بھارتی حکومت واجپائی کی روایات کو برقرار رکھے گی۔
آخری رسومات میں شرکت کے لیے نگران وزیراطلاعات علی ظفر نمائندہ مقرر
نگراں وزیراعظم ناصر الملک نے بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لیے نگراں وزیر اطلاعات سید علی ظفر کو نمائندہ مقرر کیا ہے۔ نگراں وزیر اطلاعات اٹل بہاری واجپائی کی آخری رسومات میں پاکستان کی نمائندگی   کریں گے۔

پیدائش

اٹل بہاری واجپائی کے دادا شری شیام لال واجپائی آگرہ کے مشہور گاﺅں بٹیشور کے رہنے والے ور سنسکرت کے عالم فاضل تھے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلائی اور بٹیشور سے باہر گوالیار کی ریاست میں ملازمت کرنے کی صلاح دی۔ شری کرشن بہاری واجپائی نے گوالیار جاکر بطور استاد ملازمت شروع کردی اور وہاں شندے کی چھاو ¿نی میں رہنے لگے۔ وہاں ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اٹل واجپائی کا جنم کرسمس کے دن 25 دسمبر 1924کو ہوا۔

تعلیم

انہوں نے مقامی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گوالیار ہی میں وکٹوریہ کالج سے گریجویشن کیا۔ اس کے بعد کانپور کے ڈی اے وی کالج سے پولیٹیکل سائنس میں فرسٹ کلاس میں پوسٹ گریجویشن کی تکمیل کی۔ اس کے بعد انہوں نے قانون پڑھنے کے لیے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔

سیاست

اٹل بہاری واجپائی آغازِ جوانی ہی سے سماجی سرگرمیوں میں مشغول رہنے لگے تھے۔ وہ شارٹایہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرگرم کارکن بھی رہے اور اسٹوڈنٹ یونین کے سکریٹری اور صدر بھی۔ انہوں نے 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942کی ”بھارت چھوڑو“ تحریک میں پرجوش حصہ لیا تھا۔ تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا ، واجپائی بھی گرفتار ہو گئے اور انھیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔ وزیراعظم مرار جی ڈیسائی کی حکومت میں 26 مارچ 1977سے 28 جولائی 1979 کے درمیان وہ وزیربرائے امور خارجہ رہے۔ وہ980 1سے سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر رہے۔اس کے علاوہ وہ جنتا پارٹی (1977–1980) اور 1977 سے قبل جن سنگھ سے بھی وابستہ رہے۔

وزارت عظمیٰ

اٹل بہاری واجپائی دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے۔ پہلی مرتبہ 16 مئی 1996سے یکم جون 1996یعنی 15 دن کے وزیر اعظم رہے۔ دوسری مرتبہ 19 مارچ 1998سے 22 مئی 2004تک وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔

انہوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ پاک بھارت دوستی کو فروغ دینے پر مذاکرات کیے۔

شاعری

واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما کے ساتھ وہ ہندی کے عمدہ شاعر بھی ہیں۔ سیاسی مصروفیات میں بھی انہوں نے شاعری کو اپنے سینے سے لگائے رکھا۔ واجپائی جنہیں اعتدال پسند قائد کہا جاتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی اپنے ان جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اپنے طویل سیاسی سفر میں واجپائی نے وقت کے ہر سلگتے مسئلے پر نظمیں کہی ہیں۔

 

نمونہ کلام

جنگ نہ ہونے دیں گے

ہم جنگ نہ ہونے دیں گے
وشوشانتی کے ہم سادھک ہیں جنگ نہ ہونے دیں گے
کبھی نہ کھیتوں میں پھر خونی کھاد پھلے گی
کھلیانوں میں نہیں موت کی فصل کھلے گی
آسمان پھر کبھی نہ انگارے اگلے گا
ایٹم سے ناگاساکی پھر نہیں جلے گا
ہتھیاروں کے ڈھیروں پر جن کا ہے ڈیرا
منہ میں شانتی بغل میں بم، دھوکے کا پھیرا
کفن بیچنے والوں سے یہ کہہ دو چلا کر
دنیا جان گئی ہے ان کا اصلی چہرا
کامیاب ہوں ان کی چالیں ڈھنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے
ہمیں چاہیے شانتی، زندگی ہم کو پیاری
ہمیں چاہیے شانتی سرجن کی ہے تیاری
ہم نے چھیڑی جنگ بھوک سے بیماری سے
آگے آکر ہاتھ بٹائے دنیا ساری
ہری بھری دھرتی کو خونی رنگ نہ لینے دیں گے

جنگ نہ ہونے دیں گے

بھارت پاکستان پڑوسی ساتھ ساتھ رہنا ہے
پیار کریں یا وار کریں دونوں کو ہی سہنا ہے
تین بار لڑ چکے لڑائی کتنا مہنگا سودا
روسی بم ہو یا امریکی، خون ایک بہنا ہے
جو ہم پر گزری بچوں کے سنگ نہ ہونے دیں گے
جنگ نہ ہونے دیں گے

اٹل بہاری واجپائی

اٹل بہاری واجپائی

اٹل بہاری واجپائی کا شمار بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے بانی ارکان میں ہوتا ہے

Facebook Comments