تعلیم کو فروغ دے کرنوجوانوں کو تباہی سے بچائیں

نوجوان معیاری تعلیم سے محروم ہیں، تعلیم تجارت اوراسکول وکالج صنعت بنا دیے گئے

جہاں منافع کا حصول ہی سب سے بڑا مقصد ہے

 اگر ہم نے تعلیمی نظام بہتر اور تعلیمی اداروں کو حقیقی درس گاہ نہ بنایا تو

 ہم اپنے ایٹمی اثاثوں سے زیادہ قیمتی”نوجوان نسل“سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے

 

ڈاکٹر سید محبوب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان اس لحاظ سے دنیا کا خوش قسمت خط ہے کہ اس کی آبادی کا60 فی صد سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے، بچپن اور جوانی زندگی کا متحرک ترین اور توانائی سے بھرپور دور ہوتا ہے۔ اسی دور میںانسان بنتا اور بگڑتا ہے۔ اگر مناسب رہنمائی، مشاورت، مواقع، سہولتیںاور میرٹ کی فضا فراہم کی جائے تویہی نوجوان پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ اور قابل فخر سرمایہ ثابت ہو سکتے ہیں اور پاکستان کو ایک مقروض، محکوم اور دوسرے ممالک پر انحصار کرنے والے طفیلی ملک کے بجائے اسے ایک آزاد، خود مختار، باوقار، معاشی مستحکم اور ترقی یافتہ ملک میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ملک کے بیشتر سیاست داں، سیاسی جماعتیں، بااختیار طبقہ اور حکمراں نوجوانوں کو اپنے سیاسی مقاصد، اقتدار کے حصول، ایجی ٹینشن ، احتجاج اور اپنی خوشامد کی راہ پر لگانا تو پسند کرتے ہیں لیکن ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کی صلاحیتوں کو مثبت، تعمیری،عملی اور تحقیقی راہوں میں استعمال کرنے کے لیے نہ تو کوئی جامع منصوبہ کرتے ہیں نہ اس کے لیے سازگار ماحول اور فضا مہیا کی جاتی ہے۔

نوجوانوں کی بڑی تعداد معیاری تعلیم سے محروم ہے، تعلیم تجارت اور انڈسٹری بنادی گئی ہے، تعلیمی ادارے صنعتوں کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں جہاں منافع کا حصول ہی سب سے بڑا مقصد ہے۔ ابھی چند روز قبل ایک بچی میرے پاس رہنمائی کے لیے آئی۔ اس بچی نے میٹرک اور انٹر کا امتحان اے گریڈ میںپاس کیا تھا اور ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ ڈاکٹر بن کر مجبور انسانوں کی خدمت کرے کیوں کہ اس کی والدہ بھی ڈاکٹر ہیں اور مشنری جذبے کے تحت مریضوں کی خدمت کر رہی ہیں۔ اس بچی نے ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ٹیسٹ دیا اور کامیاب ہوگئی۔ اسے کہا گیا کہ وہ ایک سال کی فیس7 لاکھ 20 ہزار روپے یکمشت جمع کرادے۔ اتنی بڑی رقم وہ جمع کرانے سے قاصر رہی۔ اس نے کالج انتظامیہ کو درخواست دی کہ اسے50 فی صد اسکالر شپ دے دی جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکے کیوں کہ اس قدر فیس وہ ادا کرنے سے قاصر ہے۔ کالج انتظامیہ نے سرے سے انکارکردیا کہ وہ کوئی رعایت کرتے ہیں نہ کوئی اسکالر شپ جاری کرسکتے ہیں جب کہ ان کی ویب سائٹ پر واضح طور پر درج تھا کہ وہ مستحق طلبہ وطالبات کو اسکالر شپ کا اجراکرتے ہیں۔

طبقاتی نظام تعلیم بھی ایک عفریت ہے جس نے ذہین نوجوانوں میں احساس کمتری پیدا کردیا ہے تو دوسری جانب حکمرانوں کی سنگین غفلت اور بے پرائی کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد گمراہی، مذہبی انتہا پسندی، بے راہ روی، اور منشیات کی عادی بنائی جاچکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہایت ہی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نوجوانوں کو گمراہی کی جانب راغب کر کے انہیں ناکارہ بنایا جارہا ہے۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ ملک میں معیاری اسکول، کالج، جامعات، تکنیکی تعلیمی ادروں کے قیام کھے لیے تو وسائل کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے لیکن اس ملک میں سالانہ 300 ارب روپے کی خطیر رقم سگریٹ نوشی کے دھوئیں میں اڑا دی جاتی ہے۔ سالانہ 300 ارب روپے کا مطلب ہے ماہانہ 25ارب روپے ، یومیہ 83 کروڑ 33لاکھ روپے، فی گھنٹہ 3کروڑ 47لاکھ روپے اور فی منٹ5لاکھ78ہزاراور فی سیکنڈ9ہزار600 روپے کے سگریٹ پیئے جارہے ہیں۔ کتابوں کی دکانوں پر الوبولتے نظر آئیں گے جب کہ سگریٹ کی دکانوں پر نوجوانوں کا ہجوم نظر آئے گا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ سگریٹ پینے والوں میں90 فی صد سے زائد نوجوان ہیں جب کہ نہایت قابل ذکر تعداد کم عمر بچوںکی بھی ہے۔ ہر گلی ، ہر محلّے اور علاقے میں موجود کیبنوں اور دکانوں پر سگریٹ باآسانی دستیاب ہیں اور 7 سال سے 12 سال تک کے بچوں کو بھی یہ ظالم سگریٹ فروخت کرنے سے بازنہیں آتے۔ دیگر ممالک میں کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے کے گھناو ¿نے فعل کا لوگ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اور نوجوانوں سے شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے اور عمر کے تعین کیا جاتا ہے کہ ان نوجوانوں کا تعلق ”ممنوعہ عمر“ سے تو نہیں، اس کے بعد ہی انہیں سگریٹ فروخت کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس معاملے میں مکمل ”لبرل ازم“ہے اور ہر کوئی آزاد ہے جس طرح سے چاہیے قانون اخلاق اور اقدار کی دھجیاں بکھیردے ۔ کوئی پوچھنے والا ، بازپرس کرنے والا نہیں، صرف کراچی میں گٹکے اور مین پوری کے 60 سے زائد کا رخانے ہیں جو پوری طرح کہ زہر تیار کرنے اور نوجوان نسل کو برباد کرنے میں آزاد ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت سے اسمگل ہو کر آنے والے جیم، گرو، اور اسی طرح کی نشہ آور اشیا ہر کیبن اور دکان پر باآسانی دستیاب ہیں۔

 یہ اشیا ملک بھر میں منہ، معدے اور جگر کے کینسر کے پھیلاو ¿ کا بڑا سبب ہیں۔ متعدد حکومتوں کے ادوار میں غیر مسلموں کے ناموں پر شراب کے بے شمار پرمٹ جاری کردیے گئے اور بہت ہی منظم طریقے سے مسلم نوجوانوں کوام الخبائث کا عادی بنایا جارہا ہے او رحکمران خاموش ہیں۔

پاکستان میں سالانہ 65 ارب سگریٹ تیار کیے جاتے ہیں جو ماہانہ 5ارب 41 کروڑ66 لاکھ 66 ہزار، یومیہ18کروڑ5 لاکھ 55 ہزار، فی گھنٹہ 75 لاکھ 23 ہزار128، فی منٹ ایک لاکھ25ہزار285 اور 2ہزار89 فی سیکنڈکی اوسط کا تناسب ہے۔ پاکستان میں سگریٹ تیار کرنے کی سالانہ گنجائش تباہ کن حد تک123 ارب سگریٹ سالانہ ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں غیر ملکی برانڈ کی سگریٹس درآمد اور اسمگل کی جارہی ہیں۔

سگریٹ کے علاوہ نوجوانوں میں فیشن اور اسٹیٹس سمبل(Status Symbol) کے نام پر شیشے کی لعنت بھی متعارف کروا کے انہیں برباد کیا جارہا ہے۔ شیشے کے عادی نوجوان پوش علاقوں اور پوش تعلیمی اداروں میں بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔ اس لعنت کو اس حد تک پھیلا یا گیا ہے کہ بعض پوش تعلیمی اداروں میں پرائمری کلاس کے بچے بھی اس لعنت میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ متوسط، زیریں متوسط اور غریب علاقوں میں چرس کا نشہ بھی عام ہوچکا ہے اور لاکھوں نوجوان اس موذی اور منحوس نشے کا شکار ہو کر خاندان اور معاشرے پر بوجھ بن چکے ہیں۔ ملک بھر میں کیبل اور سینماو ¿ں کے ذریعے بھارتی فلموں کی نمائش عام ہے، اس کے علاوہ مارکیٹیں میں بھارتی فلموں کی سی ڈیز بھی باآسانی دستیاب ہےں۔ بھارتی فلمیں بھی فحاشی وعریاتی کے علاوہ سگریٹ اور شراب نوشی کے فروغ کااہم سبب ہے۔

سگریٹ نوشی، شراب اور منشیات کے استعمال کے خلاف وسیع پیمانے پر بیداری کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا صحافی ، دانشور ، اساتذہ ، تعلیمی ادارے، فلاحی انجمنیں ، مذہبی وتبلیغی جماعتیں، علما ومشائخ ، ائمہ مساجد، ادیب، شعرا ، والدین طلبہ وطالبات کے مشاورتی ادارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص رینجرز کے ذریعے منشیات فرشوں کے خلاف متواتر کریک ڈاو ¿ن کیے جائیں۔ منشیات فروشوں کے خلاف انسداد دہشت گردی اور فوجی عدالتوں میں مقدمات قائم کرکے انہیں سزائے موت دی جائے۔ منشیات فروشی کو بدترین دہشت گردی کا درجہ دیا جائے کیوں کہ منشیات کی فروخت جرائم اور دہشت گردی کے فروغ کا اہم سبب ہے ۔ جن علاقوں میں نوجوانوں کو نشہ کرنے کی سہولتیں باآسانی مہیا ہوں اور نوجوانوں کی ٹولیاں نشہ کرتے ہوئے پائی جائیں ان علاقوں کے ایس ایچ اوز کو معطل کر کے گرفتار کیا جائے ۔ اور پورے تھانے کے خلاف کارروائی کی جائے۔ دکان داروں کو پابند بنایا جائے کہ وہ 12 سال سے کم عمر نوجوانوں کو سگریٹ ہر گز فروخت نہ کریں اور ایسا کرنے والے دکان داروں پر بھاری جرمانے کے علاوہ سخت سزا بھی دی جائے ۔ اسمبلی اس سلسلے میں ضروری قوانین سازی کر کے اس رجحان کو حوصلہ شکنی کرے۔ گٹکے اور مین پوری کے کارخانوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، اور ان کے مالکان کے خلاف سخت کارروائی کر کے اس کی تشہری کی جائے۔ دکانوں اور کیبن پر مین پوری گٹکے ، بھارتی نشہ آور اشیاجیم،گرو، وغیرہ کی فروخت پر پابندی عائد کر کے ان اشیاکو فروخت کرنے والے دکان داروں کے خلاف مو ¿ثر کارروائی کی جائے۔

اگر ہمیں اپنے نوجوانوں کے مستقبل کو بچانا ہے توانہیں منشیات اور سگریٹ نوشی سے چھٹکارا دلانا ہوگا اوراس کے لیے ہمیں بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام کو بہترکریں۔ نوجوانوں کو تعلیم کے حصول کی طرف راغب کریں، تعلیمی اداروں کو صنعت اور منافع کمانے کی جگہ کے بجائے حقیقی معنوں میں علمی درس گاہ بنائیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر خاموش تماشائی بنے رہے تو ہم اپنے ایٹمی اثاثوں سے زیادہ قیمتی”نوجوان نسل“سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

 

Facebook Comments