سابق خاتون اوّل بیگم کلثوم نواز کی وفات پر خواتین کااظہارِ افسوس

عشرت معین سیما

برلن جرمنی میںمقیم سفرنامہ نگار، معروف نثرنگار، شاعرہ او انگلش و جرمن کی مترجم

اچھی روایت ہے کہ ہمارے راہ نما سیاسی مخالفت کو بالائی طاق رکھتے ہوئے اس غم کے موقع پر

اپنا بہترین کردارادا کر تے ہوئے شریف خاندان سے اظہارِ تعزیت کر رہے ہیں

13 

شاید کہ نئی خاتونِ اوّل بھی اپنے منصب کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے خواتین کی فلاح و بہبود

کے لیے اہم نکات پہ غور کریں

 

سابق خاتونِ اوّل بیگم کلثوم نواز لندن کے ایک ہسپتال میں کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ کرتے ہوئے 11ستمبر کو وفات پا گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ بحیثیت مسلمان ہم پر بطورِ سنت رسول فرض ہے کہ ہمارا بد ترین دشمن جو مسلمان ہو،وہ بھی اگر مر جائے تو ا ±س کی مغفرت کی دعا کی جائے۔ سماجی طور پر بھی خاص روایت ہے کہ مرنے والی اگر عورت ہے تو اس کے کردار و عمل کے منفی پہلوو ¿ں پہ بھی پردہ رکھا جائے اور اس کی عزت کو مرنے کے بعد بھی داغدار نہ کیا جائے۔

بیگم کلثوم نواز کی رحلت پہ سیاسی اور سماجی حلقے کے ملے جلے تعزیتی پیغامات دیکھ کر ایک جانب دلی خوشی ہوئی کہ بحیثیت مسلمان سیاسی راہ نما سیاسی مخالفت کو بالائی طاق رکھتے ہوئے اس موقع پراپنا بہترین کردارادا کررہے ہیں اور شریف خاندان سے اظہارِ تعزیت کر رہے ہیں اور قانونی پابندیوں کے باوجود نواز شریف اور ان کی دختر مریم نواز کو خاص سہولتیں مہیا کررہے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات احترام و سکون سے ادا کی جائیں۔

 دوسری جانب کلثوم نواز کی موت پر ملے جلے ردِ عمل کا سوشل میڈیا پر جائزہ لیا جائے تو ایک افسوس ناک صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم ادیبہ سبین علی نے سوشل میڈیا پر بیگم کلثوم نواز کی وفات پر ملے جلے سیاسی تعزیتی پیغامات کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ “ یہ پدرسری سماج ہے جہاں ہر عورت کے حصے میں نام نہاد غیرت، پنچایتیں، ونی سوارہ ،کاری اور گالیوں کے القاب آئے ہیں۔ ہر طبقہ کی عورت نے اپنے اپنے حصے کی تلخیاں سمیٹی ہیں۔ سب سے باعزت عورت “ماں” کو بھی بیٹی پیدا کرنے پر زندگی میں کبھی نہ کبھی گالی سے لازمی واسطہ پڑتا ہے” سبین علی نے یقیناً اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ہمارے معاشرے کے مجموعی رویوں کو نشانہ بنایا ہے۔ جس معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ہوتی وہ معاشرہ نہ انسانی اقدار پر پورا اترتا ہے اور نہ مذہبی سطح پر قابل احترام ہوتا ہے۔

 یہ مانا کہ بیگم کلثوم نواز ہمارے اس معاشرے کی ہی ایک عورت تھیں جو ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کے روپ میں اپنی گھریلو ذمہ داری بہ احسن و خوبی نبھا گئیں۔ لیکن وہ اس پدر سری سماج کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے سابق نا اہل وزیر اعظم کی اہلیہ بھی تھیں۔ عوام کے حقوق کی ضبطی اور کرپشن کے حوالے سے سابق وزیراعظم کے کردہ اور نا کردہ گناہوں میں برابر کی شریک بھی تھیں اور بہت سی ا ±ن سماجی ذمہ داریوں کی پابند بھی تھیں جن کو نبھانے کے لیے وہ عملی زندگی میں اتنی متحرک نہ ہوسکیں جتنا دورانِ منصب وہ ہوسکتی تھیں۔ ہمارے معاشرے کی عورت پہ گھریلو ذمہ داریاں اتنی زیادہ با آور ہوتی ہیں کہ چاہے وہ خود کسی عہدے پر ہو یا اس کا شوہر وہ اپنے خاندان کی پرورش اور دیکھ بھال میں اپنی ملکی و سماجی ذمہ داری کو ثانوی درجہ دے کر پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ اپنا ملک جو اس کا گھر ہی ہوتاہے اور اس میں بسنے والے عوام جن کی وہ مادرِ ملت کہلاتی ہے ا ±ن کے حقوق بھی فراموش کر دیتی ہے حتیٰ کہ قوم کے نسائی حلقے کی ا ±میدیں جو ا ±س سے وابستہ ہوتی ہیں وہ بھی ا ±س سے نظرانداز ہوجاتی ہیں۔ جس ملک میں مائیں علاج و دواو ¿ں کی عدم دستیابی، غربت اور اپنے نفس و ناموس کی حفاظت کی تگ و دو میں جان دے دیتی ہیں وہ بھی آج لندن کے جدید علاج و معالجہ کے ہسپتال میں طبعی موت مرنے والی بیگم کلثوم نواز کے لیے اشک بار ہیں اور ان کی مغفرت کے لیے دعا کر رہی ہیں اور اپنی ہمدردی کا اظہار شریف خاندان کے افراد کے ساتھ کر رہی ہیں جو اس پدر سری معاشرے میں کوئی تبدیلی نہ لاسکے آج ایک بیٹی اپنی ماں کے جنازے میں شامل ہونے کے لیے جیل سے دعائیں کر رہی ہے۔ پاکستان کی ہر عورت آج ا ±س بیٹی کے غم میں شریک ہے۔ جس سماج میں یہ عام کہا جاتا ہے کہ “ عورت ہی عورت کی دشمن ہے” وہاں یہ بات بھی آج ثابت ہورہی ہے کہ ایک عورت ہی دوسری عورت کا دکھ بھی سمجھ سکتی ہے چاہے وہ اس کی سیاسی و سماجی دشمن ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس معاشرے میں عورت ہی عورت کو احترام دے تو ایک روز یہ پدر سری معاشرہ اپنی ہیت بدل لے

شاید کہ نئی خاتونِ اوّل بھی اپنے منصب کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اہم نکات پہ غور کریں

Facebook Comments