عائشہ بیگ عاشی کے یومِ پیدائش 13ستمبر پر ان کے کلام کی اشاعت کا تحفہ خاص

خوشہ شاعری

 

عائشہ بیگ عاشی 

مثلِ دریا یہ جو چڑھتا ہے اُتر جاتا ہے
وقت اچھا ہو بُرا ہو یہ گزر جاتا ہے

آنکھ سے اشک بلا وجہ نہیں بہتے ہیں
حد گزر جانے سے برتن بھی تو بھر جاتا ہے
۔۔۔۔۔
خمارِ عشق رکوع و سجود میں موجود
سبھی حدود سے باہر حدود میں موجود

14034706_10210241049082554_7531078922767741378_n

میرے خیال مری سوچ میں تصور میں
رہینِ روح ہے لیکن وجود میں موجود
۔۔۔۔۔۔
بس اپنی ذات پہ منہائی کا عمل رکھا
جُڑا ہوا ہے تبھی میرا خانداں اب تک
۔۔۔۔۔
اشک بن کر اُبل رہے ہو تُم
میری آنکھوں میں جل رہے ہو تُم

تُم سویرا ہو زندگی کا مری
شام میں کیسے ڈھل رہے ہو تُم

دل میں آتش فشانِ الفت ہے
اور اُس سے نکل رہے ہو تُم

Facebook Comments