عاشورہ کی تاریخی اہمیت رمضان کے بعد یوم عاشور کے روزے کی بڑی فضیلت ہے

 ”امید ہے کہ یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔ “ ( حدیث مسلم شریف 1162)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا

 ”جس شخص نے عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پرخرچ میں فراخی کی تو اللہ تعالیٰ تمام سال اس کے رزق میں فراخی فرمادے گا۔“

عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنا اور اس کے ساتھ ایک روزہ نویں یا گیارہویں محرم کا شامل کر لینا

 گھر میں روزانہ کے معمول کے مقابلے میں کھانے کے دسترخون پر اپنی حیثیت کے مطابق کشادگی

اور فراخی پیدا کرنا اور اللہ سے امید رکھنا کہ وہ ان نیکیوں اوراروزوں کی برکت پورے سال برقرار رکھے گا

مرتب : زہرہ سلیم

 

عاشور یا یوم عاشورہ کیا ہے؟

 یوم عاشورہ اسلامی تقویم کے مہینے محرم الحرام کے دسویں دن کو کہا جاتا ہے۔محرم کی دسویں تاریخ کانام” یوم عاشورہ“ اسلام سے پہلے ہی چلا آ رہا ہے۔ لغت کی کتابوں میں یہ نام چار انداز سے ملتا ہے۔ عشوریٰ، عاشور، عاشورہ ، عاشوریٰ، لیکن اردو میں ” عاشورہ“ لکھا گیا ہے۔

 اس دن کی فضیلت پر شیعہ اور سنی سمیت کسی بھی مسلک کے مسلمانوں کو اختلاف نہیں ہے۔ سب مسلمان نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حسین ابن علیؓ کی شہادت کو مختلف طریقوں سے یاد کرتے ہیں۔ شہادت کے واقعے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا، اہل سنت اور اہل تشیع سمیت تمام مسلمان متفق ہیں۔

یوم عاشو کا تاریخی پس منظر اور اہمیت

محرم الحرام کی10 تاریخ یعنی یوم عاشورہ کو تاریخ اسلامی کاوہ دردناک سانحہ پیش آیاجس میں نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓ کی شہادت ہو گئی۔ چونکہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک تھا، سارے عالم اسلام میں اس کی مذمت ہوئی اور بعد میں یہ سانحہ ایک استعارہ بن گیا۔ عوام الناس میں 10 محرم سے مراد حضرت امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ ہی لیا جاتا ہے اور اس دن کی قدیم تاریخی اور مذہبی حیثیت کو کم یاد کیا جاتا ہے۔ جب کہ یوم عاشور یعنی 10محرم الحرا م زمانہ اسلام سے قبل ہی قریشِ مکہ کے ہاں بڑی اہمیت کاحامل رہا ہے ، اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے۔ اس دن سے متعلق سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تعظیم و توقیر کے نہ صرف قریش بلکہ تمام اہل مکہ قائل تھے۔ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی یہ دستور رہا ہے کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے، ان کاموں میں آپ ان سے اتفاق واشتراک فرماتے تھے، اسی بنا پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے اور اپنے اس اصول کی بنا پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں یہود کو بھی آپ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان کی یہ روایت پہنچی کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے، جس میں حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی تو آپ نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا۔

Yom Aashor2 222

تار یخ میں یوم عاشور پر رونما ہونے والے اہم واقعات

تاریخی کتب میں ایسے بے شمار اہم ترین اور عظیم واقعات ملتے ہیں جو عاشور کے دن رونما ہوئے ، ان میں سے چندواقعات درج ذیل ہیں۔

٭ یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم کو پیدا کیاگیا٭ اسی دن حضرت آدمؑ کی توبہ قبول ہوئی٭ اسی دن حضرت ادریس ؑ کو آسمان پر اٹھایا گیا٭ اس روز حضرت نوحؑ کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی٭ اسی دن حضرت ابراہیمؑ کو”خلیل اللہ“ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی٭ اسی دن حضرت اسماعیلؑ کی پیدائش ہوئی٭ اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کنعان کے کنویں سے نکالے گئے،اس روز حضرت یوسفؑ کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی٭اسی دن حضرت یوسفؑ کی حضرت یعقوب ؑ سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی٭ اور اسی دن حضرت حضرت یعقوب علیہ السلام مشہور مرض سے صحت یاب ہوئے٭ ا سی دن حضرت موسی ٰعلیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی تھی‘ اور فرعون غرق ہوا تھا، اورحضرت موسیٰ اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی٭اسی دن حضرت موسیٰ پر توریت نازل ہوئی٭اس دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک عطا ہوا اور اسی دن ان کو بادشاہت واپس ملی ٭ اسی دن حضرت ایوبؑ کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی٭ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کو چالیس روز بعد مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی ٭اور اسی دن ان کی امت کا قصور معاف ہواور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا٭ اسی دن حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی٭ اور اسی دن حضرت عیسیٰ کو یہودیوں کے شر سے نجات دلاکر آسمان پر اٹھایاگیا٭ اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی٭سی دن قریش خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے٭ اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجة الکبریٰ ؓ سے نکاح فرمایا٭اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہ ¿ رسول جگر گوشہ بتول کو میدانِ کربلا میں شہید کیا٭ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ ”خصائل نبوی شرح شمائل ترمذی“ صفحہ 180 (نزہة المجالس ۱/۳۴۷، ۳۴۸، معارف القرآن پ ۱۱ آیت ۹۸۔ معارف الحدیث ۴/۱۶۸)

پورے ماہ محرم الحرا م کی فضیلت

مذکورہ بالا واقعات سے تو یوم عاشورہ کی خصوصی اہمیت کا پتہ چلتا ہی ہے، علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس دن کی متعدد فضیلتیں وارد ہیں۔حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشورہ کے اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :روزہ کے سلسلے میں کسی بھی دن کو کسی دن پر فضیلت حاصل نہیں۔مگر ماہِ رمضان المبارک کو اور یوم عاشورہ کو کہ ان کو دوسرے دنوں پر فضیلت حاصل ہے۔حضرت ابوقتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ عاشورہ کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ (ابن ماجہ کی ایک روایت میں ”السنة التی بعدہا“ کے الفاظ ہیں) کذا فی الترغیب۲/۱۱۵)ان احادیث شریف سے ظاہر ہے کہ یوم عاشور بہت ہی عظمت وتقدس کا حامل ہے ۔ یوم عاشور کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے؛

ماہ محرم الحرام کو تقدس حاصل ہونے کے 4اسباب

 چار وجوہ سے اس ماہ کو تقدس حاصل ہےں۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ احادیث شریف میں اس ماہ کی فضیلت وارد ہوئی ہے؛ چنانچہ حضرت علیؓ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ ماہ رمضان المبارک کے بعد کون سے مہینے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، تو آپ نے جواب دیا تھا کہ ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم الحرام کا ہے۔ اسی طرح ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا: جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔

مندرجہ بالا احادیث شریف سے دوسری وجہ یہ معلوم ہوئی کہ یہ ”شہر اللہ“ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا مہینہ ہے اور اس ماہ کی اللہ کی طرف سے خصوصی عظمت وفضیلت ثابت ہوتی ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ ”اشہر حرم“ یعنی ان چار مہینوں میں سے ہے کہ جن کو دوسرے مہینوں پر ایک خاص مقام حاصل ہے، وہ چار مہینے یہ ہیں: (۱) ذیقعدہ (۲) ذی الحجہ (۳) محرم الحرام (۴) رجب (بخاری شریف ۱/۲۳۴، مسلم ۲/۶۰)۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ اسلامی سال کی ابتدا اسی مہینے سے ہے۔چنانچہ امام غزالی لکھتے ہیں کہ ”ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے سے سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس لیے اسے نیکیوں سے معمور کرنا چاہیے اور خداوند قدوس سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ ان روزوں کی برکت پورے سال برقرار رکھے گا۔ دوسری طرف یوم عاشورہ کے دن واقع ہونے والے اسلامی تاریخ کا المناک سانحہ “سانحہ کربلا ” بھی اسی دن وقوع پذیر ہوا ، جس میں نواسہ رسول امام عالی مقام سیدنا حسین ابن ابی طالب مع اپنے اہل بیعت کے میدان کربلا میں دین محمدی کے تحفظ اور تقدس کی خاطر حاضر ہوئے،اور اسلام کے علم کو بلند کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کرکے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

یوم عاشورہ کی فضیلت

 حضرت امام حسینؓ کی شہادت بلا شبہ بہت بڑا واقعہ تھا۔امت اسلامیہ اس کا ذخم ابھی تک نہیں بھول پائی ہے لیکن عاشورہ محرم یعنی محرم کی دس تاریخ کی مذہبی اور اسلامی فضیلت اس واقعہ سے پہلے سے تھی۔ دراصل یوم عاشورہ روزہ رکھنے کا دن ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے قبل عاشورہ کا روزہ ہی رکھا جاتا تھا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے پہلے بھی اور ہجرت کے بعدبھی عاشورہ کا روزہ ہمیشہ رکھا۔رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے کے بعدعاشورہ کے روزے کی فرضیت تو ختم ہو گئی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کا روزہ پابندی سے رکھتے رہے۔اس طرح عاشورہ کا اللہ کے رسول کی دائمی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے روزے کا اہتمام اسی طرح کرتے تھے جس طرح رمضان کے روزوں کا اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓکی ایک روایت امام بخاریؒ نے نقل فرمائی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنوں میں عاشورہ اور مہینوں میں رمضان المبارک کے روزے کو سب سے زیادہ اہتمام کے ساتھ رکھتے ہوئے دیکھا۔“ (بخاری، حدیث 1867)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی طریقہ ہو نا اس بات کے لیے کافی ہے کہ مسلمان اس کا اہتمام کریں۔یہی اس کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔تا ہم احادیث میں اس دن کے روزے اور فضیلت بھی وارد ہو ئی۔ مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ”امید ہے کہ یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے۔“ (مسلم 1162) اس لیے اس دن خصوصی اہتمام کے ساتھ روزہ رکھنا چاہیے۔

یوم عاشورہ کی تاریخی فضیلت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دریائے قلزم پار کروایا اور فرعون کو غرق کر دیاتو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے شکرانہ کے طور پر عاشورہ کے دن روزہ رکھاتھا۔ اس لیے یہودی بھی عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔جب رسول اللہ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور کسی موقع پر آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے ان سے دریافت کیا کہ تم یہ روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انھوں نے بتایا کہ جب اللہ تعالی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کوفرعون کے عذاب سے نجات دلائی تو حضرت موسیٰ نے شکریہ کے طور پر آج کا روزہ رکھا۔اس لیے ہم بھی آج کا روزہ رکھتے ہیں۔ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ ہم موسیٰ کی روایت پر عمل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے آپ نے صحابہ کرام کو اس روزہ کا اہتمام کرنے کی ترغیب دی۔

عام طور پر واعظین وغیرہ اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کا روزہ مدینہ میں آنے کے بعد رکھنا شروع کیا ہو۔ یعنی حضرت موسیٰ کی اتباع میں یہود کے طرز عمل کو دیکھ کر شروع کیا ہو لیکن یہ درست نہیں ہے۔ رسول اللہ اور صحابہ کرام مکہ میں بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے بلکہ قریش یعنی مشرکین مکہ بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزے کا باضابطہ حکم فرمایا اور مدینہ میں اور اطراف میں سارے مسلمان اس روزے کا اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہو گئے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے روزے کو اختیاری بنا دیا، جو چاہے رکھے اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔ (بخاری 2001) البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اہتمام کے ساتھ رکھتے رہے اور اس دن کے روزے کا خصوصی اہتمام فرماتے رہے۔

 خلاصہ : یوم عاشور پر یہ دو کام ضرور کریں

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا جس شخص نے عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پرخرچ میں فراخی کی تو اللہ تعالیٰ تمام سال اس کے رزق میں فراخی فرمادے گا۔“

 ارشاد نبوی سے معلوم ہوا کہ دسویں محرم کا تعلق اسلامی تعلیمات سے بہت گہرا ہے اور یہ دن ہر مسلمان کے لیے ارشادات نبویہ کے مطابق قابل احترام ہے۔خلاصہ یہ کہ اس دن مسلمانوں کے لیے دو کام مستحب ہیں۔

(۱) عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنا اور اس کے ساتھ ایک روزہ نویں یا گیارہویں محرم کا شامل کر لینا۔

(2) گھر میں روزانہ کے معمول کے مقابلے میں کھانے کے دسترخون پر اپنی حیثیت کے مطابق کشادگی اور فراخی پیدا کرنا اور اس سلسلہ میں مذکورہ حدیث کی روح کو مد نظرر کھنا۔اللہ رب العزت ہم سب کو یوم عاشور کی برکتیں عطا فرمائے۔

احتیاط کی ضرورت

عبادات میں جتنی عبادت مشروع ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اتنی ہی کرنا عین اتباع رسول ہے۔ اس میں کمی یا زیادتی کرنا نفس کی اتباع ہے۔ اس لیے عاشورہ محرم کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ نے اس دن روزہ رکھا، ہم بھی روزہ رکھیں۔ اور یہ امید کریں کہ اس کے ذریعہ ہمارے گناہ معاف ہوں گے۔ اور اس طرح ہم اس تاریخی روایت سے بھی وابستہ ہو جائیں گے جو حضرت موسیٰ سے آج تک چلی آ رہی ہے۔ یعنی اسی دن بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات ملی۔گویا یہ دن استعارہ ہے مظلوم کی نصرت کا۔اللہ تعالی ہم کو عاشورہ کا اسی طرح اہتمام کر نے کی توفیق نصیب فرمائے جیسا اہتمام اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے کرایا۔

عظمت و فلسفہ شہادت امام حسین

 آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں آرزوئے شہادت اپنے کمال پر تھی۔ آپ اللہ کے حضور دست بہ دعا رہتے اور فرماتے کہ میری شدید آرزو ہے کہ میں اللہ کی راہ میں شہید کردیا جاﺅں، پھر زندہ کیا جاﺅں پھر شہید کیا جاﺅں۔ اسی طرح اللہ کی راہ میں جان ملتی رہے اور میں جان دیتا رہوں۔ گویا آقائے دوجہاں نے ظاہری حیات میں اپنی شہادت کی آرزو اتنی شدت سے کی اور اس کا اظہار کیا جس سے یہ ثابت ہوا کہ جوہر شہادت حضور میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا تھا لیکن ظاہری شہادت ممکن نہ تھی، اگر کوئی بدبخت حضور کو شہید کردیتا تو ارشادِ خداوندی کی تکذیب ہوجاتی۔

اس آرزوئے شہادت کی ابتدا حضور کی زندگی میں غزوہ احد میں ہوئی جب حضور پر سنگ زنی کی گئی۔ شہادت کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ دشمن اپنے ہتھیار سے حملہ آور ہو اور انسان زخمی ہوجائے اور اس کے جسم سے خون بہنے لگے اور آخری شکل یہ ہے کہ اس شہادت میں موت واقع ہوجائے۔ میدان احد میں دشمن نے حضورپر نیزے سے بھی حملہ کیا اور پتھروں سے بھی جس سے دندان مبارک شہید ہوئے اور رخسارِ مبارک سے خون بھی بہا۔ تو ہیئت شہادت کی چار شکلوں میں تین پوری ہوگئیں۔ دشمن کا حملہ، رخساروں کا زخمی ہونا اور خون بہنا ،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غشی کی حالت طاری ہوگئی جس سے دشمنوں کو یہ افواہ اڑانے کا موقع بھی ملا کہ حضور شہید ہوگئے۔ یہ محض افواہ ہی رہی اور اب صرف شہادت یعنی چوتھی شرط انتہائے شہادت کی باقی رہ گئی۔

 اس انتہائے شہادت کی تکمیل کے لیے حضرت امام حسینؓ کو منتخب کیا گیا۔ جو شبیہ مصطفی بنائے گئے ۔ احادیث مبارکہ میں کثرت سے مذکور ہے اور تاریخی کتب میں بھی حضور کا یہ فرمان ملتا ہے کہ حسین مجھ سے ہے۔ اب جز اپنے کل اور بیٹا اپنے باپ سے ہوتا ہے مگر حضور کا یہ فرمان کہ میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہے، اس کے کیا معنی ہیں اور مصطفی کیسے حسین ہوگئے ؟ حسین مجھ سے ہے ،اس کے معنی یہ ہیں کہ حسین کے اندرپائی جانے والی عظمت کا منبع میں ہوں۔ حسینؓ کے اندر جو حسن و جمال کمال اور کرامت ہے اس کا مصدر اور سرچشمہ میں ہوں۔ میں حسینؓ ہوں کے معنی یہ ہے کہ حسین نے مجھ سے کمال لیا ہے میری سیرت کے ایک باب کی تکمیل جو ابھی باقی ہے وہ حسین کی شہادت سے مکمل ہوگی اور اس طرح میری سیرت کا وہ باب بھی مکمل ہوجائے گا جوظاہری شہادت نہ ہونے کی وجہ سے تشنہ تکمیل ہے۔ گویا میری شہادت کا ظہور عملی صورت میں شہادتِ حسین سے ہوگا۔

اسی طرح شہادت حسین سے چاروں شرطیں پوری ہوگئیں اور آخری شکل جو وفات کی صورت میں ہونا باقی تھی وہ بھی مکمل ہوگئی۔ اللہ رب العزت نے امام حسینؓ کو شبیہ مصطفیٰ بنا کر جس شہادت کی ابتدا میدان احد سے کی اس کی تکمیل میدان کربلا میں کردی۔ شہادت حسین کا اعلان خود رسول اسلام نے اپنی زبان مبارک سے کردیا۔شہادت حسین کا جو باب کربلا کی زمین پر رقم ہوا اس سے سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ باب جو ابھی نا مکمل تھا تکمیل پذیر ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ شہادت امام حسین کو ابدالاباد تک موجود رہنے والی شہرت اور دوام نصیب ہوا۔

Facebook Comments