کراچی میں بچے کا اغوا، مظاہرین پر پولیس کی شیلنگ

مظاہرین کاپولیس پرپتھرائو،مظاہرین کومنشرکرنےکیلئے پولیس کی ہوائی فائرنگ

شخصیات ویب ڈیسک

کراچی،نیو کراچی کی بلال کالونی میں 6سالہ بچے حذیفہ کے مبینہ اغواء کے بعد علاقے میں احتجاج شروع ہو گیا جو پچھلے کئی گھنٹوں سے جاری ہے۔مشتعل مظاہرین نے ٹائرجلا کرسڑکیں بلاک کر دیں اوراطراف کی دکانیں بھی بند کرا دیں جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسوگیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ایس پی نیو کراچی شبیر بلوچ معاملے کو سنبھالنے اور مظاہرین سے مذاکرات کیلئے پہنچے تو مظاہرین نے انکی گاڑی کا گھیراؤ کرلیا اورانکے ساتھ آنے والی پولیس موبائل پربھی شدید پتھراؤ کیا جس سے پولیس پارٹی علاقے سے نکلنے پرمجبورہوگئی۔ایس پی نیو کراچی شبیر بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ بچہ کیسے غائب ہوا،پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اورتفتیش کے مختلف پہلوؤں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد بار مظاہرین سے بات چیت کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانے بلکہ مظاہرین کے پتھراؤ سے کچھ اہلکار زخمی بھی ہوگئے جس کی وجہ سے انہیں منتشر کرنے کیلئے شیلنگ کی گئی۔ شبیر بلوچ نے دعویٰ کیا کہ بچے کے والدین احتجاج میں شامل ہی نہیں تھے بلکہ کچھ لوگ احتجاج کو پرتشدد بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔واقعے کی اطلاع ملنے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنرکراچی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں سے بچے کے اغوا کے پیچھے محرکات کے بارے میں سوال کرتے ہوئے پولیس اورضلعی انتظامیہ کو بچے کی بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

Facebook Comments