جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی، نااہلی برقرار

جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی، نااہلی برقرار

جہانگیرترین کے وکیل سے چیف جسٹس کا استفسار کیا آپ نے سنا ہے کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا تھپڑ کہاں مارنا چاہیے
چیف جسٹس نےکہاجودستاویزآپ سےپہلےمانگ رہےتھے، وہ بعد میں ملی توکیانظرثانی کا جوازہے؟
جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی، نااہلی برقرار
شخصیات ویب ڈیسک
اسلام آباد: جہانگیرترین کی نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ ؔف پاکستان نے مسترد کردی اور نااہلی کا فیصلہ برقرار رکھا, چیف جسٹس نےکہاجودستاویزآپ سےپہلےمانگ رہےتھے، وہ بعد میں ملی توکیانظرثانی کا جوازہے؟ اس موقع پر جہانگیرترین کے وکیل نے مؤقف پیش کیا کہ شائنی ویو کمپنی جہانگیر ترین نے نہیں ایچ ایس بی سی ٹرسٹ نے بنائی اور قانون کے تحت ٹرسٹ قائم کیا گیاجس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ٹرسٹ کو کمپنی کس نے بنایا ہو گا، کمپنی جہانگیر ترین نے بنائی اور گھر کا نقشہ اور تعمیرات جہانگیر ترین نے ہی کروائی، جہانگیر ترین کو دستاویزات دینے کے لیے کئی مواقع دئیے ۔
وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ تمام دستاویزات ٹرسٹ کے پاس تھیں،عدالت کے سامنے نئے دستاویزات رکھ رہا ہوں،جس پر چیف جسٹس نے جہانگیر ترین کے وکیل کو کہا کہ ہم کیس کی دوبارہ سماعت نہیں کر رہے،آپ اب دستاویزات دے رہے ہیں، عدالت مانگتی رہی لیکن فراہم نہ کی گئیں اورٹرسٹ ڈیڈ بھی آخر میں فراہم کی گئی،کیا آپ نے سنا ہے کہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا تھپڑ کہاں مارنا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا اب لہر یہ ہے کہ لیڈر پیسہ ملک میں لائیں، باہر سے پیسہ ملک میں لایا جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے موکل اتنے بڑے لیڈر ہیں کبھی انہوں نے سوچا کہ یہ پیسہ ملک میں واپس آنا چاہیے، جب فیصلہ پڑھ رہا تھا تو آپ نے کمپنی اورشیئربھی خریدے،کوئی عوامی عہدے دار ایسی مشکوک ٹرانزکشن کیسے کرسکتاہے۔سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جہانگیر ترین کو تاحیات نااہل قرار دینے کا دسمبر2017 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست مسترد کردی۔

Facebook Comments