شمع محبت کی لو سے صحرا میں پھول کھل اٹھیں گے۔۔۔۔ افسانہ : شہلا شہناز

محبت شہلا شہناز کا تعارف ہے۔ شہلا شہناز معروف شاعرہ، کہانی نویس افسانہ وناول نگار ہیں۔ وہ انسان دوست اورسماجی کارکن بھی ہیں اور لوگوں کی فلاح کے لیے کام کرتی رہتی ہیں۔ زیرنظر افسانہ ’’ شمع محبت کی لو سے صحرا میں پھول کھل اٹھیں گے ‘‘ ان کی سوچ کا مظہر ہے۔ وہ اپنے حصے کی شمع جلاتی اور لوگوں میں تعلیم ، ادب تہذیب اور رشتوں‌کی اہمیت اجاگر کرتی رہتی ہیں۔

٭٭٭

افسانہ

میری کیفیت بڑی متضا د تھی، خوشی  تھی ، خوف بھی، اندیشے بھی ڈرا رہے تھے

شوہر سے ملنے کا سرور بھی ذہن میں خمار بن کر چھا رہا تھا

 

لگتا جیسے میں کوئی پری ہوں اور کھنڈرات میں قید ہو گئی ہوں

 شاید کبھی اس کھنڈر حویلی میں محبت ساتوں رنگ لیے

اڑتی، ڈولتی، بہتی، کھلتی، مہکتی، دہکتی، بہکتی، سسکتی، چمکتی اور چہکتی ہو گی

گھروالوں کی عدم توجہ سے ریشماں کی شخصیت دوالگ راستوں پراستوار ہورہی تھی

مجھے لگا وہ کہیں راستے میں دم توڑ جائے گی اور اس کی شخصیت مسخ ہوجائے گی

 میں نے اسی لمحے ارادہ کر لیا کہ میں ان میں تعلیم اوررشتوں کی اہمیت اجاگر کروں گی

  اپنے حصے کی شمع ضرور جلاﺅں گی، مجھے یقین تھا
شمع محبت کی لو صحرا میں پھول کھلا دے گی

رمضان المبارک سے ایک یا دو دن پہلے کا ذکر ہے جب میں شوہر کے ساتھ عیدالفطر منانے گوجرہ کے لیے روانہ ہوئی۔ یہ نام اس سے پہلے بس کتابوں میں ہی پڑھا تھا، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ایک دن اس شہر میں رہنا ہو گا۔ میرے لیے یہ مسحور کن بات تھی کہ اب میں شوہر کے ساتھ ہی رہوں گی، میرے شوہر وہاں اپنے بھائی کے پاس رہائش اختیار کر چکے تھے، انہوں نے مجھے بلایا تھا ، مجھے یہ خوف تھا کہ اجنبی لوگوں میں کیسے رہوں گی پتہ نہیں وہ لوگ کیسے ہوں، سادہ دیہاتی لوگ تھے، ان میں تعلیم کا فقدان بھی تھا۔ پتہ نہیں وہ کیسے ہوں گے۔

لاہور سے ڈائیوو بس پر سوار ہوئی، گاڑی پر سوار ہونے کی دعا پڑھی اور بس ہوسٹس سے بھی سنی جو مائیک میں سنا رہی تھی۔ سفر شروع ہو گیا، خوشی اور ان جانے خوف کی ملی جلی کیفیت تھی، بس کی کھڑکی سے باہر کا منظر یوں دکھائی دے رہا تھا، جیسے بس نہیں درخت بھاگ رہے ہوں۔ میری سوچیں منتشر ہونے لگیں ،اگر کل رمضان کا چاند ہوگیا تو مانو آج چاند رات ہو گی، کہیں مجھے پہنچتے پہنچتے شام نہ ہو جائے، کافی عرصے بعد جب ان سے سامنا ہو گا تو….!!!

کیونکہ بار بار ان کے بلانے کے باوجود میں گوجرہ میں رہنے پر آمادہ نہ ہوئی تھی۔ اچانک مجھے پروین شاکر کی غزل کا مطلع یاد آگیا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

میں اس شعر کی سرشاری میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک ایک آواز نے میری سوچ کے دھارے کا رخ بدل دیا۔ ” آپ کون سا مشروب پسند کریں گی“ ہوسٹس پوچھ رہی تھی، وہ چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے کھڑی تھی۔

” ہاں سادہ پانی دیجئے “ اتھل پتھل سانسوں کو بحال کرنے کے لیے میںنے لمبی سانس خارج کی اور ہوسٹس سے گلاس لے کر پانی کا لمبا گھونٹ پی کر فشار خون کو نارمل کیا۔ ایک نظر باہر کا نظارہ کیا اور پھر ہیڈ فون کانوں پر لگا لیا۔ رسیور سے نصرت فتح علی خان کی مدھر آواز ابھری،

”اب کیا سوچیں کیا ہونا ہے جو ہو گا اچھا ہو گا“

گیت کے بول میرے اندر کی کیفیت سے مدغم ہورہے تھے۔

شہلا شہناز

شہلا شہناز

فیصل آباد شہر میں گاڑی داخل ہوئی، دل میں درد کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یہ میرا شہر میرا ٹھکانہ تھا۔ میرا آبائی شہر

گاڑی سرگودھا روڈ پر رواں دواں تھی۔ جب میرے کالج اور پھر میرے گھر کی گلی کے سامنے سے گاڑی گزری تو آنکھوں میں دو ستارے جھلملا گئے،لاری اڈے کے سامنے سے گزرتے ہوئے دور سے لاری اڈے کے پیچھے واقع شہر خموشاں کے درخت نظر آئے ،آنکھیں کچھ ڈھونڈنے لگیں ، وہاں بسے کتنے ہی پیاروں کی صورتیں نظروں میں گھوم گئیں، آنکھوں سے بے اختیار آنسوﺅں کی لڑی ٹوٹی جنھیں اپنے آنچل میں جذب کرکے میں نے ان سب کے لیے خاموشی سے دعا مانگی۔ میری نظریں شہرخموشاں کی طرف تک رہی تھیں لیکن ذہن میں گھر کی گلی گھوم رہی تھی اور خیالوں میں ماضی کی تصویریں ابھر رہی تھیں۔

وہ گھرہم بہن بھائیوں کاسائبان اور اس ماں کا سہارا تھا ،ماں جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھی۔ زندگی کی مشکلات اٹھا کر ہمیں اپنے پاﺅں پر کھڑا کرکے اماں تھک کراب وہاں بابا جانی کے ساتھ گہری نیند سو رہی تھیں۔ دل سے آہ نکلی، اماں، بابا جانی کاش میں آپ سے مل سکتی، کاش آج اس شہر میں آپ بانہیں کھولے میرا انتظار کر رہے ہوتے اور میرے سارے دکھ مجھے سینے سے لگا کر اپنے اندر اتار لیتے۔ میں خیالوں میں اپنے پیاروں سے مل رہی تھی کہ جانے کیا ہوا کہ میں چونک کر اپنے خیالوں سے باہر نکل آئی اوریوں ایک بار پھر ان سے جد ا ہوگئی۔ میں دل گرفتہ ہوئی، میری نظریں شہر خموشاں سے خالی لوٹ آئیں۔

گاڑی کب ٹرمینل پر پہنچی پتہ ہی نہ چلا میں بھی بوجھل قدموں سے نیچے اتر گئی۔ ٹرمینل ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی تھا۔ دوبارہ گاڑی پر سوار ہونے کے بجائے ریلوے اسٹیشن کی طرف بڑھ گئی کیونکہ جہاں مجھے جانا تھا وہ گھر گوجرہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ہی تھا۔اسٹیشن پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ پاکستان ریل گاڑی آدھا گھنٹہ لیٹ ہے، دوپہر ایک بجے کے بجائے اڑھائی بجے پہنچے گی۔ گاڑی آنے میں ابھی کافی وقت تھا۔ میں آرام سے بینچ پر بیٹھ گئی۔ مجھے چائے کی طلب محسوس ہونے لگی۔ وہاں موجود ایک عورت شاید کافی دیر سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس نے میرے قریب آ کر پوچھا۔” آپ کو کہاں جانا ہے؟ “

”گوجرہ “ میں نے بتایا

” میں یہاں پلیٹ فارم پر جھاڑو لگاتی ہوں۔ “ وہ بولی۔ ”40 سال ہوگئے کام کرتے ہوئے“ .

میں نے اس سے چائے منگوائی ، ایک پیالی اسے بھی دی۔ وہ اپنے بارے میں مجھے بتاتی اور میرے ساتھ باتیں کرتی رہی۔ جب میری چائے ختم ہوئی اسی وقت اناو ¿نسمنٹ کی آواز گونجی، ”گوجرہ جانے والے مسافر الرٹ ہو جائیں ا “

پھر سیٹی بجاتی ریل گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچ گئی۔ میں اس پر سوار ہو گئی ،گاڑی کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، اپنا سیٹ نمبر تلاش کر کے میں اپنی جگہ پر بیٹھ گئی، گاڑی نے سٹی بجائی اور چل پڑی۔

گاڑی جوں جوں آگے بڑھ رہی تھی میرے دل کی دھڑکن بھی تیز ہوتی جا رہی تھی۔ میری کیفیت بڑی متضا د تھی، خوشی بھی تھی ، خوف بھی، اندیشے بھی ڈرا راہے تھے تو شوہر سے ملنے کا سرور بھی ذہن میں خمار بن کر چھا رہا تھا۔ میں اندر سے ہولے ہولے لرزرہی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ریل اپنی پٹری پر سست روی سے پلیٹ فارم میں داخل ہوئی، میں کھڑکی میں سے باہر ہی دیکھ رہی تھی کہ مجھے کون لینے آیا ہے۔

میری نظر اعزاز کی نظر سے ٹکرائی، میں تو پہلے ہی متضاد کیفیت سے دوچار تھی، نظروں کے اس تصادم نے مجھے جذباتی ہیجان میں مبتلا کردیا اور میں خود سے بے گانہ ہوگئی، جانے کتنی دیر میں گم سم رہی میرے ہاتھ میں پکڑا ٹکٹ کہیں گر گیا، مجھے کچھ ہوش نہیں تھا۔ اعزاز نے مجھے دیکھ لیا اور ریل گاڑی سے نیچے اترنے میں میری مدد کی، میرے ہاتھ سے سفری بیگ انھوں نے لے لیا اورپوچھا ،”پریشان کیوں ہو؟ “

میں نے عجلت میں کہا کہ ٹکٹ کھو گیا ہے تو وہ مسکرا کر بولے،فکر نہ کرو، آ جاﺅ اس پٹری کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ، چند قدموں کے فاصلے پر ہی تو گھر ہے۔

ہم دونوں خاموشی سے ریل کی پٹری کے ساتھ چلتے رہے جونہی ریل گاڑی ہمارے پاس سے اپنا 10 منٹ کا وقفہ پورا کر کے گزری تب ہی ہم دائیں طرف کچے راستے پر مڑ گئے۔ پگڈنڈی پر چلتے ہوئے کیکر کے درخت سے ایک کانٹا میرے ہاتھ میں چبھ گیا۔ درد سے میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ بے ساختہ وہ وقت یاد آ گیا جب اعزاز مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے یہاں آ گئے تھے۔ اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کے لیے

اپنی منزل کے تصور میں مجھے سوچتا تو

اور میں رستے کی طرح تجھ کو سجھائی دیتی

نہ جانے خیال کی روش پر کب تک لڑھکتی جاتی اگر اعزاز کے بھائی کے بچے شور نہ مچاتے کہ چاچی آ گئیں۔ میں جیسے ہوش میں آ گئی۔ فرداً فرداً سب سے اعزاز کی بھابی نے تعارف کروایا۔ ساتھ والی حویلی میں بھابی کے والد، بھائی اور بھابی اپنے بچوں سمیت رہتے تھے ۔ایک بڑے سے صحن میں وہ سب موجود تھے۔

ملنے کے بعد مجھے میرا کمرہ دکھایا گیا میرا جو حال جگہ جگہ سے ٹوٹی پھوٹی حویلی میں داخل ہوتے وقت ہوا تھا ، اس سے بھی برا ، کمرے میں داخل ہونے پر ہوا۔ حویلی ایک کھنڈر معلوم ہورہی تھی۔ لگتا تھا جیسے میں کوئی پری ہوں اور کھنڈرات میں قید ہو گئی ہوں۔ شاید کبھی اس کھنڈر حویلی میں محبت ساتوں رنگ لیے اڑتی، ڈولتی، بہتی، کھلتی، مہکتی، دہکتی، بہکتی، سسکتی، چمکتی اور چہکتی ہو گی۔

پیچھے کو کھلتی کھڑکی پر نظر پڑی تو میں اسے کھول کے وہاں کھڑی ہو گئی ۔چھن سے دھوپ اندر آ گئی، شام کی نرم نرم سی دھوپ نے نہ صرف تاریکی ختم کردی بلکہ جسم کو سکون سا آنے لگا ۔نہ جانے کب تک وہاں خیالوں میں گم کھڑی رہی ۔دور تک اجڑے ہوئے باغ کا نظارہ تھا برگد اور پیپل کے بہت پرانے درختوں نے ایک سحر سا قائم کر رکھا تھا جیسے ہزاروں داستانیں اپنے اندر چھپائے کھڑے ہوں۔

شام کے سائے گہرے ہونے لگے تھے۔ اسی وقت ایک آواز ابھری، چاچی چائے لے لیں ا، ایک سانولی سی 12 سال کی لڑکی چائے کی پیالی تھامے کھڑی تھی۔ اس کے چاچی کہنے سے میں سمجھ گئی یہ ان کے بھائی کی بیٹی ہے۔” تمھارا نام کیا ہے ؟“ میں نے پوچھا۔

” ریشماں!میں تیسری جماعت میں پڑھتی ہوں۔ “ لڑکی نے خوش دلی سے جواب دیا۔ میں سمجھ گئی کہ یہاں تعلیم کو اولین اہمیت نہیں دی جاتی۔ تب ہی تو اپنی عمر کے حساب سے پانچویںکے بجائے وہ تیسری جماعت میں تھی۔

” اوکے، چائے کس نے بنائی؟“ میں نے جھجک کر پوچھا، جیسے وہ بھی جانتی ہو کہ ابھی ٹھیک طریقے سے وہ خانگی امور ادا نہیں کر سکتی، شاید اس کی ماں نے چائے بنوائی ہے۔ ” اِٹس اوکے،ریشماں۔ میں نے چائے اس کے ہاتھ سے لے کر گھونٹ بھرا۔ ”واﺅ بہت مزے کی چائے ہے۔ “ میری تعریف سن کر وہ خوش ہو گئی اور چلی گئی۔ میں نے شکر کی زیادتی کے باوجود چائے زہر مار کی۔

اپنا سامان الماری میں رکھا اور اعزازکے بارے میں سوچنے لگی کہ وہ کہاں ہیں، مجھ سے بات تک نہیں کی۔ میں اندازہ نہیں کر پا رہی تھی کہ وہ خوش ہیں یا غصے میں۔

سوچوں کے تانے بانے میں کبھی کوئی تار ٹوٹتا تو کبھی کوئی، مگر کوئی بھی سرا ہاتھ نہ آتا ۔اپنی سوچ کو کسی الوہی دھارے پر چھوڑ کر جانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئی۔ شام ہو گئی، مغرب کی اذان کے ساتھ ہی آنکھ کھلی ، نماز کا قصد کیا، اٹھ کر وضو کیا ہی تھا کہ ر یشماں چلی آئی اوربولی، کھانا کھا لیں۔، ”پہلے میں نماز پڑھ لوں، قبلہ کس سمت میں ہے، میری مدد کرو گی؟“

”جی چاچی جی، میں پوری پانچ نمازیں پڑھتی ہوں۔ مجھے پتہ ہے، میری ٹیچر بتاتی ہے کہ جو نماز نہیں پڑھتا اسے اللہ آگ میں جلاتا ہے اور جو پڑھے تو اللہ جنت دے گا۔“

” اچھا آپ پڑھتی ہو یہ تو اچھی بات ہے لیکن نماز کسی خوف یا لالچ کے بغیر ادا کرنا چاہیے۔“ ریشماں کے چہرے پر نا سمجھنے والے تاثرات تھے ،اچھا تفصیل پھر بتاﺅں گی، نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے۔ اس طرف قبلہ ہے، شکریہ میں نماز پڑھ کر آتی ہوں۔ نماز مکمل کرکے میںکھانے کے لیے صحن میں آ گئی، جہاں سب موجود تھے۔ چارپائیاں ترتیب سے بچھی ہوئی تھیں۔ سب گھر والے اپنے اپنے کھانے کا انتظار کر رہے تھے۔ چاچی یہاں بیٹھیں۔ریشماں نے ایک چارپائی کی طرف اشارہ کیا۔ میں وہاں بیٹھ گئی ریشماںسب کو کھانا سرو کرنے لگی۔ میں نے اچٹتی سی نظر سب پر ڈالی کہ کون کون موجود ہے۔ ایک چارپائی پر اعزاز کھانا کھانے میں مصروف تھے۔ میرے سامنے بھی کھانا رکھا گیا۔

ایک 9 سال کا بچہ بولا۔ چاچی اب یہیں رہے گی ناں۔ اس کی ماں نے ہنس کر کہا ہاں اب یہاں ہی رہے گی۔ کھانا کھانے کے بعد چائے پی گئی ۔اس دوران سب نے میرے گھروالوں کے متعلق خیریت دریافت کی۔ رسمی سی گفتگو کے بعد میں نے اجازت لی اور اپنے کمرے میں آ گئی یہ پورا ماحول میرے لیے اجنبی تھا، بے ترتیبی کے ساتھ ساتھ تہذیب کا فقدان بھی تھا۔

کمرے میں پھیلی اداسی میرے اندر بھی سرایت کر گئی۔ اس ایک شخص کی خاطر میں اپنے رسم و رواج اپنا تعلیمی و ادبی ماحول ،اپنا کیرئیر، بہن بھائی گھریلو آسودگی سب کچھ چھوڑ کر آئی ہوں۔ یہ خیال مجھے کچوکے لگانے لگا میرا دم اس ماحول میں جیسے گھٹ ہی جائے گا۔ تعلیم ادب سکھاتی ہے اور یہاں ہر بچہ تو تڑاق کرتا ہے۔ جہالت کی وجہ سے عورتیں اپنے بچوں کی تربیت درست سمت میں نہیں کر پاتیں۔ریشماں کا بڑا بھائی بھی تیسری جماعت کا طالب علم ہے، محض اس کی وجہ سے ریشماں کو دو سال پچھے کلاس میں کروایا گیا کہ بھائی کو ہم جماعتوں میں شرمندگی ہوتی ہے کہ وہ اس سے چھوٹی ہونے کے باوجود اس سے سینئر ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بھائی ابھی بھی لڑائی کرتا ہے کہ مجھ سے پیچھے رکھیں اسے یعنی دوسری جماعت میں بٹھا دیں، وہ 13 سال کا ہے، اتنے جدید دور میں ابھی ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ادب سے بے بہرہ ہیں اور گھر والے بیٹے کی عزت کی خاطر بیٹی کے حق کو دبانے میں دیر نہیں کرتے۔

مگر ریشماں کے اندرا سپرٹ ہے۔ ایک تازگی کی رمق دیکھی ہے میں نے اس میں، بے شک ادب سوچ اور حوصلوں کو بلند کرتا ہے۔

میرا نظریہ بھی اقبال کے نظریے کی تقلید کرتا ہے کہ عورت تمام تر فطری اور اخلاقی قیود سے آزاد نہ ہو، اپنی اقدار کی پاسداری کرے۔ اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت دیے تھے جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی دنیا کے کسی معاشرے میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا۔ مگر یہ سب تعلیم سکھاتی ہے پھر ادب جذبوں کو زبان دیتا ہے۔

نہ جانے اور کتنی دیر میں انہی سوچوں میں گم رہتی اگر دروازہ کھلنے کی آواز نہ آتی۔وہ خاموشی سے آ کر بیڈ پر نیم دراز ہو گئے اور سگریٹ سلگا لی۔ کافی لمحے اسی خاموشی کی نذر ہو گئے، میں ہمیشہ کی طرح الجھ گئی کہ میں کوئی بات کروں یا ان کے کچھ کہنے کا انتظار!

مجھے ہمیشہ ان کی اس عادت سے کوفت ہوتی کہ میں ہی بات کروں اور وہ صرف اسی بات کا جواب دے کر پھر خاموش ہوجاتے۔ اب کے میں نے خاموشی بہتر جانی۔ سگریٹ کا کش لینے کے بعد میرا نام پکارا” عائشہ تمہیں اب یہیں رہنا ہے کیونکہ مجھے یہیں اپنے بھائی کے پاس رہنا ہے ۔یہ جگہ اور لوگ جیسے بھی ہیں تمہیں گزارا کرنا ہو گا۔“

”لیکن آپ نے تو کہا تھا کہ عید کے بعد واپس چلی جانا۔“

”یہ صرف تمہیں بلانے کا بہانہ تھا۔ اب تم کہیں نہیں جاو گی۔“

” پر آپ نے گھر چھوڑنے کے بعد مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔ جان بوجھ کر سب نظرانداز کیا۔ مگر کیوں؟

”تم چھوڑو ان باتوں کو۔“ وہ میرے سوال کو نظرانداز کرکے جلدی سے بولے۔ ” مجھے تمہارے گھروالوںکے ہاں اب نہیں رہنا۔ میں اپنے پاو ¿ں پر خود کھڑا ہونا چاہتا ہوں اور تمہیں سب ضروریات زندگی مہیا کرنے کی کوشش کروں گا۔ یہ جگہ تمہارے قابل نہیں مگر پھر بھی تمہیں میرا ساتھ دینا ہو گا۔“ اعزاز بات مکمل کر کے باہر نکل گئے اور میرے لیے سوچوں کے نئے در وا کرگئے۔

اسی کشمکش میں کسی طور چین نہیں مل رہا تھا کہ اگر رکتی ہوں تو اپنی ذات کی نفی کرنا پڑے گی اور اگر چلی جاتی ہوں تو گھر ٹوٹ جائے گا۔ کوئی بھی فیصلہ کیے بغیر تیس دن کے لئے سب کچھ وقت کے دھارے پر چھوڑ دیا کہ عید تک کسی نتیجے پر پہنچ جاﺅں گی۔

نومبر کی تیز ہواو ¿ں کا موسم تھا، رات اپنا پورا سحر لیے شروع ہو چکی تھی۔ تیز ہوا کے جھونکے سے باغ میں کھلنے والی کھڑکی کا کواڑ کھلا تو سردی کا احساس ہونے کے بجائے فرحت محسوس ہوئی کیونکہ ریتلی ہواو ¿ں نے کمرے گرم کردیے تھے جیسے کسی باشعور انسان کو زمانہ جدید سے نکال کر ہزاروں سال قبل دور کے کسی گاو ¿ں میں رہنے کی قید سنا دی گئی ہو

اچانک میری نظر اعزاز پر پڑی جو سگریٹ سلگائے چہل قدمی کر رہے تھے۔ پتہ نہیں انہوں نے مجھے دیکھا یا نہیں ، کمرے کی لائٹ بند تھی اس لیے وہ شاید مجھے نہیں دیکھ پائے ہوں گے ، باغ میں بھی گہرااندھیرا تھا اگر وہ سگریٹ نہ سلگاتے تو شاید میں بھی انھیں نہ دیکھ پاتی، آہستہ آہستہ اندھیرے میں اعزاز واضح نظر آنے لگے، پتہ نہیں وہ اس وقت باغ میں کیوں ٹہل رہے تھے، کیا مجھ سے بھاگ رہے تھے ، میرے پاس کمرے میں آ کر بیٹھنا نہیں چا ہ رہے تھے، میں جانے کن کن خیالوں میں گم تھی ،میں نے کھڑکی کھلی چھوڑ دی اور آ کر بستر پر لیٹ گئی ،لیٹتے ہی نیند کی وادیوں میں چلی گئی۔

صبح حسب عادت فجر کی اذان سے پہلے میری آنکھ کھل گئی، میں خاموشی سے بیڈ سے اتری ہی تھی کہ اعزاز نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں ٹھٹک گئی، وہ بولے میں رات کو کمرے میں آیا تو تم بے خبر سو رہی تھیں، میں نے جگانا مناسب نہیں سمجھا۔ میں تمھارے جاگنے کے انتظار میں تمام رات جاگتا رہا ہوں۔ اعزاز کی اس بات نے میرے دل سے وہ سارے شکوے دھو دیے جو میں نے رات کو باغ میں انھیں ٹہلتے دیکھ کر کھڑکی میں کھڑے ہوکر سوچے تھے ، اس لمحے مجھے اعزاز پر بہت پیار آیا۔

پھر پورا رمضان اعزاز کی محبت میں اس طرح گزرا کہ محسوس بھی نہیں ہوا ۔ وہ چاند رات تھی جب ساری رات اعزاز سے باتیں کرتے کرتے گزری ، صبح اچانک جانے کب میری آنکھ لگ گئی، باہر سے شاید برتن کھڑکھڑانے کی آواز سے میری آنکھ کھلی، میں ہڑبڑا کر اٹھی ، دیکھا اعزاز بھی پرسکون ہوکر سو رہے تھے۔ میں نے کپڑے استری کیے اور خود کپڑے لیے غسل خانے کی طرف چل دی جو صحن کے بیچوں بیچ تھا جا کر دیکھا تو ہینڈ پمپ دیکھ کر ہمیشہ سوچ میں پڑجاتی کہ کیا کروں ، مجبوری تھی یہیں پر نہانا پڑتا تھا۔ میں نے بالٹی میں پانی بھرا اور غسل کیا۔ کمرے میں آ کر سوچا اعزاز کو جگا دوں، عید کی نماز کے لیے وقت پر پہنچنا ہے ۔میں نے آواز دی انہوں نے کروٹ لی مگر جاگے نہیں ۔میں نے پیشانی پر ہاتھ رکھا تو وہ جاگ گئے میں نے کہا کہ اٹھ جائیں نماز کے لیے دیر ہو جائے گی۔ اٹھ کر جانے لگی مگر اعزاز نے ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔ میں نے مڑ کر دیکھا عید نہیں ملو گی ؟

یہ کیا جگہ ہے جہاں اتنی کہکشائیں ہیں

یہ میں کہاں پہ ہوں تیرے قریب آتے ہوئے

نجانے خیالوں کی کونسی دنیا تھی یہ

میں نے شوخی سے کہا، نہیں۔ پہلے نماز پڑھ کرآئیں۔ میرا ہاتھ بدستوران کے ہاتھ میں تھا ، انھوں نے میرا ہاتھ کھینچا اورشاید کچھ کہنا چاہتے تھے کہ دروازے پر آہٹ ہوئی اور انھوں نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ یہ ریشماں تھی، چاچی ناشتہ کر لیں۔ میں موقع پا کر یہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی کہ جلدی آ جائیں، چلو ریشماں چلتے ہیں۔

صحن پار کر کے ہم برآمدے میں آ گئے جہاں بڑی جیٹھانی سویاں پکائے دیگچے میں سے سب کے لئے تھالیوں میں نکال رہی تھیں، جیٹھ صاحب چارپائی پر براجمان تھے دونوں بیٹے خوب مزے لے لے کر سویاں کھا رہے تھے مجھے دیکھ کر سب خیر مقدم میں لگ گئے۔

مجھے بٹھا کرریشماں میرے لیے سویاں لے آئی میں سویاں دیکھ کر حیران رہ گئی نہ کھا سکوں نہ چھوڑ پاﺅںں، کچی سویاں نہ بھونیں اہتمام کے ساتھ، نہ ڈھنگ سے دودھ ڈالا گیا اور میٹھے کی زیادتی الگ، اوپر سے جیٹھانی کا حلیہ دیکھ کر قے آتے آتے رک گئی، سر کے بال یوں جیسے اس میں بم پھوڑا گیا ہو، گردن کے گرد میل کا ہالہ بنا ہوا تھا ۔کچی زمین پر آلتی پالتی مار کے بیٹھی ہوئی تھیں، دوپٹہ سر پر اڑس رکھا تھا جو کمر پر ہی جھول رہا تھا پاﺅں جوتے سے محروم تھے۔ جب سے میں دیکھ رہی تھی جوتا ایک پل کو پاﺅں میں نہیں دیکھا تھا۔پاﺅں کی ایڑیاں پھٹی ہوئی تھیں اور مٹی جمی ہوئی تھی۔ کپڑے میل سے سیاہ ہورہے تھے جن پر پانی کے چھینٹوں نے ڈیزائن بنا رکھا تھا ۔میں نے ” بھوک نہیں ہے“ کہہ کر جان چھڑائی

اتنے میں اعزاز بھی آگئے، ان کے سامنے بھی سویاں رکھی گئیں ، میں نے نوٹس کیا انہوں نے زہر مار کر لیں۔.

سب نے عید گاہ کا رخ کیا۔ نماز عید پڑھ کر سب واپس آ چکے تھے۔ سب بچوں کو چاچو سے عیدی مل رہی تھی کہ بچوں نے شور مچا دیا کہ چاچی نے چوڑیاں نہیں چڑھائیں ۔ریشماںنے چوڑیاں کلائیوں میں چڑھاتے ہوئے کہا چاچی کے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں ہیں، ان کو بھی چوڑیاں خرید کر دیں تو اعزاز نے شرارت بھرے انداز میں کہا کہ نہیں، کیا آپ کی چاچی نے مجھے عیدی دی ہے؟ جو ان کو چوڑیاں لے کر دوں؟

جیٹھانی کے اصرار پر طے پایا کہ لنچ کے بعد اعزاز عائشہ کو چوڑیاں دلانے لے جائے گا

لنچ سب کی فرمائش پر مجھے تیار کرنا تھا چکن پلا اور بیف کڑاہی کا سامان تیار کر کے جب چولہے کے پاس آئی تو گہری سوچ میں پڑ گئی کہ اب کیا کروں؟ کھانا تو لکڑیاں جلا کر پکانا پڑے گا۔ مجھے پریشان دیکھ کر اعزاز آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں آگ جلاتا ہوں تم کھانا پکاﺅ، ایک دو دن تک سلنڈر گیس سے فل کروا دوں گا۔ دونوں نے مل کر کھانا بنایا جو خوب مزے لے لے کر کھایا گیا اور سب نے بہت سراہا بھی۔

اعزاز مجھے لے کر بازار آ گئے کوئی ایک دو ہی دکانیں کھلی تھیں میری پسند کی چوڑیاں چڑھائیں اور گھر واپس آ گئے

عید کے تین دن پلک جھپکتے گزر گئے اب میں گھر جانے کو پر تولنے لگی

اعزاز فکر مند ہو گئے کہ یہ واپس نہ جائے

میں نے آج کی رات اس نتیجے پر پہنچنا تھا کہ کیا کروں جاﺅں یا نہیں ؟

کوئی ایسی مصروفیت جو میرا دل یہاں لگا رہے اور میرا گھر نہ ٹوٹے، یہ رات میں نے بہت کرب میں گزاری کمرے کی کھڑکی کھولتے ہی سامنے کا منظر مجھے بھا گیا، تاروں سے بھرا شفاف نیلا آسمان اور باغ کے بوڑھے درخت سیکڑوں افسانوں کی بازگشت سنا رہے تھے۔

اچانک میرا خیال ریشماں کی طرف گیا جو پڑھنے والی بچی تھی مگر جاہلیت کے ماحول میں پل بڑھ رہی تھی۔ یوں اس کی شخصیت دو الگ راستوں پر استو ار ہو رہی تھی۔ مجھے لگا یا تو کہیں راستے میں دم توڑ جائے گی اور اس کی شخصیت مسخ ہوجائے گی یا قسمت کوئی احسن راستہ چنے گی، میں نے اسی لمحے ارادہ کر لیا کہ میں اس موضوع پر ضرور لکھوں گی جو والدین لوگوں کے سامنے اپنے اخلاق کو ملمع سازی کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور گھر میں بچوں کے ساتھ رویہ جاہلانہ رکھتے ہیں، گالم گلوچ بھی کرتے ہیں۔ جھوٹ بولتے اور کئی معاملات میں بچوں کو بھی سکھاتے ہیں کہ خاندانی چپقلش کے زمرے میں کچھ افراد کے بارے میں دل میں کدورت کیسے رکھنی اور جھوٹ کیسے بولنا ہے۔

آج بھی بیٹیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے بیٹوں کو امتیازی حیثیت دی جاتی ہے، ان حالات کے ذمے دار کسی نہ کسی حد تک حکمراں بھی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ متاثر ہوتا ہے اور غربت کے باعث ہر طرف جہالت کا راج ہو جاتا ہے، نسلیں بے راہ روی کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہیں۔

میں نے ارادہ کر لیا کہ میں تعلیم کی اہمیت اجاگر کروں گی، اس حلقے میں اور تعلیم بالغاں کے سلسلے میں تربیتی پروگرامز بھی ترتیب دوں گی انشا اللہ۔

میں اپنے حصے کی شمع ضرور جلاﺅں گی اور صحرا میں پھول کھلاﺅں گی۔

٭٭٭

Sehra mai phool afsana shehla final image

Facebook Comments