ڈیمنشیا۔۔۔۔ (سچی کہانی) ( برلن ،جرمنی سے عشرت معین سیما کی پر اثر تحریر

صبح ہی صبح ٹرین کے خالی ڈبے میں وہ عورت دبی آواز میں سسکیاں بھر رہی تھی
اس کے ہاتھوں اور پیروں پر کھرونچوں سے خون رس رہا تھا

میں نے اپنے بیگ سے لنچ بکس اور پانی کی بوتل نکالی تو اس نے لپک کر
میرے ہاتھ سے باکس چھین لیا اور تیزی سے سینڈوچ کھانا شروع کر دیا

عورت نے جسے اپنا بیٹا بتایا اس نے عورت کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا

ٹرین کا آخری اسٹیشن ہمارے گھر کے قریب ہے۔ جب صبح میں ٹرین کے اس ڈبے میں داخل ہوئی تو ایک عورت عجیب و غریب حالت میں بالوں سے چہرہ چھپائے اورسر کو جھکائے عجیب سی آواز میں سسکیاں بھررہی تھی۔ اس کے میلے اور کھرنڈ ذدہ زخموں سے بھرے ہاتھ اور پاو ¿ں سے خون رس رہا تھا۔ صبح کے وقت ٹرین اکثر کام پہ جانے والوں اور اسکول، کالج جانے والے بچوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ لیکن آج ٹرین قدرے خالی تھی جس کی وجہ ایک تو اسکول ،کالج کی تعطیلات تھیں اور دوسری وجہ اسٹیشن پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹرین کی بے وقت آمد و رفت تھی۔ لیکن اس ڈبے کے خالی ہونے کی ایک وجہ یہ عورت بھی تھی جس کے پاس سے اٹھنے والی انتہائی تیز بدبو نے پورے ڈبے کی فضا کو ناگوار بلکہ ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔ اس کی درد بھری آواز میں سسکیاں کبھی یوںاونچی ہوجاتیں کہ ٹرین کی گڑگڑاہٹ کو دبانے لگتی تھیں ۔ اس کا پر اسرار وجود بھی اس ڈبے کو وحشت ناک بنا رہا تھا۔

عشرت معین سیما

عشرت معین سیما

صبح ساڑھے چھ بجے جب میں ٹرین کے اس ڈبے میں داخل ہوئی تو پہلے صورتحال سے گھبرا کر باقی لوگوں کی طرح ڈبہ بدلنے کے لیے ا ±لٹے قدموں پلٹ جانے کا ارادہ کیا۔مگر جب ا ±س عورت کے منہ سے زوردار آواز میں “ گوڈ سائی ڈانک( خدا تیراشکر ہے “ کے الفاظ سنے تو ٹھٹھک کر رہ گئی۔ اتنی بری حالت میں بھی وہ اپنے رب کوشکریے کے ساتھ یاد کر رہی تھی۔میں ہمت کرکے ڈبے میں داخل ہوئی اور ا ±س کے سامنے کی سیٹ پربیٹھ گئی۔اس نے اپنے بالوں سے چھپے چہرے سے میری جانب دیکھنے کے لیے نظر اٹھا ئی اور اپنی ساری طاقت جمع کرتے ہوئے زورسے آواز لگائی” بھاگ جاؤ، بھاگ جأو یہاں سے، مجھے سکون سے رہنے دو۔ “
ا ±س کاسراسی طرح جھکا ہوا تھا۔ اس کے اس طرح چیخنے پر میں ذرا گھبرا گئی تھی مگر پھر بھی میں اپنے حواس جمع کر کے کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی۔ ٹرین کے چلتے ہی میں نے کچھ لمحے بعد ہمت کر کے اپنا لنچ بکس اور پانی کی بوتل اس کی طرف بڑھادی۔ایک جھٹکے سے اس نے میرے ہاتھ سے لپک کرچیزیں چھین لیں اور تیزی سے سینڈوچ کھانا شروع کر دیے ۔ اس کے اس اچانک رد عمل سے میں چونک گئی اور میرادل بھی اس اچانک حملے پرزورزورسے دھڑکنے لگا۔اس وقت میں کچھ دیرکے لیے واقعی ڈرگئی تھی۔ٹرین کے اس ڈبے میں صرف ہم دونوں تھے۔ چند لمحوں بعد وہ پراسرارعورت سینڈوچ کے ساتھ انصاف کر نے لگی۔ شاید میرے لنچ سے وہ اپنی دیرینہ بھوک مٹا رہی تھی۔کچھ دیر کے بعد میں نے ایک بارپھر ہمت کی اور اپنے بیگ سے ٹیشو پیپر نکال کراس کوومنہ اورہاتھ صاف کرنے کے لیے پیش کیے توا ±س نے بلا توقف جلدی سے وہ بھی لے لیے۔ ایک نظر اس نے غور سے مجھ کو دیکھا اور پھر سرجھٹک کر ٹیشو پیپر سے اپنے ہاتھ اور پاو ¿ں سے بہتے خون کو صاف کرنے لگی۔
کچھ دیر بعد اس نے کچھ پیپر اور بوتل زمین پر پھینک کر ایک ساتھ بہت سارے ٹیشو پیپرز پاو ¿ں کے پنجوں میں لپیٹ لیے اور اپنے دونوں ہاتھ بغل میں دبا کر اور اپنے بال چہرے پر بکھیر کر پہلے کی طرح اسی حالت میں بیٹھ گئی جیسے پہلے بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے کچھ دیر بعد ٹرین کے ڈبے میں بکھرے ٹیشو پیپر سمیٹے اور خالی پانی کی بوتل زمین سے اٹھائی تو اس کے منہ سے اپنے لیے ہلکے سے شکریے کے الفاظ سنے۔ا ±س لمحے میں نے مسکراتاہوااس کا معصوم سا چہرہ الجھے بالوں کے پیچھے چھپا دیکھا تھا۔
ٹرین سیٹی بجاتی آگے بڑھ رہی تھی۔ میں سوچ رہی تھی کہ خدا اور انسانوں کا شکریہ ادا کرنے والی یہ عورت یقیناً کسی اچھے خاندان کی تربیت میں پلی ہے۔خدا جانے زمانے کی تلخیاں اسے کیسے اس حال تک لے آئیں۔ اللہ سب کو محفوظ رکھے ،اس حال سے۔ ناگوار بد بو کے سوا اب اس ڈبے میں فضا قدرے بہتر ہوگئی تھی۔ ہم ایک دوسرے کے لیے زیادہ اجنبی نہیں رہے تھے۔ ٹرین کا اگلا اسٹیشن آنے والا تھا۔وہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی اسکرٹ کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑانکال کرمجھے دیتی ہوئی اسٹیشن پر جلدی سے اترگئی۔کاغذ پر جرمن زبان میں لکھا تھا ”میں ڈیمنشیا کی مریضہ ہوں۔ براہ مہربانی مندرجہ ذیل پتے اورفون نمبر پر میرے بیٹے سے رابطہ کریں۔ ڈاکٹر لوڈیا بیکر!
وہ ٹرین کے رکتے ہی اتنی تیزی سے اسٹیشن پر اتری کہ میں کوئی فیصلہ نہ کر پائی کہ اسٹیشن پر ڈیڑھ منٹ رکنے والی اس ٹرین سے اس عورت کے پیچھے اتروں یا نہیں۔ اگلی ٹرین نہ جانے کب آئے۔ اسی اثنا میں وہ اجنبی پراسرار عورت پلیٹ فارم پہ میری نظروں اوجھل ہوگئی – میرا موبائیل میرے ہاتھ ہی میں تھا۔ میں نے جلدی سے پرچی پہ لکھے موبائل نمبر پر کال کی۔
دوسری جانب سے قدرے نیند میں ڈوبی آواز آئی “ اسٹیفان بیکر” میں نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اورکہنا شروع کیا ” میں یہاں ٹیلٹو کے آخری سٹی ٹرین اسٹیشن پر ایس پچیس کے ڈبے میں کچھ دیر پہلے سوار ہوئی تو ایک عورت برے حال میں بیٹھی تھی اور۔۔۔“
”جی جی میں سمجھ گیا۔“ ابھی میں اپنی بات مکمل بھی نہ کر پائی تھی کہ دوسری جانب سے اسٹیفان بیکرنے میری بات کاٹتے ہوئے کہا۔ ” آپ کو کسی لوڈیا بیکر کے پاس سے یہ نمبر ملا ہے۔ لیکن۔۔۔۔ “اس نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔ ” یقین جانیے میں کسی لوڈیا بیکر کو نہیں جانتا۔ آپ برائے مہربانی پولیس یا قریبی کسی ہسپتال میں اس عورت کو پہنچا دیجئے اور پلیز مجھے دوبارہ فون نہ کیجئے گا۔ دوسری جانب سے فون بند ہوگیا۔
میں اس عورت کے تھکن اور زخموں سے اٹے وجود کو نظر میں سماتے ہوئے سوچ رہی ہوں کہ ڈیمنشیا کا مرض کتنا عجیب ہوتا ہے۔ کبھی غیر محسوس طریقے سے بظاہر نارمل لوگوں کو بھی اپنے بے رحم شکنجے میں جکڑ لیتاہے۔ اس مرض میں انسان جنہیں بھولنا چاہے وہ یاد رہتے ہیں اور جن کو بھول جائے تو وہ اپنی یادوں کے کنکر  سے انہیں زندگی بھر لہولہان کرتے رہتے ہیں۔

عشرت معین سیما افسانہ نگار

ڈیمنشیا بہت پیچیدہ اور انوکھا مرض ہے ، یہ بہت سے دماغی عارضوں کا مجموعہ ہے جس میں

سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور یادداشت تیزی سے متاثر ہوتی ہے۔ ڈیمنشیا اور الزائیمرکا کوئی علاج نہیں

االبتہ اس کے حملے کا خطرہ روکنے کی ادویہ (ادویات‌ موجود ہیں۔
برلن جرمنی میں‌مقیم معروف افسانہ نگار، شاعرہ، سفرنامہ نگار، نثرنگار، اور انگلش و جرمن کی مترجم

عشرت معین سیما نے ڈیمنشیا کے موضوع پر نہایت اثر سچی کہانی تحریر کی ہے

Facebook Comments