ڈالر کی اونچی اڑان،روپے میں تاریخ کی بدترین گراوٹ

 قیمت میں 8روپے کا ریکارڈ اضافہ، 136.50روپے کا ہو گیا،قوم کی امیدوں پرپانی پھرگیا

ڈالر کی قدربڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا،حکومت نے اپنی اپنے ہی پائوں پرکلہاڑی مارلی،ماہرین

شخصیات ویب ڈسیک
کراچی،پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج لینے کے فیصلے کےبعدملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ بدترین گراوٹ کا شکار ہوگیا،روپے کی قدرغیر مستحکم ہونے سے اوپن مارکیٹ میں ایک ہی دن میں8 روپے اضافے کے ساتھ ڈالر136.50روپے کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا ہے۔منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی روپے کی قدر میں یکدم کمی دیکھنے میں آئی اورروپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر9.13روپے بڑھ گئی جس سے ڈالرکی قیمت فروخت124.37روپے سے بڑھ کر 133.50روپے ہوگئی ۔ اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر نے روپے کی قدر کو گرا دیا اور8روپے کے ریکارڈ اضافے سے پاکستان میں ڈالر کی قیمت فروخت128.50 سے بڑھ کر136.50روپے پر جا پہنچی۔۔ڈالر کی قدربڑھنے سے صرف ایک ہی روز میں پاکستان پرقرضوں کا بوجھ لگ بھگ 900 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق روپے کی قدر میں حالیہ کمی آئی ایم ایف کےدباؤ کا نتیجہ لگتی ہے کیونکہ آئی ایم ایف پہلے ہی روپے کی قدر میں 15 فیصد کمی کا مطالبہ کرچکا ہے۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھ گئی ہے۔ادھر ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ جبتک انٹربینک مارکیٹ میں استحکام نہیں آتا ڈالر کی دستیابی مشکل ہے۔موجودہ حکومت سابق حکومت کی پالیسی اپنانے سے گریز اور روپے کی قدر میں کمی سے متعلق باقاعدہ اعلان کرے۔ چیئرمین فاریکس ایسوسی ایشن ملک بوستان نے دعویٰ کیا کہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر روپے کی قدر کم کی گئی ۔ حکومت نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔حکومت نے قوم کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا، معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافے کی ایک وجہ حکومت کا آئی ایم ایف سے قرض لینے کا فیصلہ بھی ہے۔

Facebook Comments