اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے کا معاملہ،ڈی جی نیب لاہور نے معافی مانگ لی

اساتذہ کو ہتھکڑی لگانے کے معاملے پرڈی جی نیب عدالت میں آبدیدہ ہو گئے،اپنی باری آئی ہے تو آپکی آنکھوں میں آنسو آگئے،چیف جسٹس

شخصیات ویب ڈیسک
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق وائس چانسلر اوردیگر اساتذہ کو ہتکھڑیاں لگانے کے معاملے پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان کا ڈی جی نیب پرشدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کس قانون کے تحت اساتذہ کی تضحیک کی؟لوگوں کی تضحیک اور پگڑیاں اچھالنے کے علاوہ آپکی کیا کارکردگی ہے۔اس پرڈی جی نیب نے کہا کہ اپنےاقدام پرمعافی مانگتے ہیں جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آپ اساتذہ سمیت پوری قوم سے معافی مانگیں آپکے خلاف بھی مقدمہ درج کراکےہتھکڑیاں لگا کرعدالت میں پیش کرتے ہیں۔ڈی جی نیب عدالت میں آبدیدہ ہو گئے،چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی باری آئی ہے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے ہیں۔مجاہد کامران کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائیں،ڈی جی نیب نے عدالت میں اپنی صفائی دیتے ہوئے کہا کہ مجاہد کامران اوردیگراساتذہ سےخود جا کرمعافی مانگ لی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ایک کیس میں عدالت کے باہرکہا کہ کوئی بات نہیں چیف 3 ماہ میں چلا جائے گا،آپ سے متعلق بہت اچھے تاثرات ہیں مگر آپ کیا کر رہے ہیں،اگرآپ ڈی جی نیب کے عہدے کے اہل نہیں تو چھوڑ دیں،آپ بتا دیں اس ادارے میں کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں،جنہیں ہتھکڑیاں لگائیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچوں کو تعلیم دی،رات ویڈیو دیکھ کرچیرمین نیب کو فون کیا،چیئرمین نیب نےلاعملی کا اظہارکیا اورکہا ڈی جی نیب لاہور آپکو مطمئن کریں گے۔

Facebook Comments