آبی ذخائر کی تعمیرمیں کوتاہی کرنے والے قوم کو جواب دیں،چیف جسٹس

آبی ذخائر کی تعمیر میں کوتاہی کرنے والوں سے قوم جواب مانگتی ہے

ڈیم بنانا پوری قوم کی ذمہ داری،بچوں کواپنے ہاتھوں سے مارنے کوتیارنہیں،واٹرسمپوزیم کے اختتامی سیشن سے خطاب

شخصیات ویب ڈیسک
اسلام آباد، چیف جسٹس ثا قب نثا ر نے کہا ہے 40سال سے پانی کے مسئلے پر توجہ نہیں دی گئی،جب پتاتھا پانی پینے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو آبی ذخائر بڑھانے کے لیے کسی نے کیوں کچھ نہیں کیا،قوم آبی ذخائرکی تعمیر میں کوتاہی کرنے والوں سے جواب مانگتی ہے، آبی ذخائرکے لیےڈیم بنانا پوری قوم کی ذمہ داری ہے،واپڈا اہم ادارہ ہے مگرڈیم بناناصرف اس کا کام نہیں،اس مسئلے پرتوجہ نہ دے کر ظلم کیا گیا،زندگی پانی سے جڑی ہے،میں اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے تلف کرنے کو تیارنہیں۔

سپریم کورٹ میں واٹر سیمپوزیم کے دوسرے روز اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پانی انتہائی قیمتی چیزبن گیا ہے،دہائیوں تک ہم نے اس اہم ترین چیزکونظرانداز کئے رکھا، دیامربھاشا ڈیم کے حوالے سے کونسل ہونی چاہیے،آبی چیلنجز سے نمٹنے کیلئےتعلیم کے ذریعےآگاہی یقینی بنائی جائے،جو پانی ہم نے جمع کرنا تھاوہ سمندرمیں ضائع کرتے رہے،آج دنیا بھر کے ماہرین متفق ہیں کہ پاکستان کو پانی کی کمی کا سامناہے، ملک میں آبی ذخائر بڑھانے کے لیےڈیم فنڈز کیلیے لوگوں کی دی گئی رقم امانت ہے اورامانت میں خیانت بہت بڑا گناہ ہے،سمپوزیم میں شرکت پرغیرملکی ماہرین کے مشکور ہیں۔چیف جسٹس نے کہا مجھے پاکستان کے آئین سے پیار ہے،پاکستان ہے تو ہم ہیں،ہمیشہ بنیاد ی حقوق کے تحفظ کی کوشش کی ہے،آئین تمام شہریوں کو برابری کے حقوق دیتا ہے اور عدلیہ بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دارہے،انسانی حقوق پرعملدرآمد انتظامیہ اورمقننہ کا کام ہے،جب آئین کی کتاب پڑھاتا تھا توسوچتا کیا لوگوں کوبنیادی حقوق ملیں گے،بیچاری اللہ رکھی اوربیچارے دین محمد کو پتا تو چلے آئین نے انھیں کیا حقوق دئیے ہیں،عوام کو اپنے بنیادی حقوق کا علم ہوجائے تو پھر کسی انفورسمنٹ ایجنسی کی ضرورت نہیں ہوگی،پاکستان ہمیں تحفے میں نہیں اپنی تحریک اورجدوجہد سے ملا،کیا ہم پاکستان سے عشق نہیں کرسکتے،ایک سال ملک کے ساتھ عشق کرلیں،قائد اعظم نے اپنی ذات کو فنا کرکے ملک بنایا،پاکستان ہماری ماں ہے،اسپتالوں میں بہتری کیلئے کام کیا تو کیا یہ اختیارات سے تجاوز تھا،کسی کو ککس بیک نہیں لینے دوں گا۔ جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا زرعی انکم ٹیکس کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے،امیر کسانوں پرٹیکس لگا کرآبی وسائل کی بہتری کیلئے خرچ کیا جائے،افسوس پاکستان میں امیر کسان کوئی زرعی انکم ٹیکس نہیں دیتے، زیر زمین اور نہری پانی کے استعمال پر بھی آبیانے میں اضافہ ہونا چاہیے۔پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے پانی کےتحفظ کے بارے چیف جسٹس پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہابھاشاڈیم پرسب کا اتفاق رائے ہونا چاہئے،ہمیں یہ اقدامات پہلے اٹھانے چاہئےتھے، کالاباغ ڈیم سیاست کی نظرہوگیا،مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے بھاشا ڈیم کی تعمیر کیلئے رقم مختص کی اور 48ہزارایکڑ زمین سوا ارب روپے میں خریدی،انھوں نے کہا وہ سمپوزیم میں شہباز شریف کے نمائندے کے طورپرشریک ہوئے۔بین الاقوامی آبی ماہر گریک مورس نے کہاصورتحال پر خاموش بیٹھے تو دنیا پاکستان کیلئے مخلص نہیں،تربیلاڈیم کی صلاحیت تیزی سے ختم ہورہی ہے،اس سے مٹی نکالنے کی ضرورت ہے ،دیامربھاشا اورکالاباغ ڈیم پانی ذخیرہ کرنے کے حوالے سے بہترین آپشن ہیں۔

Facebook Comments