یوگنڈا کی مریم انوکھی مثال، اپنی عمرسے زائد بچوں کی جنم دینے والی40 سال میں44بچے

یوگنڈا کی مریم 13 سال کی عمر میں پہلی بار ماں بنیں،38 بچے زندہ ہیں، اٹھارہ بار حاملہ ہوئی ہیں اور صرف آٹھ بارایک وقت میں ایک بچے کو جنم دیا،تین مرتبہ بہ یک وقت چار بچوں کا جنم دیا

شخصیات ویب ڈیسک

افریقی ملک یوگینڈ میں ایک خاتون ایسی ہیں جنہو ں نے اپنی عمر سے زیادہ بچوں کو جنم دیا،ان کی عمر 40 برس ہے اور وہ اب تک 44 بچوں کو جنم دے چکی ہیں جن میں سے 38 بچے زندہ ہیں۔
یوگینڈا کے ایک گاﺅں کاممبری سے تعلق رکھنے والی چالیس 40سالہ مریم نباتانزی شاید ایک انوکھی مثال ہیں جس نے چالیس سال کی عمر میں 44 بچوں کو جنم دیا ہے۔
یوگنڈا کے گاو¿ں کاممبری کی مریم نباتانزی کو مقامی زبان میں نالونگو مزالا بانا بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے چار بچوں کو جنم دینے والی جڑواں ماں۔
مریم کا یہ نام یونہی نہیں پڑا۔ مریم اب تک اٹھارہ بار حاملہ ہوئی ہیں اورحیرت انگیزبات یہ ہے کہ صرف آٹھ بار انہوں نے ایک وقت میں ایک بچے کو جنم دیا۔
مریم نے چھ بار جڑواں
چار مرتبہ بیک وقت تین بچوں کو جنم دیا
اور تین مرتبہ بیک وقت چار بچوں کو جنم دیا
مریم کے 44 میں سے 6 بچے دنیا سے رخصت ہوگئے ، 38 زندہ ہیں جن میں سے بیشتر ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں۔
مریم نباتانزی نامی خاتون پہلی مرتبہ 13 سال کی عمر میں ماں بنیں اور لگاتار 40 برس کی عمر تک ہرسال حاملہ رہی ہیں۔

 مریم کوبچوں کیلئے روزانہ 10 کلو آٹا،چارکلو شکراورصابن کی تین ٹکیاں درکار ہوتی ہیں


مریم کوبچوں کیلئے روزانہ 10 کلو آٹا،چارکلو شکراورصابن کی تین ٹکیاں درکار ہوتی ہیں

جب وہ 18 بچوں کی ماں بن چکیں تو انہوں نے مزید بچوں کی پیدائش روکنے کیلئے ڈاکٹر سے رجوع کیا جس پرڈاکٹرز نے انہیں یہ کہہ کر منع کردیا کہ اس مداخلت سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے یہاں تک کہ وہ مربھی سکتی ہیں۔انہوں نے آخری مرتبہ دسمبر 2016 میں اپنے 44 ویں بچے کو جنم دیا تھا۔
مریم کی زندگی کی کہانی بہت عجیب وغریب ہے اورافسوسناک بھی۔لڑتے جھگڑتے ماں باپ کے درمیان بڑی ہوتی مریم کی بارہ سال کی عمر میں اٹھائیس سالہ شخص سے شادی کر دی گئی۔ تیرہ برس کی عمر میں مریم نے جڑواں بچوں کو جنم دیا، اگلے سال تین بچے ایک ساتھ اور بغیر کسی وقفے کے تیسرے سال مریم نے چار بچوں کو بیک وقت جنم دیا۔
مریم کا کہنا ہے کہ اس کے والد بھی کئی خواتین سے اسی طرح جڑواں اور اس سے زیادہ بچوں کے بیک وقت باپ تھے ، مریم کے والد کے بھی 45 بچے تھے جو کئی خواتین سے پیدا ہوئے تھے۔

44 میں سے 38 بچے زندہ ہیں اور مریم کے ساتھ ہی رہتے ہیں

44 میں سے 38 بچے زندہ ہیں اور مریم کے ساتھ ہی رہتے ہیں

مریم کا کہنا ہے کہ اسے6 بچوں کی خواہش تھی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ چھٹی بار حمل ٹھہرنے کے بعد تک وہ 18 بچوں کی ماں بن چکی تھیں۔ اس کے بعد جب انہوں نے مزید بچوں کی پیدائش روکنے کے لیے ڈاکٹروں سے رجوع کیا تو ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ اس مداخلت سے انہیں نقصان ہوسکتا ہے یہاں تک کہ وہ مربھی سکتی ہیں۔اس کے بعد 23 سال کی عمر تک مریم 25 بچوں کی ماں بن چکی تھی۔

مریم کے شوہر نے بھی کئی شادیاں کر رکھی ہیں لہٰذا ان کے شوہرکبھی کبھارہی گھرآتے ہیں۔کبھی کبھارتو سال بیت جاتا ہے۔برسوں سے بچوں نے اپنے والد کو نہیں دیکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مریم کے شوہر کی کئی بیویاں ہیں اور وہ ان کے پاس خوش ہے۔ بسا اوقات وہ سال میں ایک مرتبہ اپنے شوہر کی صورت دیکھ پاتی ہیں۔شوہر مریم پر شدید تشدد بھی کرتا ہے

مریم اب اکیلی ماں کی حیثیت سے ان 38 بچوں کی پرورش کررہی ہیں اور ان کے لیے سارے بچوں کو کھلانا اور پرورش کرنا بہت مشکل کام ہے۔
مریم کو اپنے بچوں کیلئے روزانہ 10 کلو آٹا،چارکلو شکراورصابن کی تین ٹکیاں درکار ہوتی ہیں۔حال ہی میں مریم کیلئے انٹرنیٹ پر چندے کی مہم چلائی گئی تو اس میں 10 ہزار ڈالر کی رقم جمع ہوئی جس کے بعد مریم اب قدرے پرسکون انداز میں اپنے بچوں کی کفالت کررہی ہیں۔

Facebook Comments