مولانا سمیع الحق،ایک بڑا عالم دین اور معتبرسیاست دان رخصت ہوا

مولانا سمیع الحق کے والد کا نام مولانا عبدالحق تھا،انہوں نے 1946 میں دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد نے رکھی تھی وہاں انہوں نے فقہ،اصول فقہ،عربی ادب اورحدیث کا علم سیکھا ان کو عربی زبان پرعبور حاصل تھا۔

 

مولانا سمیع الحق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے حامی تھے ان کی قیادت کے معترف تھے،انہوں نے ایک موقع پرکہا تھا کہ یہ آزادی کیلئے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں،انہوں نے ایک موقع پرکہا ’ان کو صرف ایک سال دیجئے اور وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دینگے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا،ایک بارامریکی چلے جائیں تو یہ ایک سال کے اندراندرہوگا،جب تک وہ وہاں ہیں،افغانوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہوگا

 

(رپورٹ: سید ماجد علی)

جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں چھریوں کے وار کرکے شہید کردیا گیا، وہ ایک ممتاز مذہبی اسکالر اور سینئر سیاست دان تھے۔مولانا سمیع الحق نے اپنی شہادت سے ایک روز قبل ہی خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے تنگی کے علاقے میں ایک کانفرنس سے اپنا آخری خطاب کیا اوروہاں موجود حاضرین نے اس اجتماع میں ان سے سیاسی اور جہادی بیعت کا اعلان بھی کیا تھا۔یعنی وہ جس سوچ اورنظریات کے داعی تھے آخری وقت تک اس پرعمل پیرا بھی رہے۔81 سالہ مولانا سمیع الحق نہ صرف سیاسی جماعت جمیعت علماء اسلام (س) کے سربراہ بلکہ دفاعِ پاکستان کونسل کے چیئرمین بھی تھے۔مولانا سمیع الحق 1985 سے 1997 تک پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے دو دفعہ رکن بھی رہے۔ وہ 2002 میں بھی ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے اور 2008 تک اس عہدے پر رہے۔مولانا سمیع الحق متحدہ مجلس عمل کے بانی رکن تھے اور 2001 سے لے کر 2006 تک سینیرنائب صدر رہے۔

حالات زندگی
مولانا سمیع الحق کے والد کا نام مولانا عبدالحق تھا،انہوں نے 1946ء میں دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم شروع کی جس کی بنیاد ان کے والد نے رکھی تھی وہاں انہوں نے فقہ اصول فقہ،عربی ادب اورحدیث کا علم سیکھا ان کو عربی زبان پرعبورحاصل تھا لیکن ساتھ ساتھ قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو میں بھی کلام کرتے تھے۔

افغانستان کے حالات پر کردار
مولانا سمیع الحق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے حامی تھے ان کی قیادت کے معترف تھے،انہوں نے ایک موقع پرکہا تھا کہ یہ آزادی کیلئے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہوگی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں،انہوں نے ایک موقع پرکہا ’ان کو صرف ایک سال دیجئے اور وہ سارے افغانستان کو خوشحال بنا دینگے سارا افغانستان ان کے ساتھ ہو گا،ایک بارامریکی چلے جائیں تو یہ ایک سال کے اندراندرہوگا،جب تک وہ وہاں ہیں،افغانوں کو اپنی آزادی کے لیے لڑنا ہوگا، انہوں نے کہا،،یہ آزادی کے لیے ایک جنگ ہے اور یہ تب تک ختم نہیں ہو گی جب تک بیرونی لوگ چلے نہ جائیں۔چند ماہ قبل بھی افغان حکومت کی جانب سے مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کرنے کیلئے کردار ادا کرنے کی دعوت کی گئی تھی تاہم انہوں نے افغان حکام سے معذرت کرلی تھی۔

مشہور فتویٰ
تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پولیو کے حفاظتی قطروں کو غیراسلامی قراردیا گیا تھا،البتہ مولانا سمیع الحق نے 9 دسمبر 2013 کو پولیو کے حفاظتی قطروں کی حمایت میں ایک فتویٰ جاری کیا۔

ملا عمربہترین طالب علم
ماضی میں ایک بارمولانا سمیع الحق نے ملاعمر کو اپنے بہترین طالب علموں میں سے ایک قراردیا تھا اورانہیں ایک فرشتہ نما انسان کہا تھا۔یاد رہے کہ مولانا سمیع الحق کی جماعت نے رواں سال 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات اسلامی جماعتوں کی متحدہ جماعت متحدہ مجلس عمل سے الحاق نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد کیا تھا۔

Facebook Comments