انتہا پسندی کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا،‌‌ حکومت نے جو قدم اٹھایا وہ علاج نہیں، فواد چودھری

انتہا پسندی کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا،‌‌ حکومت نے جو قدم اٹھایا وہ علاج نہیں، فواد چودھری

انتہا پسندی کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا،‌‌ حکومت نے جو قدم اٹھایا ہے وہ علاج نہیں، حکومت نے صرف فائر فائٹنگ ہی کی ، فی الوقت جو اقدام کیا وہ علاج نہیں عارضی حل ہے
آسیہ کی سیکیورٹی کے لئے حکومت تمام ضروری اقدامات کرےگی: وزیراطلاعات کاانٹرویو

لاہور،وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے احتجاج کے خاتمے کو عارضی حل قرار دے دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کوانٹرویومیں فوادچودھری نے کہا کہ انتہا پسندی کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا،‌‌
حکومت نے جو قدم اٹھایا وہ علاج نہیں، فی الوقت تو حکومت نے صرف فائر فائٹنگ ہی کی ہے، فی الوقت حکومت نے جو قدم اٹھایا وہ اس مسئلے کا علاج نہیں،
انتہا پسندی اور پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا ،شرپسندعناصر کیخلاف اقدامات کی ضرورت ہے،
حکومت آسیہ مسیح کی سکیورٹی کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گی،انہوں نے مزیدکہا کہ ہمارے پاس دھرنا ختم کرانے کیلئے دو آپشن تھے،
فورس استعمال کرتے تو لوگ قتل ہو سکتے تھے، ریاست کو ایسا نہیں کرنا چاہئے، ہم نے مذاکرات کی کوشش کی اور مذاکرات میں آپ کچھ حاصل کرتے ہیں اور کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔
بیماری کا علاج اصل چیز ہے اورحکومت اس مسئلے کے حل کیلئے پراعتماد ہے۔ اور اس مرض کے علاج کے لیے حکومت تمام ضروری اقدامات کرےگی

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری

وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے بی بی سی کوانٹرویو میں کہا ہے کہ پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کا مستقل حل ڈھونڈنا ہوگا ،شرپسندعناصر کیخلاف اقدامات کی ضرورت ہے،
حکومت نے احتجاج ختم کرانے کے لیے جو قدم اٹھایا وہ علاج نہیں، فی الوقت تو حکومت نے صرف فائر فائٹنگ ہی کی ہے، حکومت نے جو قدم اٹھایا وہ اس مسئلے کا علاج نہیں، حکومت انتہا پسندی اور پرتشدد احتجاج روکنے کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گی۔

Facebook Comments