مولانا سمیع الحق والد کے پہلو میں سپرد خاک

سیکیورٹی کے سخت انتظامات،داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹ بھی نصب کیے گئے۔نماز جنازہ شہید کے بڑے صاحبزادے مولانا حامدالحق نے پڑھائی،راجہ ظفرالحق،شاہ فرمان،اقبال ظفرجھگڑا،سراج الحق،حافظ سعید،حاجی غلام احمد بلور،علامہ محمد احمد لدھیانوی،امیرمقام،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ودیگررہنمائوں کی جنازے میں شرکت

شخصیات ویب رپورٹ
راولپنڈی،مولانا سمیع الحق کی نماز جنازہ اکوڑہ خٹک میں ادا کر دی گئی جس میں ملک بھر سے ہزاروں سوگواروں سمیت غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی۔بعد ازاں میت کو ان کے والد کے پہلو میں سپردخاک کردیاگیا۔مولاناسمیع الحق کو جمعہ کی شام بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں واقع ان کے گھر کے اندرچاقو وار کرکے قتل کیا گیا جب وہ اپنے بیڈ روم میں آرام کر رہے تھے۔ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 34 شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے مطابق مقتول کے سینے،بازو،کان اور پیشانی پر10 سے 12 زخم لگے۔مقتول کے اہلخانہ نے لاش کے پوسٹ مارٹم سے انکارکرتے ہوئے کہا ہے شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔فارنزک لیبارٹری اور تفتیشی حکام نے مولانا سمیع الحق کے کمرے سے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں۔حکام نے کمرے میں موجود اشیاء سے فنگرپرنٹس اوربحریہ ٹاؤن کے کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی ہے جبکہ مقتول کے دو ملازمین کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔پولیس نے تاحال اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا تاہم اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت مقتول کے زیراستعمال متعدد اشیاء کو بھی تحقیقات میں مدد کے لیے تحویل میں لی گئی ہیں۔مقتول کی نماز جنازہ خوشخال خان ڈگری کالج اکوڑہ کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی جہاں سیکیورٹی انتظامات کیے گئے اور داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹ بھی نصب کیے گئے ہیں۔نماز جنازہ کے بعد جسدخاکی کو جامعہ حقانیہ کے قبرستان میں دن کیا گیا۔مولانا سمیع الحق کی نمازجنازہ مقتول کے بڑے صاحبزادے مولانا حامدالحق نے پڑھائی جبکہ راجہ ظفر الحق،شاہ فرمان،اقبال ظفر جھگڑا، صاحبزادہ طارق اللہ، مفتی صلاح الدین پوپلزئی، عدنان کاکاخیل، اشرف علی تھانوی، سراج الحق، لیاقت بلوچ، حافظ سعید، حاجی غلام احمد بلور، علامہ محمد احمد لدھیانوی،امیرمقام،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، مولانا طیب طاہری،مشتاق احمد خان اورمولانا اللہ وسایا ودیگررہنما جنازے میں شرکت کی۔

Facebook Comments