فیض عالم بابر ، انتظار اور تنہائی کے مفہوم کو نیا رنگ دینے والا شاعر

فیض عالم بابر 1990 کی دہائی میں ابھرنے والے شعرا میں بہت نمایاں، منفرد ،جواں اور پختہ فکر شاعر ، 10اپریل 1978میں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں پیدا ہوئے

اب تواس شخص سے اتنا ہے تعلق باقی ۔۔۔۔۔  راہ چلتے ہوئے ملتا ہے بچھڑجاتاہے

وہ مجھے چھوڑ کے ہربار چلاجاتاہے  ۔۔۔۔۔  ۔جیسے آکرکوئی تہوار چلاجاتاہے

گفتگو، تحریرو تحقیق : سلیم آذر

1990کی دہائی میں ابھرنے والے شعرا میں فیض عالم بابر بہت نمایاں، منفرد ،جواں اور پختہ فکر شاعر ہیں۔ بابر کے ہم عصر اور ہم عمر شعرا وشاعرات میں ایسے چند ہی لوگوں کے نام سامنے آئیں گے جنھوںنے اپنے دیگر معمولات اور افعال و اشغال کے ساتھ ساتھ خود کو شعر و ادب کے ساتھ اس قدر تسلسل ، یکسوئی ، دل جمعی اور انہماک کے ساتھ جوڑے رکھا ہو ۔ یہی ایک سچے فن کار کی شناخت ہے۔وہ مساعد و نامساعد ہر دونوں حالات میں اپنے قلم کے ذریعے سے اپنے تاثرات لوح جہاں پر ثبت کرتا رہتا ہے۔

فیض عالم بابر 10اپریل 1978میں کراچی کے علاقے سولجر بازار میں پیدا ہوئے۔ ان کی بڑی بہن کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔ انھیں دیکھ کر فیض عالم بابر کو بھی کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔ دونوں بہن بھائی رات دن مطالعے میں غرق رہتے۔ انھوں نے ہر طرح کی کتابیں پڑھیں، شمع بینی ، ہپناٹزم کی بھی نہ صرف کتابیں پڑھیں بلکہ ان کی مشق بھی کی۔اب انھیں ہپناٹائز کرنا آیا کہ نہیں یہ تو معلوم نہیں ہاں اپنی شاعری کے ذریعے سب کو دم بخود کردینے کا فن انھیں ضرور آگیا ہے۔

 بچپن میں وہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ مطالعے کے علاوہ شاعری بھی کرتے تھے۔ ایک مصرعہ بہن دیتیں اور دوسرا مصرعہ وہ لگاتے، دوسرا مصرعہ سوچنے میں انھیں ہمیشہ دیر ہوجاتی جب کہ بہن ان کے دیے ہوئے مصرعے پر فوراً ہی مصرعہ لگا دیتی تھیں۔ بہن کے ساتھ یہی مشق انھیں شاعری کی سحر انگیز دنیا میں لے گئی ۔ بہن تو شادی کے بعد شاعری سے دور بچوں کا مستقبل سنوارنے میں مصروف ہوگئیں اور فیض عالم بابر شاعری کے معرکے سر کرنے میں بدستورمصروف ہیں۔

 فیض عالم بابر کہتے ہیں کہ آج میری بڑی بہن بطور شاعر میری پذیرائی دیکھتی ہیں تو بہت خوش ہوتی ہیں لیکن جب شاعری پڑھتی ہیں اور اس میں ٹی وی ڈراموں والا رومانس نہیں پاتیں تو بے حد خفا ہوتی ہیں اور ناراض ہو کر کہتی ہیں یہ کیا تم اول جلول شاعری کرتے رہتے ہو……تم بچپن ہی سے ایسے فضول ہو۔

 فیض عالم بابر کہتے ہیں کہ میری بہن ٹھیک کہتی ہیں ۔ میں سطحی شاعری نہیں کرسکتا ۔

 بادی ا لنظر میں بابرایک ناراض اور غصہ ور شخص نظرآتے ہیں مگرذراسی دیر گفتگو کرنے کے بعد ان کی نرم دلی، انسان دوستی اوران کے دل میں آباد اس کائنات کو اس کے اصل اور حقیقی حسن سے مزین دیکھنے کی شدید خواہش کاادراک کوئی بھی اہل دل کرسکتاہے!

عظیم راہی کہتے ہیں ” بابر گزشتہ دو دہائیوں سے دشت سخن کی خاک چھاننے میں منہمک ہے، یہ جملہ میں نے محض محاورةً استعمال نہیں کیاابلکہ میں پورے وثوق اور ذمے داری سے کہتا ہوں کہ فیض عالم بابر پردشت ِ سخن کی خاک چھاننے سے متعلق مذکورہ بالا جملہ اپنی تمام ترمعنویت کے ساتھ صادق آتاہے۔“

فیض عالم بابر کی اب تک کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ وہ اپنے دوسرے شعری مجموعے ”فکرکاہش“ میں جابہ جا اپنے تخلیقی جوبن پردکھائی دیتے ہیں، عصری شعور، جملہ تکنیکی وفنی تقاضوں کی حتی المقدور پاس داری، نہایت شدومد کے ساتھ نئی اورچونکادینے والی بات کوشعری قالب میں ڈھالنے کی جستجو، زبان وبیان کی شستگی، وسیع المطالعگی اوراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صلابتِ فکر کوخوش سلیقگی کے ساتھ اپنی مخصوص لفظیات میں پیش کرنے کاڈھنگ، سلوک کے مختلف مدارج کو مشاہدہ وتجربہ ہردونوں صورتوں میں ان کی اصل روح اوربھرپوتاثر کے ساتھ اس طرح بیان کرناکہ پورے کاپورا منظر اپنی تمام ترجزئیات کے ساتھ قاری یا سامع کی آنکھوں کے سامنے متحرک ہوجائے، یقیناً یہ سب معرکے کے کام ہیں”فکرکاہش“ میں راہ سخن کے درج بالاتمام دشوار اور مشکل مقامات سے فیض عالم بابر بہت سہل اور احسن انداز میں گزرتے

ٖفیض عالم بابراور سیما غزل

ٖفیض عالم بابراور سیما غزل

نظرآتے ہیں۔

احسن سلیم مرحوم کہتے ہیں فیض عالم بابر کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو یہ منکشف ہوتا ہے کہ اس جواں سال شاعر کی خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ’معصومیت‘ نے اپنے احساسات اور فکر کی آزاد تلازماتی فضا میں نہ صرف خود کو ڈھال دیا ہے بلکہ زبان و بیان کے موجودہ اسٹرکچر میں کئی نئے خیالات اور روایت سے پیوستہ کئی نئے جذبات و تصوّرات کو داخل کردیا ہے،مثلاً اس مجموعے کی پہلی غزل ہی اُس ذہنی کیفیت کو سامنے لاتی ہے جو شاعر کو ذہنی آزادی پر اُکساتی ہے ،تنہائی کا احساس عام طور پر حزنیہ کیفیت کو جنم دیتا ہے لیکن فیض عالم بابر کی اِس غزل کا متن شاعر کو اور قاری یا سامع کو اُس جمہوری بصیرت کی طرف لے جاتا ہے جس کا پہلا مطالبہ شخصی آزادی کو فعّال اور متحرک کرنا ہے،یہ غزل قارئین مطالعہ کریں گے تو ضرور لطف اندوز ہوں گے یہاں میں صرف دو شعر پیش کرنے پر اکتفا کروں گا

 ذرّے ذرّے میں بکھر کر رہ گیا میرا وجود

 میں نے مانگی تھی خدا سے جب دعا تنہائی کی

اب مجھے اِس موڑ پر تیری ضرورت بھی نہیں

خود کلامی بن گئی بابر دوا تنہائی کی

ان اشعار کو فیض عالم بابر کے نمائندہ اشعارکہاجاسکتا ہے اور جن کی بنیاد پرفیض عالم بابرکی فنکارانہ صلاحیتوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ، دیکھئے فیض عالم بابر کس انداز میں اس دنیا کودیکھتے ہیں۔

                                                                آج ان دونوں میں کوئی فیصلہ ہونے کوہے

                                                                ایک بولے جارہا ہے دوسرا خاموش ہے

   حصارِ وقت سے آزاد ہی رکھا خود کو

   کبھی کلائی پہ باندھی نہیں گھڑی میں نے

رواروی، نفسانفسی اورروبہ ز وا ل معاشرے پرکیا لطیف وبسیط اور تعمیری چوٹ ہے ،یہ ہے بابر کاطریقہ واردات بظاہر خود فریبی اورببا طن سرتاپاہشیاری۔

 انا کی پےاس بجھانے سے اور بڑھتی ہے

درندے سوچتے کب ہیں لہوبہاتے ہوئے

معاشرتی ناہمواریوں اورانسانی نفسےات کاادراک ایک فنکار کے اپنے عہدمیں تمام ترحسیات کے ساتھ موجود ہونے کی دلیل ہے یہ شعربھی بابر کی قوت مشاہدہ کی صلابت کاغماز ہے۔

اگر کوئی فیض عالم بابر کے صرف کلام پر ہی بات کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ فیض عالم بابر کی ذات کو منہا یا ان کی شخصیت کو نظرانداز کردے ۔یہ بابرکی سچی اور بے لوث شخصیت کا ہی کمال ہے کہ کوئی اس سے صرف نظر نہیں کرسکتا۔ یوں بھی فن اورفن کاراگر(کلی طورپر نہ سہی، جزوی طورپر ہی سہی) ایک دوسرے کی عکاسی نہ کرتے ہوں تومعاملہ مشکوک ہوجاتا ہے۔ فن کار کاکردار اس کے فن اور تخلیقات میں شعوری یا غیر شعوری طور پرکہیں نہ کہیں درآتاہے۔

  توخداکومان ردکردے عبادت کرنہ کر

 یارتیرامسئلہ ہے میرادرد سرنہیں

مذہبی انتہاپسندی اور اس کے تباہ کن نتائج کے مضمرات سے آگا ہی رکھنا ہرکس وناکس کے بس کی بات نہیں پھر ان کاکوئی مدلل اور قابل عمل حل پیش کرنا ایسے انداز میں کہ سطحی ذہنیت کے حامل لو گ اسے مادیت پرستی تصور کریں، دل گردے کاکام ہے

اب تواس شخص سے اتنا ہے تعلق باقی
 راہ چلتے ہوئے ملتا ہے بچھڑجاتاہے
وہ مجھے چھوڑ کے ہربار چلاجاتاہے
جیسے آکرکوئی تہوار چلاجاتاہے
وہ کسی کے بھی منتظرنہ رہے
جن پہ مفہوم ِ ا نتظار کھلا
سوتے میں جب آنکھ کھلے تواکثرایسے لگتا ہے
دروازے پردے کردستک زور سے کوئی چیخا ہے

غم اورخوشی کااحساس ہرانسان کومختلف انداز میں ہوتا ہے۔ بابرکے ہاں ان دونوں کیفیات میں شدت پائی جاتی ہے۔ لیکن خوش آئندبات یہ ہے کہ مذکورہ بالا ہردونوں صورتوں میں بلاکی رجائیت ہے۔ اتفاقی ملاقات کی چند ساعتوں کوایک طویل اورغیر معینہ مدت پرمبنی جدائی سے صرفِ نظرکرتے ہوئے سرشار رہنا بھرپور رجائیت ہے۔ تیزرفتارزندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں تلاش کرنا اور زیرلب شکوہ کناں رہنا یہ بھی فیض عالم بابر کی فطرتِ ثانیہ ہے
تیری خوشبوسے کیوں مہکتے ہیں
 تیرے کپڑے مجھے پسند نہیں

  گھونگھٹ گراکے اورکبھی گھونگھٹ اٹھاکے میں
کاغذ پہ دیکھ لیتا ہوں دلہن بنا کے میں

 پہلے تواپنے آپ کوتم سابناؤں گا
پھراس کے بعد میں تمہیں اپنا بناؤں گا

جس کوکھونا تھا کھودیا اس کو
 جس کوہونا تھا ہوگئی میری

شدت کی محبت اوراس کے نتیجے میں پیداہونے والی بلا کی رقابت بھی انسانی فطرت کاجزو لا ینفک ہے ،فیض عالم بابر بھی کہیں کہیں اس شدتِ رقابت کی زد میں آجاتا ہے ۔ محرومیوں، نارسائی اور ناآسودہ جذبات کے زیر اثر آکربیش ترلوگ قنوطیت اور نرگسیت کاشکار ہو جاتے ہیں جس کے اثرات خودان کی ذات پربراہ راست اور معاشرے پربالواسطہ مرتب ہوتے ہیں ، مگر فیض عالم بابر نے اپنی محرومیوں، نارسائیوں اور ناآسودگیوں(خواہ وہ عارضی ہوں یادائمی ) کوبھی اپنے موثرترین ہتھیاروں( جنھیں میں در پردہ صبر اور حوصلہ مندی کہوں گا) سے رجائیت میں منقلب کردیاہے۔

میت کودفنا کرسارے کھانا کھانے بیٹھیں تو
سیٹی مارکے زورسے ہنس دوں ،پاگل ہوں دیوانہ ہوں
 رونے کی آواز سنوں توصحن میں رکھے مردے کو
تھپڑ جڑکر زندہ کردوں، پاگل ہوں دیوانہ ہوں
ہرچند کہ پاگل ہوں دیوانہ ہوں کی ردیف میں کہی گئی یہ پوری غزل اپنی روانی، نکتہ آفرینی ، دردمندی ، سوزوگداز اورزبان کی چاشنی لیے ہوئے فیض عالم بابر کے فکر و فن کی صحیح معنوں میں بھرپورعکاسی کررہی ہے۔ مگریہ دوشعر توغضب کے ہیں۔ رو بہ زوال معاشرتی اقدار پراتنی گہری نگاہ کوئی اہل ِ دل ہی رکھ سکتا ہے جس کااظہار بابرنے مندرجہ بالا پہلے شعر میں نہایت سہولت اور سلاست سے کیاہے۔ پاگل ہوں دیوانہ ہوں کی ردیف کی رعایت اٹھا کربابرنے انتہائی خوبصورت پیرائے میں معاشرتی بدصورتیو ں، منافقتوں اور روزمرہ کے افعال و اشغال جوغیر محسوس طریقے سے ہمارے معمولات میں شامل ہوچکے ہیں کا نقشہ کھینچاہے۔

فیض عالم بابر ایک جگہ کہتے ہیں

  زنجیر نہیں ہوتا تصویر نہیں ہوتا
احوال مرا مجھ سے تحریر نہیں ہوتا
یہ ان کا تجاہلِ عارفانہ بھی ہے اور عجز و انکسار بھی
  احسن سلیم مرحوم کہتے ہیں کہ زندگی کا 80 فی صد سے زیادہ حصّہ انسان کے احساسات اور جذبات پر مشتمل ہوتا ہے۔احساسات اور جذبات کے شعری اظہاریے میں اگر دانش و حکمت اور فکر کی تمازت بھی شامل ہوجائے یا اشعار میں بین السطور عقل کی جمالیاتی کار گزاری بھی ہلکورے لیتی دکھائی دینے لگے توشعر کی معنویت دو آتشہ ہوجاتی ہے،شاعر ی شراب سے زیادہ نشہ آور شے بن جاتی ہے، فیض عالم بابر کی شاعری میں ایسا ہی نشہ محسوس ہوتا ہے ، یوں لگتا ہے جیسے آدمی خود سے باتیں کرنے لگا ہو

خودکلامی شاید وہ پہلا اصول ہے جو گیان دھیان کی طرف لے جاتا ہے،گیان دھیان پہلے مرحلے میں انسان کو حرکت اور عمل سے روکتا ہے،آخری مرحلے میں گیان دھیان اُس منزل پر پہنچ جاتا ہے جہاں بقول ’بدھا‘ عمل خود بہ خود تمھارے اندر اِس طرح سے اُگنے لگتا ہے جیسے زمین میں ازخود گھا س اُگتی ہے۔اِسی طرزِ احساس سے جُڑی ہوئی ایک غزل کے یہ اشعار دیکھئے

          کیا بتاﺅں حال دل کا اور بتا بھی دوں تو کیا
           کون سُنتا ہے کسی کی، میں سُنا بھی دوں تو کیا

           خود کلامی کررہی ہیں ہر طرف خاموشیاں
           ایسے عالم میں کسی کو، میں صدا بھی دوں تو کیا

           اُس طرف بھی کوئی میرا آشنا ہوگا کہاں
           آسمانوں کا اگر پردہ ہٹا بھی دوں تو کیا
اِس غزل کی ردیف کا تاثر بظاہر مایوسی کا اعلان نامہ لگتا ہے لیکن بہ باطن یہ غزل بھی خود انحصاری یاصبر و تحمل کی وہ کنجی مہیّا کرتی ہے جس سے معاشرے میں افہام و تفہیم کے مقفّل دروازوں کو کھولا جاسکتا ہے۔

          سوچ میں ڈوبی ہوئی خاموشیوں کے درمیاں
           میں کبھی چیخوں گا بابر؟ ہاں کبھی چیخے گا تُو

یعنی فیض عالم بابر نے اپنے اندر اپنی شاعری کے بہت سے قاری پیدا کرلیے ہیں جو اس کے شعر سُنتے ہیں ،اس کے ہر سوال کا جواب بھی دیتے اور ڈراتے دھمکاتے بھی ہیں

          خوش بہت تھا ذات کی تعمیرِ نو کے کھیل میں
          اور اک دن آن پہنچا مرحلہ تکمیل کا

اور شاید یہی شاعر کے لیے تکمیل کا مرحلہ ہوتا ہے۔

فیض عالم بابرکا منتخب کلام

غزل

سارا ماحول بدل جاتا ہے
جب کوئی دل سے نکل جاتا ہے
 ایک دن چیخ میں ڈھل جاتا ہے
 ضبط جب خوب اُبل جاتا ہے
نفس ہوتا ہے سمندر جیسا
جو بھی مل جائے نگل جاتا ہے
 بولنے والا اُگلتا جائے
 سوچنے والا بدل جاتا ہے
کوئی تو ہے جو مرے اندر سے
رات ہوتے ہی نکل جاتا ہے
 دوست، سورج کو بناتا کیسے
 دھوپ میں موم پگھل جاتا ہے
آزمائش کی ہوا چلتے ہی
فخر اک پل میں نکل جاتا ہے
 لاکھ مدہوش ہو بابر لیکن
 دیکھ کر مجھ کو سنبھل جاتا ہے

٭٭٭

غزل

اُٹھا کے خود کو زمیں پر پٹخ دیا ،ہاہا
پھر اُسکے بعد بہت دیر تک ہنسا،ہا ہا
کوئی نہ جاتا تھا اُس گھر میں بھوت کے ڈر سے
وہاں گیا تو صدا آئی مرحبا ،ہا ہا
سڑک پہ رات کوئی جب نظر نہیں آیا
گلی کے کتّوں پہ میں بھونکنے لگا،ہاہا
       کچھ ایسی شان سے داخل ہوا ہوں مندر میں
       سبھی پکا ر اُٹھے ہیں خدا خد ا ،ہاہا
وہ خوش مزاج جو خاموش بیٹھا رہتا تھا
اُسے جو چھیڑا تو مجھ پرہی پھٹ پڑا ،ہاہا
       وہ اب کی بار بنانے سے پہلے سوچے گا
       بنایا جس نے میں اُسکا نہ بن سکا ،ہاہا
اندھیرا چھا گیا اندر تو ایک دن بابر
دِیا جلایا ،جلا کر نِگل گیا ،ہاہا

٭٭٭

لال چمٹا

مجھے اک واقعہ بچپن کا اپنے
 یاد ہے اب تک
کہ اپنی درس گاہِ علم سے
اک روز کی تھی جان کر چھٹّی
اور اپنی والدہ سے جھوٹ بولا تھا
کہ سر نے سارے بچّوں سے کہا ہے
آج چھٹّی ہے
مرے ہم جولیوں کو ماں نے جب
اسکول سے آتے ہوئے دیکھا
تو اُن پر کُھل گیا تھا مجھ سے
میرے لاڈلے نے جھوٹ بولا ہے
پھر اُسکے بعد غصّے میں
کچن میں لے گئی تھی مجھ کو
بازو سے پکڑ کر ماں
وہاں جاکر دہکتی آگ پر
چمٹا رکھا اور چیخ کر بولی
زباں تیری جلاﺅں گی
کہ تونے جھوٹ کیوں بولا
اگر چھٹّی ہی کرنا تھی
تو مجھ سے سچ کہا ہوتا
میں رونے لگ گیا تھا
دیکھ کر اُس لال چمٹے کو
مری ماں نے لگا کر اپنے سینے سے
مجھے پھر خوب چُوما تھا
کہا تھا مجھ سے یہ بھی
غور سے سُن لے
دوبارہ جھوٹ بولا تو
زباں سچ میں جلا دوں گی
وہ دن ہے آج کا دن ہے
کہ مجھ سے جھوٹ بولا
ہی نہیں جاتا

 ٭٭٭

میری آنکھیں سنبھال کر رکھنا

ایک لڑکی جو بے بصارت تھی
دیدِ عالم کی دل میں حسرت تھی
ایک لڑکے سے پیار کرتی تھی
پیار بھی بے شمار کرتی تھی
اُسکا عاشق بھی جان دیتا تھا
ہر گھڑی اُسکے پاس رہتا تھا
اُسکے عاشق نے ایک دن اُس سے
شادی کرنے کی بات چھیڑی تو
اُس نے رُو کر کہا کہ اے ساجن
میں تمھاری بنوں گی تب دلہن
اپنی آنکھوں سے تم کو دیکھوں گی
تب تمھیں اپنا آپ سونپوں گی
کچھ دنوں بعد اُس حسینہ کو
خود کو ظاہر کِیے بِنا بھیجیں
اپنی آنکھیں کسی نے تحفے میں
اب وہ دنیا کو دیکھ سکتی تھی
اپنے عاشق کو اُس نے دیکھا تو
اُسکو یہ دیکھ کر ہُوا افسوس
جس پہ وہ جاں نثار کرتی ہے
وہ بھی اُسکی طرح ہی اندھا ہے
اُس سے پوچھا پھر اُسکے عاشق نے
اب مجھے اور ساری دنیا کو
اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتی ہو
اب کروگی نا مجھ سے شادی تم؟
اُس نے سوچا یہ سُن کے لمحہ بھر
اور  انکار کردیا یکسر
کرکے انکار ہوگئی رخصت
اپنے عاشق کو چھوڑ کر بد بخت
کچھ دنوں بعد اُسکے عاشق نے
اک سطر کا لکھا تھا خط اُسکو
جس میں لکّھا ہُوا تھا بس اتنا
میر ی آنکھیں سنبھال کر رکھنا
 ٭٭٭

سفر محدود ہے میرا

گزشتہ چند برسوںسے
مرا کمرہ،کتابیں ،میں ہوں
اور میری اُداسی ہے
بہت دن سے کسی نے کال کرکے
 خیریت پوچھی نہیں میری
بہت دن سے کسی نے پھول کا تحفہ نہیں بھیجا
بہت دن سے کہیں سے سینٹ کی شیشی نہیں آئی
موبائل فون پچھلے سال کا اب تک نہیں بدلا
 بہت دن ہوچکے ہیں مجھ کو اپنے بال بنوائے
 بہت دن سے کلف کرکے نہیں پہنا ہے
 کوئی سُوٹ کاٹن کا
 بہت دن سے نہ موتن داس جاکرجِینس کی پینٹیں
 خریدی ہیں نہ طارق روڈ سے کُرتے
بہت دن سے نہیں دیکھا ہے جاکر سی ویو میں نے
بہت دن ہوچکے ساحل پہ جاکر گُھڑ سواری کو
بہت دن سے نہیں بیٹھا ہوں آغا جوس پر جاکر
بہت دن سے ڈنر پی سی میں کرنے کی
کوئی دعوت نہیں آئی
 بہت دن سے نہیں جانا ہوا
کیفے پیالہ چائے نوشی کو
بہت دن سے نہیں آئے ادب پر بات کرنے میڈیا والے
کئی سالوں سے یاہو، فیس بک پر وقت ضائع کررہا ہوں میں
گزشتہ چند برسوں سے
کہاں ہیں مونس و ہمدم؟
 کہاں معبود ہے میرا؟
 مرے کمرے سے دفتر تک
سفر محدود ہے میرا
                                ٭٭٭

غزل

کل اُس درخت تلے آنکھ کیا لگی اُستاد
چڑیل میرے گلے لگ کے روپڑی اُستاد
       پڑی تھی لاش مری اور ہنس رہے تھے گِدھ
       پھر اُس کے بعد مری آنکھ کُھل گئی اُستاد
میں حُور جان کے اُس کے قریب آیا تو
وہ آگ تھی سو اچانک بھڑک اُٹھی اُستاد
       میں آج خوش ہوں بہت خوش ہوں اس لیے خوش ہوں
       نِگل گیا تھا میں کل رات چھپکلی اُستاد
ڈسا نہیں تھا مجھے اُس سفید ناگن نے
بدن پہ میرے مگر رینگتی رہی اُستاد
       وہ میرے روپ میں آئی تو چیخ اُٹّھا میں
       میں اُسکے روپ میں آیا تو ڈر گئی اُستاد
ہمیں پُکارنے والا نظر نہ آئے تو
ہماری گھومنے لگتی ہے کھوپڑی اُستاد
       اِسی لیے تو میں بابر سے روز ملتا ہوں
       مہک گلاب کی لاتی ہے تازگی اُستاد
 اس ا نٹرویو کی تیاری کے لیے منفرد شاعر جناب عظیم احمد راہی اور ممتاز شاعر ، نقاد مدیر اجرا جناب احسن سلیم مرحوم کے فیض عالم بابر کی ذات ، شخصیت اور کلام پر لکھے مضامین سے استفادہ کیا ہے جس کے لیے میں اپنے دوست عظیم راہی کا مشکور اور محترم احسن سلیم مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہوں۔

Facebook Comments