فہمیدہ ریاض لاہور میں سپرد خاک،ممتاز ترقی پسندشاعرہ ، ادیبہ کو اعلیٰ خدمات پر خراج عقیدت

فہمیدہ ریاض ، ترقی پسند شاعرہ ، ادیبہ، افسانہ نگارمترجم تھیں، 28جولائی 1945کو بھارتی کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئی، 73برس کی عمر میں 21نومبر 2018کو لاہور میں انتقال کرگئیں

فہمیدہ ریاض کی نماز جنازہ میں معروف شاعر امجد اسلام امجد، سینئر صحافی امتیاز عالم،حسین نقی، سابق پرنسپل این سی اے سلیمہ ہاشمی اور دیگر ممتاز علمی، ادبی وسماجی شخصیات کی شرکت کی۔

ہجرت

 فہمیدہ ریاض کا گزشتہ روز73 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔ وہ گزشتہ چند ماہ سے علیل تھیں اور لاہور میں بدھ کی شام (21نومبر2018) کو خالق حقیقی سے جاملیں۔ وہ 28جولائی 1945 کو میرٹھ کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ، قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کرکے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں آباد ہوگیا۔

 شاعری کا آغاز

 حیدرآبادمیں طالب علمی کے دور میں پہلی نظم لکھی جو ”فنون“میں شائع ہوئی ،یوں تو انھوں نے ادب کی ہر صنف میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ، بہترین افسانے لکھے، تراجم کیے، شاعری کی لیکن ادب میں ان کی محبوب صنف سخن نظم تھی

تخلیقات

فہمیدہ ریاض کا خاندان قیام پاکستان کے بعد‌میرٹھ سے ہجرت کرکے سندھ کے شہر حیدرآباد میں آباد ہوگیا

فہمیدہ ریاض کا خاندان قیام پاکستان کے بعد‌میرٹھ سے ہجرت کرکے سندھ کے شہر حیدرآباد میں آباد ہوگیا

فہمیدہ ریاض کاپہلاشعری مجموعہ”پتھر کی زبان“1967میں آیا۔ دوسرا مجموعہ’’بدن دریدہ“ 1973 میں انگلینڈ کے زمانہ قیام میں شائع ہوا  ان کا تیسرا مجموعہ کلام دھوپ تھا۔

اس کے علاوہ انہوں نے شاعری اور فکشن میں کم و بیش 15 کتابیں اور کئی مضامین تحریر کیے جن میں شاعری میں ان کے مجموعے پورا چاند، آدمی کی زندگی، ناولوں میں زندہ بہار، گوداوری ،کراچی اور دیگر شامل ہیں۔

فکشن اور شاعری کے علاوہ انہوں نے اردو ترجمہ نگاری میں بھی نام کمایا ، مولانا رومی کی مثنوی کا فارسی سے اردو میں ترجمہ نمایاں ہے۔

 دوسرا مجموعہ کلام ”بدن دریدہ“جب منظر عام پر آیا تو ان بے باک نسائی لہجے اور اظہار نے قارئین کو چونکادیا۔ان کے اس شعری مجموعے بدن دریدہ پر شدید نکتہ چینی بھی کی گئی۔

خدمات اور اس کا اعتراف

فہمیدہ ریاض نے اپنی ادبی اور سماجی زندگی کے دوران ملک میں جمہوری اقدار، انسانی حقوق اور خواتین کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے جدوجہد کی۔

وہ جنرل ضیا الحق کے دور میں بھارت چلی گئی تھیں اور ان کے انتقال کے بعد ہی پاکستان واپس آئیں۔ فہمیدہ ریاض اپنے تانیثی اور غیر روایتی اور ترقی پسندانہ خیالات کے لیے معروف تھیں۔

فہمیدہ ریاض کو 2009 میں دو سال کے لیے چیف ایڈیٹر اردو ڈکشنری بورڈ کراچی مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ اسلام آباد میں نیشنل بک فاﺅنڈیشن کونسل کی بھی سربراہ رہیں۔

حکومت پاکستان نے انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں 2010 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز سے نوازا۔

فہمیدہ ریاض کو 2017 میں ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے ہیمت ہیلمن ایوارڈ برائے ادب، 2005 میں المفتاح ایوارڈ برائے ادب و شاعری اور شیخ ایاز ایوارڈ بھی دیا گیا۔

اظہار تعزیت

 وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب،ناول نگار کاملہ شمسی ، آن لائن میگزین اور انسائیکلوپیڈیات ” شخصیات“ کے چیف ایڈیٹر سلیم آذر اور دیگر معروف سیاسی ، علمی و ادبی شخصیات نے فہمیدہ ریاض کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال نہ صرف ادب بلکہ جمہوریت کے لیے بھی نقصان قرار دیا۔ انھوں انے کہا کہ فہمیدہ ریاض آمریت کے تاریک دنوں میں روشنی کی کرن تھیں۔

 ادبی خدمات کے اعتراف میں 2010 میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز دیا گیا

ادبی خدمات کے اعتراف میں 2010 میں انھیں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز دیا گیا

Facebook Comments