کرسمس ، عیسائی برادری کے ساتھ ساتھ دیگر قومیت کے لوگ بھی مناتے ہیں

کرسمس ، مغربی ممالک کے کئی گھرانوں میں مذہبی رسم سے زیادہ تقافتی تہوار کی حیثیت اختیار کرگیا
کرسمس کی آمد پر چراغاں، تحائف کا تبادلہ اور کرسمس پارٹی کرنا یہاں کے تعلیمی مراکز ، ثقافتی و سماجی اداروں دفاتر ،ریستوراں و دیگر عوامی مراکز پر بہت عام ہے
اس حوالے سے جرمنی کے سماجی قوانین میں متعدد سہولتیں بھی موجود ہیں، کرسمس بازار کو قانونی تحفظ حاصل ہے اور اسے عوام کے لیے سماجی تفریح اور خوشی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے

عشرت معین سیما۔ برلن ، جرمنی

عشرت معین سیما۔ برلن ، جرمنی

جرمنی میں کرسمس بازارمیلے کی طرح سجتے ہیں جو کرسمس سے چار ہفتے قبل شروع ہوکر25 اور26 دسمبر کے علاوہ جنوری کے پہلے ہفتے تک اپنی رونق بحال رکھتے ہیں

اس میلے نما بازار میں لوگ ایک خاص کرسمس مشروب “ گلو وائین “ اور کرسمس بیکری کے خاص پکوان کھانے کے لیے بھی آتے ہیں

کرسمس سے قبل اشیائے خور و نوش، کپڑوں ،جوتوں ،دستکاری مصنوعات میوہ جات، زیورات ، کھلونوں اور گھر کی آرائش کے سامان، پر خاص رعایتی سیل لگائی جاتی ہے تاکہ ہر طبقے کے افراد اس تہوار کو اپنی استطاعت کے مطابق منا سکیں

جرمنی میں کرسمس کی آمد دیگراقوام کے لیے ثقافتی سرگرمیوں کا رنگ اختیار کرگئی ہے
رپورٹ : عشرت معین سیما، برلن جرمنی

کرسمس کا تہوار دنیا بھر میں عیسائی برادری کے ساتھ ساتھ دیگر قومیت کے لوگ بھی مناتے ہیں۔ خاص طور پر مغربی ممالک میں بسنے والے کئی گھرانوں میں یہ تہوار مذہبی رسم سے زیادہ ایک ثقافتی تہوار کی حیثیت رکھتا ہے۔ کرسمس کی آمد پر چراغاں کرنا یا تحائف کا تبادلہ اور کرسمس پارٹی کرنا یہاں کے تعلیمی مراکز ، ثقافتی و سماجی اداروں سے لے کر ہر طرح کے دفاتر اور ریستوراں و دیگر عوامی مراکز پر بہت عام ہے بلکہ جرمنی کے سماجی قوانین میں اس کے لیے متعدد سہولتیں بھی موجود ہیں۔ جیسے کہ کرسمس بازار کو جرمنی میں ایک قانونی تحفظ حاصل ہے اور اسے عوام کے لیے سماجی تفریح اور خوشی کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔

لوگ سانتا کلاز اور کرسمس ٹری کے ساتھ تصاویر بنوانا پسند کرتے ہیں

لوگ سانتا کلاز اور کرسمس ٹری کے ساتھ تصاویر بنوانا پسند کرتے ہیں

جرمنی میں ہر سال سیکڑوں کرسمس بازار سجائے جاتے ہیں ، جو کرسمس سے چار ہفتے قبل شروع ہوکر25 اور26 دسمبر کے علاوہ جنوری کے پہلے ہفتے تک اپنی رونق بحال رکھتے ہیں۔ ان بازاروں میں دنیا بھر کی دستکاری کی اشیا اور میوہ جات کی فروخت عروج پر رہتی ہے۔ اس میلے نما بازار میں لوگ ایک خاص کرسمس مشروب “ گلو وائین “ اور کرسمس بیکری کے خاص پکوان کھانے کے لیے بھی آتے ہیں۔

اس بازار میں بچوں کی دلچسپی کے لیے جھولے اور لاٹری کا بھی انتظام ہوتا ہے۔ کرسمس فادر کے روپ میں نوجوان اس مارکیٹ میں بچوں کو چاکلیٹ اور کھلونے بانٹتے ہیں اور ان کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں۔ یہ بازار بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں۔

کرسمس سے قبل اشیائے خور و نوش کے ساتھ ساتھ کپڑوں ،جوتوں ،زیورات ، کھلونوں اور گھر کی آرائش کے سامان پر خاص رعایتی سیل لگائی جاتی ہے تاکہ ہر طبقے کے افراد اس تہوار کو اپنی استطاعت کے مطابق منا سکیں۔بچوں کے لیے کرسمس پر کھلونوں اور چاکلیٹ نہایت سستے داموں میں فروخت ہوتے ہیں۔ اس ڈیجیٹل دور میں بھی یہاں لوگ کرسمس کارڈ اور تحائف ایک دوسرے کو بذریعہ ڈاک بھیجتے ہیں جس کی وجہ سے دسمبر کے مہینے میں محکمہ ڈاک اپنی اضافی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

کرسمس کے پہلے چار اتوار ایڈوینٹ ویک کہلاتے ہیں جس میں ایک شمع کو روشن کر کے حضرت عیسیٰ کی آمد منائی جاتی ہے۔

کرسمس کے پہلے چار اتوار ایڈوینٹ ویک کہلاتے ہیں جس میں ایک شمع کو روشن کر کے حضرت عیسیٰ کی آمد منائی جاتی ہے۔

کرسمس فادر کی تحائف سے بھری جادوئی سواری کا دیدار بچوں کے لیے اس تہوار کا سب سے اہم اور پر تجسس لمحہ ہوتا ہے جب کوئی اسٹوڈنٹ کرسمس فادر بن کر24 دسمبر کی شام سے ہر گھر میں کسی پری کے لباس میں طالبہ کو ساتھ لے کر ہاتھ میں سنہری کتاب لیے بچوں والے گھروں میں دستک دیتے ہیں۔ بچے اس لمحے کی تیاری میں سال بھر کے اچھے کام اور اپنی اہلیت کو کرسمس فادر یعنی سانتا کلاز کے سامنے پیش کرتے ہیں جیسے کوئی کرسمس گیت سنا کر یا کسی بانسری یا پیانو پر کوئی دھن بجا کر سناتے ہیں اور تحائف وصول کرتے ہیں۔ یہ تحائف بچوں کی کی ان خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں جو وہ کرسمس سے قبل ایک پرچی میں لکھ کر کرسمس فادر کو اپنے والدین کے ذریعے بھیجواتے ہیں۔ والدین خاموشی سے ان تحائف کا بندوبست کر کے یہ تحفے سانتا کلاز کے حوالے کر دیتے ہیں۔

کرسمس فادر یعنی سانتا کلاز 24 دسمبر کی شام سے تحائف بانٹنے کے لیے بچوں والے گھروں میں دستک دیتے ہیں

کرسمس فادر یعنی سانتا کلاز 24 دسمبر کی شام سے تحائف بانٹنے کے لیے بچوں والے گھروں میں دستک دیتے ہیں

چھ دسمبر کو بھی بچے اپنے جوتے پالش کر کے دروازے پر رکھ دیتے ہیں اور نیکولائوس نامی ایک مہربان ان جوتوں میں بچوں کے لیے چاکلیٹ، اخروٹ اور نارنگی رکھ کر چلا جاتا ہے۔ یہ سب بھی فرضی طور پر والدین یا دوست احباب بچوں کے لیے کرتے ہیں۔
کرسمس کے پہلے چار اتوار ایڈوینٹ ویک کہلاتے ہیں جس میں ایک شمع کو روشن کر کے حضرت عیسیٰ کی آمد منائی جاتی ہے۔ جب چاروں اتوار ایک ایک موم بتی جلا دی جاتی ہے تواس کے بعد دھوم دھام سے کرسمس چراغاں کر کے منائی جاتی ہے ۔ لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ان چار ایڈوینٹ اتوار سے قبل عیسائی مذہب کے پیروکار اپنے مرحومین دوستوں اور رشتہ داروں کی یاد میں ڈیڈ سنڈے بھی مناتے ہیں جس میں وہ قبرستان جاکر اپنے پیاروں کی آخری آرام گاہ پر پھول چڑھاتے ہیں اور دیے روشن کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہی کرسمس بازار کھلتے ہیں اور شہر بھر میں چراغاں کیا جاتا ہے۔24دسمبرکی شام کو تمام گھر والے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور25 کی صبح گرجا گھروں میں عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں جب کہ دیگر مذاہب یا مذہب کو نہ ماننے والے اس روز اپنے یا دوستوں کے گھروں میں ضیافت کی اجتماعی دعوتوں کا اہتمام کرتے ہیں۔

 کرسمس بازار میں‌میلے کی رونق، دوسری طرف تحائف کے پیکٹ رکھے ہیں

کرسمس بازار میں‌میلے کی رونق، دوسری طرف تحائف کے پیکٹ رکھے ہیں

عید کسی بھی مذہب کی ہو وہ خوشیوں کا تہوار ہوتی ہے اور خوشیاں منانے اور بانٹنے کے لیے مذہب ، نسل اور قومیت کی شناخت ہونا ضروری نہیں۔ اس موقع پر گرجا گھروں سمیت ہر جگہ دعا کی جاتی ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کی نیک تعلیمات دنیا بھر میں عام ہوں اور آنے والا نیا سال تمام عالم کے لیے یکجہتی اور امن کا سال قرار پائے۔

Facebook Comments