محمد حفیظ کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان ، ون ڈے اورٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے

 ٹیسٹ کرکٹ،محمد حفیظ نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، ون ڈے اورٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے
محمد حفیظ 55 ٹیسٹ میچوں میں 10سنچریوں اور 12 نصف سنچریوں کی مدد سے 3644 رنز بنا چکے ہیں۔

اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ ابوظبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیل رہے ہیں۔ جہاں تیسرے میچ کے دوسرے دن کھیل کے اختتام پر اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔

محمد حفیظ نے  ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ،تاہم محدود اوورز کی کرکٹ جاری رہے گی وہ ون ڈے اورٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔ وہ اپنے کیریئرکا آخری میچ ابوظبی میں کھیل رہے ہیں۔

انھیں حالیہ کارکردگی پر تنقید کا سامنا رہا، ابوظہبی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں نیوزی لینڈ کے خلاف بھی وہ صفر کے اسکور پر پویلین لوٹ گئے تھے۔

ابوطبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ کے دوسرے دن اختتام پر پریس کانفرنس میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے محمد حفیظ نے کہا کہ میں ریٹائرمنٹ کا 2 ہفتے سے سوچ رہا تھا۔ فیصلہ ذاتی ہے، اپنے کیریئر سے مطمئن ہوں، پی سی بی کا شکر گزار ہوں 15 سال ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔

اس سفرمیں جس جس نے میری رہنمائی کی اس کا شکر گزار ہوں، اپنے تمام ساتھی کھلاڑیوں، پی سی بی اور ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ پاکستان ٹیم مستقبل میں بہت اچھی  کرکٹ کھیلے گی۔انھوں نے کہا کہ قومی ٹیم کے سلیکٹرز کو آگاہ کر دیا ہے کہ اپنی تمام تر توجہ محدود اووز کی کرکٹ پر مرکوز رکھنا چاہتا ہوں۔

محمد حفیظ

محمد حفیظ

 

محمد حفیظ کے ٹیسٹ کیرئیر پر ایک نظر

 

محمد حفیظ 17اکتوبر 1980 کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹی ٹوئنٹی کے کپتان بھی رہے ہیں۔

وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم اوپنر ہیں اور سیدھے ہاتھ سے بلے بازی کرتے ہیں اور سیدھے ہاتھ سے آف بریک گیند بازی بھی کرتے ہیں۔

محمد حفیظ کو پروفیسر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ وہ دنیا کے نمبر 1 آل راﺅنڈر بھی رہے ہیں۔ ان کا شمار ان پاکستان کے بہترین آل راﺅنڈرز میں ہوتا ہے۔

محمد حفیظ نے 22 سال کی عمر میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں بنگلہ دیش کے خلاف راشد لطیف کی قیادت میں کھیلا۔

پہلی اننگز میں وہ صرف 2 اور دوسری اننگز میں 50 رنز بنانے میں کامیاب رہے، دوسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پشاور میں انھوں نے کیرئیر کی پہلی سنچری ناٹ آوٹ 102 رنزبنائی۔

پہلی ٹیسٹ سیریز کے تین  میچوں میں 214 رنز بنانے والے حفیظ کو پہلی  سیریز کے بعد دوسری سیریز کھیلنے کے لیے تین سال انتظار کرنا پڑا۔

محمد حفیظ

محمد حفیظ

ان کے کیرئیر کی بہترین ٹیسٹ سیریز یو اے ای میں 15-2014 میں نیوزی لینڈ کے خلاف رہی، جہاں دو ٹیسٹ میچوں میں انھوں نے 139.33کی اوسط سے 418 رنز بنائے۔

ان کا ٹیسٹ کیرئیر اتار چڑھاﺅ کا شکار رہا، ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا بہترین اسکور 224 رنز رہا جو انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف کھلنا میں اپریل 2015 میں کھیلتے ہوئے بنایا تھا۔

محمد حفیظ کی ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں میں سب سے عمدہ کارکردگی انگلینڈ اور سر ی لنکا کے خلاف رہی۔انگلینڈ کے خلاف حفیظ نے 10 میچوں میں ایک سنچری کے ساتھ 767 رنز بنائے جب کہ سری لنکا کے خلاف 10 ٹیسٹ میں ایک سنچری کے ساتھ 724 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔

محمد حفیظ نے گال میں جون 2012 میں سری لنکا کے خلاف بطور کپتان واحد ٹیسٹ کھیلا، وہاں پاکستان کو 209 رنز کے مارجن سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

محمد حفیظ نے نکالے جانے کے بعد دوبارہ واپس کرکٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنائی۔ عالمی کرکٹ کپ 2003 میں ناقص کارکردگی کے سبب انھیں ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے بلے بازی اور گیند بازی بھی ناقص کی تھی۔ پھر ڈومیسٹک کرکٹ میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی اور ٹیم میں پھرواپس آئے

آسٹریلیا میں ہونے والی سیریز میں انھوں نے اپنی پہلی سنچری بنائی۔ انگلینڈ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں اپنی دوسری سنچری بنائی۔ مگر اگلے پانچ سال تک وہ ٹیسٹ ٹیم اور ایک روزہ بین الاقوامی ٹیم میں اپنی جگہ نہ بنا پائے۔

2010میں ان کی پھر واپسی ہوئی۔ 2010 میں ٹی ٹوئنٹی ولڈ کپ کے لیے حفیظ کو واپس بلایا گیا۔ مگر انہوں نے ناقص کارکردگی دکھائی۔ 6 میچوں میں 39 رنز اور 2 وکٹیں لیں۔

انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف کامران اکمل کے ساتھ ایک مضبوط پاٹنرشپ بنائی۔ 2012 ایشیاکپ میں 105 رنز 113 گیندوں پر بنائی جس میں ان کی 224 رنز کی پاٹنر شپ بھی شامل ہے۔

دسمبر 2013میں انھوں نے سیریز میں ظہیر عباس کی تین سنچروں کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ انھوں نے سری لنکا کے خلاف تیں سنچریاں بنائیں جن میں 122 ,140*,113* شامل ہیں،

مگر وہ عالمی کپ 2015 میں زخمی ہونے کی وجہ سے باہر ہوگئے۔

2003سے 2018 تک 100 سے زیادہ ٹیسٹ اننگز میں 10 سینچریاں اور 12 نصف سینچریاں بنانے والے محمد حفیظ نے ایک اچھی اننگز کھیلنے کے بعد تواتر کے ساتھ مسلسل رنز بنانے میں اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں کم ہی کامیابی حاصل کی۔

2016کے دورہ انگلینڈ میں تین ٹیسٹ میچوں کی چھ اننگز میں 102 رنز بنانے والے محمد حفیظ کو  ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر 2018میں 25ماہ بعد ٹیسٹ ٹیم میں واپس آنے والے حفیظ نے واپسی کا جشن دبئی میں آسڑیلیا کے خلاف 126 رنز کی اننگز کھیل کر منایا،

البتہ اس شاندار واپسی کے بعد ان کا بیٹ رنز بنانا ہی بھول گیا، اگلی سات اننگز میں9رنز کی اوسط سے صرف 66 رنزاسکور کیے

جس کے بعد ابوظہبی میں نیوزی لینڈ کے خلاف دوسری اننگز سے پہلے ہی انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ 38 برس کی عمر میں پانچ دن کی کرکٹ میں دوبارہ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے بعد واپسی دیوانے کا خواب ہو گی

چنانچہ سابق ٹیسٹ کپتان نے شیخ زید اسٹیڈیم میں تیسرے ٹیسٹ کے دوسرے دن اہم پریس کانفرنس میں ٹیسٹ کرکٹ سے اپنی رٹائرمنٹ کا اعلان کردیا

اور ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں مکمل توانائی کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو منوانے کا درست اور بروقت فیصلہ کیا۔

Facebook Comments