فلم، ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹرکے مقبول اداکارعلی اعجازانتقال کرگئے

فلم،ریڈیو،ٹی وی اور تھیٹرکے مقبول اداکار علی اعجاز77برس کی عمرمیں لاہور میں انتقال کرگئے

ان کو گزشتہ روز لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا وہ فالج اورعارضہ قلب میں مبتلا تھے

فلم،ریڈیو،ٹی وی اور تھیٹرکے مقبول اداکار علی اعجاز77برس کی عمرمیں لاہور میں انتقال کرگئے،ان کو گزشتہ روز لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا

علی اعجاز پاکستان فلمی صنعت کی مقبول ہیئروئن رانی کے ہمراہ فلم کے ایک منظر میں

علی اعجاز پاکستان فلمی صنعت کی مقبول ہیئروئن رانی کے ہمراہ فلم کے ایک منظر میں

وہ فالج اورعارضہ قلب میں مبتلا تھے۔اداکارعلی اعجاز کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا، مزاحیہ ہیرو کے طور پر بہت مقبول ہوئے،انہوں نے 1961ءمیں ’ انسانیت ‘ سے فلمی کیریئر کا آغاز کیاجس کے ڈائریکٹر شباب کیرانوی تھے۔

حکومت نے انہیں14 اگست 1993 کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا ۔106 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں 84 پنجابی ،22 اردو اور ایک پشتو فلم شامل تھی۔ ان فلموں میں انسانیت، دبئی چلو، دادا استاد، پیار دا پلہ ، بھائیاں دی جوڑی، یملا جٹ، بد نالوں بدنام برا،عشق میرا ناں ،سادھو اور شیطان، لیلی مجنوں، ظلم کدی نئیں پھلدا، سدھا رستہ ،بادل، سوہرا تے جوائی، مسٹر افلاطون ،نوکر تے مالک، ووہٹی دا سوال اے، باؤ جی ،دشمن پیارا، اندھیر نگری، دھی رانی ، چور مچائے شور، عشق میرا ناں، بھروسا ،سالا صاحب ،اتھرا پتر، آ پ سے کیا پردہ، سسرال چلو اور عشق سمندر سمیت بہت سی فلمیں شامل ہیں شامل ہیں۔

انہوں نے ریڈیو پر بھی کئی پروگراموں کی میزبانی کی۔علی اعجازکا تعلق لاہور کے علاقے قلعہ گوجرسنگھ کی سید فیملی سے تھا ۔ان کے والد کا مزار ملتان روڈ پرہنجروال میں واقع ہے۔علی اعجازکی ابتدا میں ہی دوستی رفیع خاور اورمنور ظریف سے تھی اورانہیں اور منورظریف کو بڑے ظریف صاحب کو دیکھ کر اداکاری کا شوق پیدا ہوا حالانکہ ظریف صاحب اس بات کے سخت خلاف تھے جنہوں نے دونوں کو سختی سے منع کیا ہوا تھا کہ سٹوڈیوکے قریب بھی نظرنہ آنا ۔انہوں نے قومی بنک میں بھی ملازمت کی۔فلموں میں آنے سے پہلے ان کا ڈرامہ ’لاکھوں میں تین‘پی ٹی وی سے سپرہٹ ہوا جس میں ان کے ساتھ قمر چودھری اور قوی خان نے بھی کام کیا۔اسی ڈرامے میں ان کی پرفارمنس دیکھ کر شباب کیرانوی نے انہیں فلم میں کام کے لئے رابطہ کیا۔انہوں نے اپنے دور کی تمام مشہور اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا ۔ کیرئیر میں کئی مرتبہ کاروبار کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس میں انہیں زیادہ کامیابی نہ ہوئی ۔ایک زمانے میں انہوں نے سکیم موڑ پر ویڈیو فلمیں کرائے پر دینےکے لئے دکان بھی بنائی۔شادی سیالکوٹ میں کی ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی بیماری کی اصل وجہ بعض خاندانی جھگڑے تھے۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب ان کے مالی حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے تو عطا ءالحق قاسمی کے پاس ملازمت کے لئے گئے جو اس وقت لاہور آرٹس کونسل کے چیئرمین تھے لیکن قاسمی صاحب نے ملازمت دینے سے انکار دیا ۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ جب ایک بڑے حکومتی ایوارڈ کے لئے علی اعجازکانام فائنل ہوا تو عطاءالحق قاسمی نے ان سے کہا کہ’تمہاری فائل اسی صورت میں آگے جائے گی جب تم وعدہ کروگے کہ میڈل تمہارااور رقم میری‘۔ علی اعجاز نے ایک ڈرامہ بھی بنایا جو کئی سال تک چینلز نے چلانے سے انکار کردیا اور آخر کار معین اختر کی مداخلت سے ایک پرائیویٹ چینل سے نشر کیا گیا لیکن انہیں اس کے پیسے بھی نہ ملے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ علی اعجاز کے نہایت قریبی رشتہ داروں کا سلوک بھی ان کے ساتھ اچھانہیں تھا اور اسی دکھ کی وجہ سے انہیں پہلی بار برین ہیمرج ہوا تھا۔انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی کسمپرسی میں گزارے۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی فلم’ٹائیگرکنگ‘میں مارلن برانڈوکے ساتھ بھی کام کیا۔گورنر پنجاب چودھری سرور،وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،فواد چودھری ،عبدالعلیم خان سمیت شوبز حلقوں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان فلم کے نامور اداکار علی اعجاز 77 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

پاکستان فلم کے نامور اداکار علی اعجاز 77 سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے

Facebook Comments