اردو اور پاکستان سے محبت کرنے والے اردو زبان کے پہلے عرب شاعر ڈاکٹر زیبر فاروق

اردو اور پاکستان سے محبت کرنے والے اردو کے پہلے عرب شاعر

اردوشاعری کے 46مجموعہ کلام شائع ہوئے، ڈاکٹر زبیر فاروق عربی، انگریزی اور اردو میں شاعری کرتے ہیں، موسیقی اور گلوکاری سے شغف رکھتے ہیں
 اردو ایسی صاف بولتے ہیں کہ سننے والا سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیا وہ واقعی عرب ہیں، وہ 1971سے 1978تک کراچی میں رہے اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا

تحریر: سلیم آذر

حیرانی اورتجسس

میں یوٹیوب پر پروین شاکر کی وڈیوز تلاش کررہا تھا کہ اتفاق سے ایک وڈیو نظر سے گزری۔ میں ٹھٹک کر رہ گیا۔ مکمل عربی لباس پہنے جو شخص اس وڈیو میں باتیں کرتانظر آ رہا تھا وہ لگ بھی عرب ہی رہا تھا مگر عربی لہجے میں بہترین اردو بول رہا تھا۔ اور زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ وہ اردو زبان میں شعر بھی کہہ رہا تھا۔ میرے دوست حسیب اعجاز عاشر اس عرب شاعر کے ساتھ گفتگو کرکررہے تھے۔ مجھے حیرانی کے ساتھ ساتھ تجسس بھی تھا کہ میں اردو کے اس عرب شاعر کے بارے میں معلومات حاصل کروں ۔ اور پھر میری محنت رنگ لے آئی۔ مجھے اس عرب شاعر کے بارے میں اتنی معلومات مل گئیں کہ آپ احباب اور قارئین کے ساتھ شیئر کرسکوں ۔

ڈاکٹرزبیر فاروق العرشی، اردو انگریزی اورعربی میں‌شاعری کے علاوہ موسیقی اور ترنم سے بھی شغف رکھتے ہیں

ڈاکٹرزبیر فاروق العرشی، اردو انگریزی اورعربی میں‌شاعری کے علاوہ موسیقی اور ترنم سے بھی شغف رکھتے ہیں

جان کر ندامت ہوئی

عرب شاعر کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کے بعد مجھے ندامت اور سخت شرمندگی بھی محسوس ہوئی کہ وہ عرب شاعر ایسا بھی گم نام نہیں کہ اسے لوگ نہ جانتے ہوں ۔ تحقیق کے دوران مجھے معلوم ہوا کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والے مشاعروں میں شرکت کرتے اور اپنا اردو کلام سناتے ہیں۔
وہ ایک عرصے سے اردو اور عربی جاننے والوں کو یکساں طور پر خوشبوئیں بکھیر رہے ہیں۔ اردو زبان پر اس قدر عبور اور پختہ شاعری سن کر احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم کسی اجنبی یا غیرمادری زبان والے شخص کا کلام پڑھ یا سن رہے ہیں۔

 

اردوشاعری کے 46مجموعہ کلام

آپ یقیناحیران ہوں گے کہ ایک عرب شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق نہ صرف عربی زبان میں بلکہ انگریزی اور اس سے بھی بڑھ کر حیران کن یہ کہ اردو میں بھی شاعری بلکہ کمال کی شاعری کرتا ہے۔ ایسی صاف اردو بولتا ہے کہ میں سوچتا رہ جاتا ہوں کیا وہ واقعی عرب ہے۔ میرے لیے اس سے بھی بڑھ کر ایک حیران کن بات یہ ہے کہ ڈاکٹر زبیرفاروق کی اردوشاعری کے 46مجموعہ کلام شائع ہوچکے ہیں۔ میں نے اس بارے میں سنا ہے لیکن مجھے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی البتہ ” کرچیاں “ نام کا ایک مجموعہ کلام کے علاوہ میرے علم میںایسی کئی باتیں آئی ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ یقینا ان کے مجموعہ کلام کی اتنی تعداد ضرور ہوگی۔
ڈاکٹر زبیر فاروق کی ایک کتاب ”سرد موسم کی دھوپ“ کے نام سے شائع ہوئی ہے جس میں ایک ہزار سے زائد غزلیں جمع کی گئی ہیں۔ شاعری کے 13 مجموعے اس ایک جلد میں دستیاب ہیں۔

ڈاکٹر زبیر فاروق اپنی اہلیہ نوشین اور بچوں کے ہمراہ

ڈاکٹر زبیر فاروق اپنی اہلیہ نوشین اور بچوں کے ہمراہ

موسیقی اور گلوکاری سے شغف

ڈاکٹر زبیرفاروق گزشتہ تین دہائیوں سے اردو میں شاعری کررہے ہیں اورایک ہزار سے بھی زائد غزلیں لکھ چکے ہیں۔ شاعری کے علاوہ ڈاکٹر زبیر فاروق نے فلمی کہانیاں بھی لکھیں اور میوزک بھی کمپوز کیا جبکہ ترنم کے ساتھ شاعری ان کا خاصہ ہے۔ گلوکاری سے بھی
خاصا شغف رہا ہے۔ ان کی ایک آڈیوکیسٹ”صدائے دل“ کے نام سے دستیاب ہے جسے شائقین نے بے حد پسند کیا ہے۔انھوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں اور اداکار بھی کی ہے ‌جب کہ کئی برس اخبار میں کالم بھی لکھے ہیں

انھیں اردو زبان سے بہت محبت ہے اور اردو میں اب تک درجنوں کتب لکھ چکے ہیں اور اردو دانوں کو اپنے گھر مدعو کرکے اردو شاعری سنتے اور سناتے ہیں ان کی خدمت کرکے خوش ہوتے ہیں۔
گلف ریجن کے ممالک میں جہاں جہاں اردو جاننے والے لوگ موجود ہیں وہ ڈاکٹر فاروق زبیر سے بخوبی واقف ہیں۔ فاروق زبیر نہ صرف خود مشاعرے پڑھنے مختلف ممالک میںگئے بلکہ وہ امارات میں متعدد مشاعروں کے میزبان بھی رہے ہیں۔اردوشاعری میں پذیرائی کے ساتھ ساتھ انھیںمتعدد ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔

جلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر

ڈاکٹر زبیر فاروق متحدہ عرب امارات کی ریاست عجمان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی ان کا پورا نام ہے۔
وہ مقامی عرب ڈاکٹر اور ایک بہترین اردو دان،روانی سے اردو بولنے اورسمجھنے کی صلاحیت رکھنے کے علاوہ منجھے ہوئے اردو شاعر بھی ہیں۔ ڈاکٹر زبیر فاروق کو اگر ان کو عربی لباس میں دیکھا جائے تو شائبہ بھی نہ ہوگا کہ یہ صاحب اردو جانتے ہوں گے۔لیکن جب ان سے بات کی جائے تو انتہائی شائستہ اردو بول کر سامنے کھڑے شخص کو حیران کردیتے ہیں۔مزید حیرانی تب ہوتی ہے جب وہ عرب ہوتے ہوئے بھی اردو زبان میں بہترین شاعری کرتے اور ترنم سے غزل سناتے ہیں۔
پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر زبیر فاروق دبئی کے دو مشہور ہسپتالوں میں بطورجلدی مراض کے ڈاکٹر Dermatologist کی حیثیت سے اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ زبیر فاروق عربی اردو اور انگریزی میں شاعری کرتے ہیں جو پسند بھی کی جاتی ہے۔
ایم بی بی ایس کرنے کے لئے وہ 1971سے لے کر 1978تک کراچی میں بھی رہے ہیں۔ آپ نے ایم بی بی ایس ڈاﺅ میڈیکل کالج کراچی سے کیا ہے۔ میڈیکل پریکٹس امارات سے شروع کی اور ”جلد کی حفاظت“ کے موضوع پر دبئی کے انگریزی روزنامہ ”خلیج ٹائمز“ میں ان کا ہفتہ وار کالم ایک عرصہ تک مسلسل شائع ہوتا رہا ہے

ڈاکٹر زبیر فاروق کی اردوکے بارے میں رائے

ڈاکٹر زبیر فاروق پاکستان جانے سے قبل عربی میں شاعری کیا کرتے تھے بعد ازاں انگریزی کو ذریعہ اظہار بنایااورجب اردو سے روشناسی ہوئی تو اس زبان کو بہتر پایا اوراردو میں شاعری شروع کردی۔ اپنی شاعری کے بارے ڈاکٹر فاروق زبیر کہتے ہیں کہ جو بات میں عربی شاعری میں نہیں کہہ سکتا وہ اردو میں آسانی سے کہہ سکتا ہوں۔ اردو بڑی وسیع زبان ہے اس میں سے ہر بات مل جاتی ہے۔

احمد ندیم قاسمی کہتے ہیں

ڈاکٹر زبیر فاروق کا پہلا مجموعہ کلام ”پس کہسار“ تھا۔ اس بارے جناب احمد ندیم قاسمی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ”میں سمجھتا ہوں کہ زبیر فاروق اردو ادب کے پہلے عرب شاعر ہیں۔صرف یہی خصوصیت تاریخ ادب اردو میں ان کا نام زندہ رکھنے کے لئے کافی ہے“۔
ڈاکٹر زبیر فاروق کی شاعری کے بارے محمد ظہیر بدرکا کہنا ہے کہ ”ان کی شاعری چاند پر بستیاں بسانے کی بجائے کرہ ارض پر ذہنی وروحانی آسودگی کا چراغ روشن کرنے کی خواہش سے عبارت ہے۔“

لاہور میں شادی

ڈاکٹر زبیر فاروق کو شاعری کا شوق جنون کی حد تک ہے۔ ڈبل جاب کرنے کے ساتھ ساتھ شاعری کے لئے وقت نکالنا ایک مشکل کام ہے لیکن پھر بھی ہر چند ماہ بعدڈاکٹرصاحب کی ایک نئی کتاب مارکیٹ میں آجاتی ہے۔ڈاکٹر زبیر فاروق کی پاکستان سے محبت اور ا±نسیت اس قدر ہے کہ انہوں نے 24 فروری 2009کو لاہور میں شادی کی۔ ان کی اہلیہ کا نام نوشین ہے ۔

 محفلوں میں ’’ان‘‘ کی شاعری سن کر محظوظ ہوتی ہوں‌اوران کی پذیرائی پر خوشی ہوتی ہے۔ اہلیہ نوشین کا اظہار خیال

محفلوں میں ’’ان‘‘ کی شاعری سن کر محظوظ ہوتی ہوں‌اوران کی پذیرائی پر خوشی ہوتی ہے۔ اہلیہ نوشین کا اظہار خیال

نوشین کا انکشاف

نوشین زبیرفاروق صاحبہ کہتی ہیں کہ شادی سے پہلے ہماری ملاقات انٹرنیٹ پر ہوئی اور شادی کی باتیں ٹیلی فون پرطے پائیں،نکاح بھی ٹیلی فون پر ہوا۔ نکاح کے بعدوہ ( نوشین) لاہور سے دبئی آگئیں اور اب ماشا اللہ دو بچیوں کی والدہ ہیں۔ نوشین صاحبہ مزید کہتی ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس عرصے میں کبھی بھی اکیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیا۔مجھے عربی نہیں آتی لیکن زبان ہمارے درمیان کبھی مسئلہ نہیں بنی کیوں کہ ڈاکٹر صاحب بہترین اردو جانتے ہیں اور ہمارے درمیان ذریعہ گفتگواردوہی ہے۔ دونوں بچے عربی بولتے اورسمجھتے ہیں۔

مشفق باپ ہمدرد خاوند

ڈاکٹر زبیرفاروق حساس شاعر، مخلص دوست، مشفق باپ، ہمدرد خاوند اور دیگر رشتے نبھانے والی شخصیت ہیں۔وہ ایک ماہر طبیب اور تجربہ کار نبض شناس ہیں۔ نوشین زبیرفاروق صاحبہ کے بقول ڈاکٹر زبیر فاروق ایک ہمدرد اور پیار کرنے والے انسان ہیں یہی وجہ ہے کہ 2009کے بعد اب تک وہ (نوشین) صرف 3 بار ہی لاہور گئی ہیں۔
ڈاکٹر زبیر فاروق کہتے ہیں کہ میں نوشین کی صورت میں خوبصورت اور محبت کرنے والی وفادار بیوی پاکر بے حد خوش ہو ں ۔ میں پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں ۔شادی کے بعد کئی بار اپنے سسرال لاہور گیا ہوں جہاں مجھے سسرالی رشتے داروں کی طرف سے بہت پیار ملا ہے۔ا
نوشین صاحبہ کہتی ہیں کہ میں ڈاکٹر صاحب کی غزلیں خود تو نہیں پڑھتی البتہ سی ڈی پر ہی سنتی ہوں بلکہ مختلف محفلوں میں ان کی شاعری سن کر محظوظ ہوتی ہوں۔ مجھے ”ان“ کی پذیرائی پر خوشی ہوتی ہے۔

نمونہ کلام

عزت نہ پاسکو گے بزرگوں‌کے نام سے
جانیں گے تم کو لوگ تمہارے ہی کام سے
فاروق کتنے گل ہیں من میں‌کھلے ہوئے
پہچان سب کی ہے مگر اپنے ہی نام سے

حوالہ جات
مضمون کی تیاری میں روز نامہ نوائے
گوگل اور یو ٹیوب سے شکریہ کے ساتھ مدد لی گئی

Facebook Comments