العزیزیہ ریفرنس،نوازشریف کو 7برس قید ، کمرہ عدالت سے گرفتار

فلیگ شب ریفرنس میں نوازشریف کو بری کردیا گیا، ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ کی بھی سزا،اڈیالہ جیل منتقل، کل کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے گا۔

میاں نواز شریف فیصلہ سننے کیلئے قافلے کی صورت میں عدالت پہنچے۔انکے قافلے میں 25 کے لگ بھگ گاڑیاں شامل تھیں،سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکارتعینات رہے

مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 برس قید ڈیرھ ارب روپےجرمانے کی سزا کی سزا سنا دی گئی اور انہیں عدالت سے گرفتار کرنے کے بعد اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔منگل کو انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے گا۔احتساب عدالت نے نیب کے دوسرے مقدمے فلیگ شپ ریفرنس میں میاں نوازشریف کو بری کردیا ہے۔احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دونوں نیب ریفرنسزکا فیصلہ تین بجے سے کچھ پہلے سنایا۔نواز شریف کو گرفتاری کے بعد ایک بکتر بند گاڑی میں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پولیس بکتربند گاڑی کو صبح ہی عدالت کے اندر لے آئی تھی۔ تاہم میاں نوازشریف نے عدالت میں درخواست دی کہ انہیں اڈیالہ جیل کے بجائے لاہورکی کوٹ لکھپت جیل میں بھیجا جائے۔ عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں عدالت نے درخواست منظورکرلی اورمیاں نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل بھیجنے کا حکم دیا۔تاہم حکام انہیں اڈیالہ جیل ہی لے جارہے تھے جب پر میاں نواز شریف کو نیب افسران میں مکالمہ ہوا۔ جج سے دوبارہ رابطہ کیا گیا اور طے پایا کہ نواز شریف پیر کی شب اڈیالہ جیل میں گزاریں گے جبکہ منگل کو انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے گا۔قبل ازیں میاں نواز شریف فیصلہ سننے کے لیے قافلے کی صورت میں عدالت پہنچے۔انکے قافلے میں 25 کے لگ بھگ گاڑیاں شامل تھیں۔نواز شریف کی گاڑیاں حمزہ شہبازشریف چلا رہے تھے۔ عدالت کے باہر کارکنوں نے میاں نوازشریف کا استقبال کیا۔احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک پہلے ہی اپنے چیمبرمیں موجود تھے۔نوازشریف کے آنے پر وہ عدالت آئے اورمختصرفیصلہ سنایا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فلیگ شپ میں میاں نواز شریف کے خلاف ریفرنس نہیں بنتا۔العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے میں میں کہا گیا کہ اس مقدمے میں منی ٹریل نہیں دی گئی اورملزم کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں۔فلیگ شپ ریفرنس حسن نوازکی طرف سے آف شورکمپنیوں کے قیام کے حوالے سے بنایا گیا تھا۔ جبکہ العزیزیہ اسٹیل مل نوازشریف کے والدمیاں شریف کی جانب سے سعودی عرب میں لگائی گئی مل کے حوالے سے تھا۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان نے فیصلے کو جمہوریت کیلئے نقصان دہ قراردیاہے۔اس سے پہلے میاں نواز شریف عدالت روانہ ہوئے تو مسلم لیگ ن نے حمزہ شہباز کے ساتھ گاڑی میں جاتے ہوئے ان کی ایک مختصر ویڈیو ٹوئٹر پر جاری کی۔انتظامیہ نے احتساب عدالت سمیت شہر بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے خصوصی سکیورٹی پلان تشکیل دے رکھا تھا۔ کسی بھی اہم عوامی مقام یا شاہراہ پر ن لیگی کارکنوں کے احتجاج کو ہرقیمت پرروکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو پکڑنے کیلئے سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکارتعینات رہے۔آنسو گیس کے 400 اضافی شیل، ربڑ کی گولیاں اورڈنڈ ابردار 12 اسپیشل اسکواڈزبھی تشکیل دیے گئے۔قیدیوں کی 8 وینزسٹی زون کےاہم مقامات پرموجود رہیں۔چاروں زونل ایس پیزاپنے علاقوں میں صورتحال کی مانٹیرنگ کرتے رہے۔

Facebook Comments