سال 2018میں بچھڑنے والی نامور شخصیات کا تذکرہ، کچھ ہسیتوں کا غم اس سال بھی تازہ رہے گا

سال 2018میں بچھڑنے والی نامور شخصیات کا تذکرہ

 کچھ ہسیتوں کا غم اس سال بھی تازہ رہے گا

 تحقیق، تالیف : سلیم آذر

سال 2018خوشیاں اور غم دے کر رخصت ہوگیا۔ کہیں نئے سال 2019کا نئی خوشیوں کے ساتھ استقبال کیا جائے گا تو کہیں گزرے سال کے غموں کا   سایہ نئے سال پر پڑے گا خاص طور پر ان گھرانوں اور خاندانوں میں غم کے سائے گہرے رہیں گے جن کے پیارے 2018میں ان سے بچھر گئے۔

ہم اس رپورٹ میں ان نامور ہستیوں کا ذکر کریں گے جو 2018میں ہم سے جدا ہوگئیں، جن کی جدائی نے ان کے مداحوں کو بھی غمزدہ کر دیا ۔ بے شک دنیا بھر کے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات گئے سال میں ہم سے بچھڑ کر ہمیشہ کے لیے دنیا سے چلی گئیں مگر انھوں نے اپنی زندگی میں دنیا کی خوشی اور سہولت کے لیے ایسا کچھ کردیا ہے کہ وہ ہماری یادوں میں زندہ و جاوید رہیں گی۔
ہم یہاں دنیا بھر کی شوبز صنعت، سیاست، کاروبار اور عوامی فلاح کے کاموں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات کا ذکر کریں گے جو سال 2018 میں وفات پاگئیں۔ سب سے پہلے پاکستان کی شخصیات کا ذکر کرتے ہیں۔

زبیدہ طارق (زبیدہ آپا )
(4 اپریل 1945 تا 4 جنوری 2018)

زبیدہ طارق پاکستان کا ایک ایسا نام تھیں جنھیں پاکستان کا تقریباً ہر شہری ہی جانتاہے، خانہ داری کے اصول سیکھنے ہوں یا کھانے پکانے کے گُر یا گھرکے روز مرہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹوٹکے جاننے ہوں تو ان معاملات میں زبیدہ آپا کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ زبیدہ آپا رواں برس 2018 کے ابتدائی ماہ جنوری کی 4 تاریخ کو 72 سال کی عمر میں انتقال کرگئی تھیں۔ زبیدہ آپا معروف مصنف انور مقصود کی ہمشیرہ تھیں۔
انھوںنے امور خانہ داری میں ماہر ہونے کے باعث شہرت پائی تھی۔
زبیدہ آپا کا اصل نام زبیدہ طارق ہے، زبیدہ 4 اپریل 1945کو ریاست حیدرآباد دکن ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ 1947 میں ان کا خاندان کراچی ہجرت کر آیا۔ کراچی میں ان کی رہائش، پی آئی بی کالونی میں تھی، یہاں یہ اپنی 5 بہنوں اور 4 بھائیوں کے ساتھ قیام پذیر رہیں ۔ 1966 میں، زبیدہ اور طارق مقصود کی شادی ہو گئی۔ جب شادی کا فیصلہ کیا گیا زبیدہ کراچی میں جمشید روڈ پر رہتی تھیں۔ شادی کے وقت ان کی عمر 21 سال تھی۔ زبیدہ کی اولاد میں ان ایک بیٹی شاہا طارق اور ایک بیٹا حسین طارق ہے۔
ان کی والدہ کے چچا نواب بہادر یار جنگ، برصغیر کی معروف شخصیت تھے۔ ان کے دس دیگر بہن بھائی ہیں، ان میں سے کچھ بہت مشہور ہوئے، جیسے فاطمہ ثریا بجیا – ایک اردو ناول نگار اور ڈراما نگار; زہرا نگاہ، ایک اردو شاعرہ; اور ان کے بھائی انور مقصود، جو معروف، مزاح نگار، مصنف اور ٹی وی میزبان ہیں، زبیدہ آپا کا بھانجا بلال مقصود (انور مقصود کابیٹا) ایک گائک اور گٹار نواز ہے جن کاکا ایک پاپ راک بینڈ اسٹرنگز ہے
زبیدہ طارق نے پاکستان ٹیلی وژن، نجی ٹی وی چینل ، ریڈیو پر بلامبالغہ ہزاروں پروگرام کیے اور مسالا ٹی وی کے پروگرام ہانڈی میں بھی کام کیا جس کی ایک ہزار سے زیادہ قسطیں نشر ہوئیں۔
انھوں نے 2011 میں پارکنس کی بیماری کے ساتھ جینے پر ایک کتاب بھی شائع کی۔ وہ 4 اور 5 جنوری 2018کی درمیانی شب حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے وفات پا گئیں۔

قاضی واجد
( 26 مئی 1930تا 11 فروری 2018)

قاضی واجد پاکستان کے لیجنڈ اداکار اور اپنی ذات میں پرفارمنگ آرٹ کی مکمل درسگاہ تھے قاضی واجد پاکستانی شوبز انڈسٹری کا بہت بڑا نام تھے،انھوں نے لاتعداد ڈراموں میں اداکاری کی۔ قاضی واجد نے 1966 میں ٹی وی انڈسٹری جوائن کی تھی جب کہ قاضی واجد پاکستانی ریڈیو انڈسٹری کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ انھوں نے 25 سال ریڈیو پر کام کیا پھراستعفا دے دیا۔
، انھیں 1988 میں پرائڈ آف پرفارمنس کے اعزاز سے نوازا گیا، ویٹرن اداکار کا انتقال 11 فروری 2018 کو 87 برس کی عمر میں ہوا۔

ایئرمارشل اصغر خان
(17 جنوری 1921 تا 5 جنوری 2018)

پاکستان فضائیہ کے پہلے کمانڈر ایئر مارشل اصغر خان

پاکستان فضائیہ کے پہلے کمانڈر ایئر مارشل اصغر خان

پاک فضائیہ کے پہلے کمانڈر انچیف۔ 17 جنوری 1921کو جموں میں پیدا ہوئے۔ 1936 میں رائل انڈین ملٹری کالج ڈیرہ دون میں تعلیم حاصل کی۔ 1940میں گریجویشن کی اور اسی سال کے آخر میں نویں رائل دکن ہارس میں کمشین آفیسرمقرر ہوئے۔
1941 میں انڈین ائیر فورس میں چلے گئے۔ اسی سال انبالہ اور سکندر آباد سے ہوا بازی کی تربیت حاصل کی۔ اگلے سال نمبر 3 سکواڈرن انڈین ائر فورس پشاور میں تعینات ہوئے۔ 1944میں برما میں بطور فلائیٹ کمانڈر خدمات انجام دیں اور جنگ برما میں حصہ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کو جاپانی فوجی ٹھکانوں پر ہوائی حملہ کرنے پر مامور کیا گیا۔ 1945میں سکوارڈن لیڈر بنائے گئے۔ 1946میں برطانیہ گئے اور وہاں جیٹ طیارے اڑانے کی تربیت حاصل کی۔

 :کارنامے 

وہ رائل انڈین ایرفورس کے پہلے پائلٹ تھے جن کے اسکواڈرن نے سانگھڑ کے علاقے مکھی میں گوٹھ جام نواز علی پر پرواز کرتے ہوئے حر پناہ گزینوں کے نہتے قافلے کو دہشت گرد سمجھ کر بمباری نہیں کی اور اظہارِ وجوہ کے نوٹس کا سامنا کیا۔
وہ رائل انڈین ایرفورس کے پہلے پائلٹ تھے جنہوں نے جیٹ لڑاکا طیارہ گلوسٹر میٹیور اڑایا (1946)۔
پاکستان بننے کے بعد رائل ایرفورس کے پہلے سینئر پائلٹ جو نئی مملکت کی ایرفورس میں شامل ہون کے لیے آگے بڑھے۔
پاکستان ایرفورس اکیڈمی رسالپور کے بانی کمانڈنٹ (مئی 2017میں اکیڈمی کا نام ان کے نام پر رکھ دیا گیا)،
ایئرا سٹاف کالج اور کالج آف ایروناٹیکل انجینئرز کے بانی
پاک فضائیہ کا پہلے ایرمارشل اور چیف مارشل (صرف 36برس کی عمر میں)
قیام پاکستان کے بعد پاکستان ائیر فورس کالج رسالپور نوشہرہ کو منظم کرنے کا فریضہ انجام دیا۔ قائداعظم رسالپور تشریف لائے تو انہوں نے ان کا خیرمقدم کیا۔
1949میں گروپ کپٹن بنائے گئے اور اس حیثیت سے آپریشنل پاکستان ائیر فورس کی کمان سنبھالی۔ اسی سال ان کو رائل ائیر فورس اسٹاف کالج برطانیہ سے اعلیٰ کارکردگی کا ایوارڈ ملا۔
1957 میں صرف 36 سال کی عمر میں ائیر وائس مارش بنائے گئے۔ 1958 میں ایئر مارشل ہو گئے اور 1965 میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد محکمہ ہوابازی کے ناظم اعلیٰ اور پی آئی اے کے صدر نشین مقرر ہوئے۔ اسی سال سینٹو میں فوجی مشیر بنے۔
اصغر خان کو ہلال قائداعظم اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے نوازا گیا۔

خیبر پختونخوا کے قابل پولیس آفیسر طاہر داوڑ کی لاش افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملی تھی

خیبر پختونخوا کے قابل پولیس آفیسر طاہر داوڑ کی لاش افغانستان کے صوبے ننگرہار سے ملی تھی.

ایس پی طاہر داوڑ

خیبر پختونخوا کے نہایت قابل پولیس آفیسر ایس پی طاہر داوڑ کی لاش 13نومبر کو افغانستان کے صوبے ننگر ہار سے ملی تھی شہید ایس پی طاہر داوڑ 26اکتوبر کو اسلام آباد سے مفقود الخبر ہوگئے تھے۔ افغان حکام نے پولیس آفیسر کی لاش 15نومبر کو پاکستانی حکام کے حوالے کی تھی۔

 

سلیم شہزاد

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے رہنما سلیم شہزاد طویل علالت کے بعد لندن کے ہسپتال میں 8 جولائی کو انتقال کرگئے

 

عاصمہ جہانگیر
(27 جنوری 1952 تا فروری 2018)

سال 2018 میں رخصت ہونے والی پاکستانی شخصیات میںبڑا نام عاصمہ جہانگیر کا بھی ہے، وہ ایک سوشل ایکٹوسٹ تھیں اور اپنے فیصلوں پر بے باک طریقے سے قائم رہنے کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتی تھیں، 11 فروری 2018 کولاہور میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 66 برس تھی۔
عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدرانسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم رکن تھیں ۔ وہ 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئیں تھیں۔عاصمہ جہانگیر انتہائی نڈر اور بے باک خاتون کے طورپر جانی جاتی تھی۔ ان کی ساری زندگی آمریت کے خلاف لڑتے لڑتے گزر گئی۔عاصمہ جہانگیر کو سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی پہلی خاتون صدر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔2007 میں ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے بعد ان کو گھر میں نظر بند بھی کیا گیا تھا۔انہیں ہلال امتیاز،مارٹن انل ایوارڈ،ریمن میکسی کے ایوارڈ سمیت کئی ایوارڈ سے نواز ا گیا تھا۔جب کہ انھیں بعد از مرگ اقوام متحدہ کا انعام برائے انسانی حقوق 19 دسمبر 2018عطا کیا گیا۔ یہ انعام ان کی بیٹی منیزہ زئی نے نیو یارک میں حاصل کیا۔

پاکستان کی تین بار خاتون اول بننے والی بیگم کلثوم نواز

پاکستان کی تین بار خاتون اول بننے والی بیگم کلثوم نواز

کلثوم نواز
(29 مارچ 1950 تا 11 ستمبر 2018 )

بیگم کلثوم نواز سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ تھیں۔ انھوں نے11 ستمبر 2018 کو لندن میں وفات پائی۔ کلثوم نواز کینسر کے علاج کی غرض سے لندن کے نجی ہسپتال ہارلے اسٹریٹ کلینک میں داخل تھیں۔
کلثوم نواز نے اسلامیہ کالج خواتین اور پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔نواز شریف سے ان کی شادی 1971میں ہوئی تھی۔کلثوم نواز1999سے 2002 تک مسلم لیگ ن کی صدر رہیں،انھوں نے 12 اکتونر 1999کے بعد جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف ایک سال تک تحریک چلائی،کلثوم نواز کو تین بار خاتون اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے،کلثوم نواز نے پانامہ کیس میں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد الیکشن بھی لڑا تھا جس میں کامیابی حاصل کر کے وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم بیماری کے باعث وہ لندن میں تھیں جس وجہ سے حلف نہ اٹھا سکیں۔

مولانا سمیع الحق
(18 دسمبر 1937 تا 2 نومبر2018)

معروف عالم دین، مذہبی اسکالر اور جمعیت علما ئے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو 2 نومبر کو قتل کیا گیا تھا۔وہ جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے بھی سربراہ تھے۔مولانا سمیع الحق نے خود بھی دارالعلوم حقانیہ سے تعلیم حاصل کی تھی۔
مولانا سمیع الحق اکتوبر 2011 سے دفاعِ پاکستان کونسل کے چئیرمین اور سینیٹ رکن بھی رہے۔
حوالہ جات

علی رضا عابدی
(1972تا 25دسمبر 2018)

علی رضا عابدی کو 25 دسمبر کو ان کے گھر کے باہر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔علی رضا عابدی 1972 میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ 2013میں پہلی مرتبہ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم کی قیادت سے اختلافات کے باعث پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔

علی اعجاز
(1941 تا 18 دسمبر2018)

فلم ،ٹی وی اور ریڈیو کے ممتاز اداکار علی اعجاز 18 دسمبر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔ان کی عمر 77برس تھی۔ علی اعجاز1941 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ قدرت نے ان کے لیے شوبز میں کام کرنا لکھا تھا، یہی وجہ ہے کہ زمانہ طالب علمی سے فراغت کے بعدانھوں نے بطور بینکر اپنے کیریئر کا آغاز کیا مگر کچھ عرصے بعد ہی وہ اداکاری کی طرف آگئے۔ پاکستان فلمی صنعت کے معروف مزاحیہ اداکار منور ظریف ان کے بچپن کے دوست تھے۔
علی اعجاز نے 1967 میں کیریئر کا آغاز کیا۔ علی اعجاز نے28فلموں میں فن کے جوہر دکھائے۔ خواجہ اینڈ سن، لاکھوں میں تین اور کھوجی علی اعجاز کے مقبول ڈرامے تھے۔علی اعجاز کو 1993میں صدارتی تغمہ برائے حسن کارگردگی سے نوازا گیا تھا جب کہ انھوں نے نگار ایوارڈ اور لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت کئی اہم ایوارڈز اپنے نام کیے۔

ہاکی اولمپئین منصور احمد 

سابق ہاکی اولمپئین، پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق گول کیپر منصور احمد 49 سال کے عمر میں طویل علالت کے بعد 12 مئی 2018کو کراچی میں انتقال کر گئے ۔ انھیںدنیا کے نمبر ون گول کیپر ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
منصور احمد نے پاکستان کے لیے 338 انٹرنیشنل ہاکی میچز کھیلے۔جب کہ 1986 سے 2000کے دوران 3 اولمپکس میں ملک کی نمائندگی کی۔
منصور احمد کی شاندار گول کیپنگ نے 24 سال قبل1994میں پاکستان کو پاکستان کو سڈنی میں عالمی کپ جتواکر چوتھی بار ہاکی کا عالمی چیمپئین بنایا تھا۔
اسی سال ان کی گول کیپنگ نے پاکستان کو لاہور میں چیمپیئنز ٹرافی جتوانے میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا جبکہ 1992 میں بارسلونااولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا بھی وہ حصہ تھے۔
پاکستان نے 1994 میں ایک ہی سال میں جب چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ کے اعزازات شہباز احمد کی قیادت میں جیتے تو ان دونوں فتوحات میں منصوراحمد کی شاندار گول کیپنگ کا عمل دخل نمایاں تھا۔
ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل میں پاکستان نے پنالٹی سٹروک کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی تھی۔ فائنل میں ہالینڈ کے ڈیلمی کا پنالٹی اسٹروک روک کر منصور احمد نے پاکستان کو عالمی چیمپئن بنوایا تھا۔
منصور احمد نے چیمپئنز ٹرافی میںہالینڈ کے شہرہ آفاق کھلاڑی بوولینڈر کا پنالٹی اسٹروک روکا تھا۔
گذشتہ سال جب انٹرنیشنل ہاکی الیون پاکستان آئی تھی تو اس موقع پر ماضی کے عظیم کھلاڑیوں کو بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مدعو کیا تھا جن میں بوولینڈر بھی شامل تھے۔
اس موقع پر منصور احمد بھی ہاکی ا سٹیڈیم میں نظر آئے تھے لیکن ان کی صحت گرچکی تھی ۔اس کے باوجود یہ دونوں کھلاڑی آپس میں جب ملے تو ماضی کی یادوں کو پھر سے تازہ کیا۔ اس موقع پر اس پنالٹی اسٹروک کا ذکر بھی ہوا جو منصور احمد نے بچایا تھا۔

 گذشتہ سال جب انٹرنیشنل ہاکی الیون پاکستان آئی تواس موقع پرماضی کے عظیم کھلاڑیوں کو بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مدعو کیا تھاان میں بوولینڈر بھی شامل تھے جن کا پنالٹی اسٹروک روک کر گول کیپرمنصور احمد نے پاکستان کو فائنل جتوا یا تھا عظیم کھلاڑی نے منصور احمد سے خاص طور پر ملاقات کی جن کی صحت بہت گرچکی تھی،اس ملاقات پر بوولینڈر اور منصور احمد کی یاد گار تصویر


گذشتہ سال جب انٹرنیشنل ہاکی الیون پاکستان آئی تواس موقع پرماضی کے عظیم کھلاڑیوں کو بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے مدعو کیا تھاان میں بوولینڈر بھی شامل تھے جن کا پنالٹی اسٹروک روک کر گول کیپرمنصور احمد نے پاکستان کو فائنل جتوا یا تھا عظیم کھلاڑی نے منصور احمد سے خاص طور پر ملاقات کی جن کی صحت بہت گرچکی تھی،اس ملاقات پر بوولینڈر اور منصور احمد کی یاد گار تصویر

ہاکی کے کھیل کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر انھیں 1988 میں صدارتی ایوارڈ اور 1994 میں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دیا گیا تھا۔
منصور احمد ایک دلیر گول کیپر تھے جو حریف فارورڈز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھیلتے تھے۔اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے وہ گیند پر بلا کی نظر رکھتے تھے اور فارورڈز کے لیے انھیں چکمہ دینا آسان نہ ہوتا تھا۔
12مئی 2018کو ان کے انتقال کے ساتھ ہی پاکستانی ہاکی کی گول کیپنگ کا ایک یادگار باب بھی ختم ہوگیا۔

فہمیدہ ریاض
( 28جولائی 1945 تا 21 نومبر 2018)

فہمیدہ ریاض ، ترقی پسند شاعرہ ، ادیبہ، افسانہ نگارمترجم تھی اور اردو شاعری وادب کا ایک بہت بڑا نام تھیں، وہ 15 سے زیادہ شاعری کی کتابوں کی مصنف تھیں۔

فہمیدہ ریاض

فہمیدہ ریاض

فہمیدہ ریاض 28جولائی 1945کو بھارت کے شہر میرٹھ میں پیدا ہوئی، 73برس کی عمر میں 21نومبر 2018کو اردو شاعری کا یہ بہت بڑا نام ہم سے جدا ہوگیا۔ان تمام عظیم شخصیات کو ہمیشہ تاریخ سنہری لفظوں میں یاد رکھے گی، اللہ سے دعا ہے کہ ان کے درجات بلند فرمائے۔

ڈاکٹر سلیم اختر
(11 مارچ 1934تا 30 دسمبر 2018 )

ڈاکٹر سلیم اختر 11 مارچ، 1934 کو لاہورمیں پیدا ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد شعبہ تعلیم سے وابستہ ہو گئے، مختلف ادبی رسالوں کے ساتھ بھی منسلک رہے۔ پہلی ملازمت گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں کی، وہاںآٹھ سال پڑھانے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور چلے آئے، 1994 میں یہاں سے ریٹائرمنٹ کے بعد 11سال جی سی وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر پڑھاتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف ایجوکیشن میں درس وتدریس کی ذمہ داریاں بھی نبھا تے رہے۔
ڈاکٹر سلیم اختر کی بے مثال ادبی خدمات ہیں۔ انھوں نے 100 سے زائد کتابیں تحریر کیں،ان کی پہچان تین حوالوں سے ہوتی ہے۔ بطور نقاد، افسانہ نگار اور استاد۔ وہ اردو کے ان معدودے چند نقادوں میں شامل ہیں جو نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین تخلیق کار بھی ہیں۔
ان کی کتاب ”اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ“ اردو ادب کی اب تک لکھی گئی تاریخ میں ایک اہم حوالہ تصور کی جاتی ہے جسے شہرتِ دوام حاصل ہے
وہ کافی عرصہ سے بیمار اور ہسپتال میں زیر علاج تھے۔
ڈاکٹرسلیم اخترکو2008 میں حکومتِ پاکستان نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکاردگی سے نوازا

شیف طاہر چوہدری

شیف طاہر چوہدری

شیف طاہر چوہدری بین الاقوامی شہرت یافتہ شیف تھے، انھوںنے اپنے کیریئر کا آغاز دبئی کے ایک بین الاقوامی ہوٹل سے کیا۔ انھوںنے مختلف نجی ٹی وی چینلز پر متعدد ک±کنگ شوز میں میزبانی کے فرائض انجام دیے ۔ 6 اکتوبر 2018 کو اچانک دل کا دورہ پڑنے سے شیف طاہر چوہدری اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔

سری دیوی

سال کی افسوسناک خبر’ہواہوائی گرل‘ سری دیوی کی اچانک موت کی خبر تھی۔بالی وڈ کی میگا اسٹارسری دیوی کی اچانک حادثاتی موت نے بالی وڈ سمیت دنیا بھرمیں ان کے چاہنے والوں کو سخت صدمے سے دوچار کیا۔ سری دیوی دبئی کے ایک ہوٹل میں باتھ ٹب میں ڈوب کر 25 فروری کو انتقال کر گئیں تاہم ان کی آخری رسومات ممبئی میں ادا کی گئیں جس میں خاندان کے افراد،دوستوں سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔
وہ 13 اگست 1963 کو پیدا ہوئیں تھیں۔انہوں فلم ‘جولی’ میں معاون اداکارہ کے طور پر بالی وڈ میں اپنے کرئیر کا آغاز کیا۔اپنی نٹ کھٹ
ادائوں کی وجہ سے سری دیوی نے مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔سری دیوی کو 2013میں بھارت کے چوتھے بڑے ایوارڈ “پدم شری” سے نوازا گیا تھا۔سری دیوی کی اچانک موت نے ا ن کے مداحوں کو غم میں مبتلا کر دیا تھا۔

 

بھارتی فلمی صنعت کی منفرد اداکارہ سری دیوی دبئی کےہؤٹل میں پانی کے ٹب میں‌ڈوبنے سے 25فروری کو مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئیں

بھارتی فلمی صنعت کی منفرد اداکارہ سری دیوی دبئی کےہؤٹل میں پانی کے ٹب میں‌ڈوبنے سے 25فروری کو مداحوں کو سوگوار چھوڑ گئیں

انعم تنولی

انعم تنولی 2018 میں رخصت ہونے والی شخصیات کی ا±س فہرست میں شامل نہیں ہیں جو طبعی موت کا شکار ہوئیں بلکہ انھوںنے جواں عمری میں خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق وہ ڈپریشن کا شکار تھیں، انھوں نے یکم ستمبر 2018 کو محض 26 برس کی عمر میں خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔

انعم تنولی نے جواں عمری میں خودکشی کرلی

انعم تنولی نے جواں عمری میں خودکشی کرلی

 

سجاتا کمار

 

یہ عجیب اتفاق ہے کہ بالی وڈ میں سری دیوی کی سپرہٹ کم بیک فلم ’انگلش ونگلش ‘ میں سری دیوی کی بہن کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سجاتا کمار کی موت بھی 2018میں ہی ہوئی۔

اسٹیفن ہاکنگ
( 8 جنوری 1942تا 14 مارچ 2018)

ممتاز برطانوی سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ 14مارچ 2018 کو76برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
اسٹیفن ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنس دان قرار دیا جاتا تھا، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔ گزشتہ بر س برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966 میں کیے گئے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیا گیا جس نے چند ہی دن میں مطالعے کا ریکارڈتوڑ دیا۔ اور چند روز کے دوران اسے 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاو¿ن لوڈ کیا تھا۔
اسٹیفن ہاکنگ ایک خطرناک بیماری سے دو چار تھے اور کرسی سے اٹھ نہیں سکتے تھے۔ ہاتھ پاو¿ں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے تھے۔ لیکن وہ دماغی طور پر صحت مند رہے اور بلند حوصلگی کی وجہ سے اپنا کام جاری رکھا۔ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچانے اور اسے صفحے پر منتقل کرنے کے لیے وہ ایک خاص کمپیوٹر کا استعمال کرتے تھے۔ ان کی وہ بیماری ان کو تحقیقی عمل سے روک نہ سکی۔

اٹل بہاری واجپائی
(25 دسمبر 1924 تا 16 اگست 2018)

بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہار واجپائی 16اگست 2018 کو 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔حکومت پاکستان کی دعوت پر اٹل بہاری واجپائی نے 1999ءمیں پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔
اٹل بہاری واجپائی25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں پیدا ہوئے، 1940 میں سیاست میں قدم رکھا تھا، 1942 کی ”بھارت چھوڑو“ تحریک میں پرجوش حصہ لیا، تحریک کی شدت کو دیکھ کر تحریک کے شرکا کو پکڑا جانے لگا تو یہ بھی گرفتار ہو گئے اور انہیں 24 دنوں کی قید بھگتنی پڑی۔
اٹل بہاری واجپائی تین بار بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ ان کا پہلا دور 1996میں 13 دن کا تھا، دوسری مرتبہ 1998 سے
1999تک 11 ماہ تک وہ وزیر اعظم رہے اور تیسری بار 1999سے 2004تک انہوں نے اپنی میعاد مکمل کی۔ وہ وزارت عظمی کی 5 سال کی میعاد مکمل کرنے والے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم تھے۔ وہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بھارتی پارلیمان کے رکن

اٹل بہاری واجپائی

اٹل بہاری واجپائی

رہے ، دس مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور دو مرتبہ راجیہ سبھا کے لیے چنے گئے۔
صدر بھارت نے 2015میں ان کو بھارت کے سب سے بڑے اعزاز بھارت رتن سے نوازا مودی حکومت نے 2014 میں ان کے یوم پیدائش (25 دسمبر) کو یوم خوش نظمی کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ واجپائی کی وفات 16 اگست 2018کو ہوئی
اٹل بہاری واجپائی ملک کے صف اول کے سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ہندی کے عمدہ شاعر بھی تھے۔

صدر جارج ایچ ڈبلیو بش

سابق امریکی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش رواں برس یکم دسمبر کو انتقال کر گئے۔ جارج بش سینئر نے 94 برس کی عمر میں وفات پائی۔جارج بش امریکا کے 41 ویں صدر رہ چکے ہیں۔وہ 1989 سے 1993 تک اس عہدے پر فائزہ رہے۔بش سینئر اس سے قبل 1981 سے 1989تک صدر رونالڈ ریگن کے نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ 1976 تا 1977میں جارج بش سینئر سینٹرل انٹیلی جنس ڈائریکٹرکے عہدے پر فائز رہے جب کہ 1971 تا 1973تک انہوں نے اقوام متحدہ میں امریکی مندوب کے فرائض سر انجام دیے۔ جارج بش سینئر نے 4 دہائیوں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

آسٹریلوی کرکٹر بل واٹسن

سابق آسٹریلوی کرکٹر بل واٹسن سال 2018کے آخری روز 31دسمبر کو انتقال کر گئے ، ان کی عمر 87 برس تھی۔
انھوں نے 1954-55میں انگلینڈ کے خلاف ایشز سیریز کے دوران ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا تھا ۔ انھیں صرف چار میچز میں ملک کی نمائندگی کا موقع مل سکا، اس کے علاوہ اانھوں نے 41 فرسٹ کلاس میچز میں 1958 رنز بنائے جس میں ان کی 6 شاندار سنچریاں اور5 نصف سنچریاں شامل ہیں

سعودی صحافی جمال خشوگی

سعودی صحافی جمال خشوگی کو مبینہ طور پر استنبول کے سعودی قونصل خانے میں 2 اکتوبر کو قتل کیا گیا تھا۔وہ واشنگٹن پوسٹ کے ایک مقبول کالم نگار تھے،جمال خشوگی کا قتل پوری دنیا میں ایک سیاسی مسئلہ بن گیا۔

غلام محی الدین اپنی مرحومہ والدہ کے ہمراہ

غلام محی الدین اپنی مرحومہ والدہ کے ہمراہ

والدہ غلام محی الدین

دیگر کچھ اہم پاکستانی و عالمی شخصیات کے لیے بھی سال 2018آخری ثابت ہوا۔ جن میں نوبیل لارئٹ، امریکی خلا نورد جان ینگ،امریکی اسٹیج اور اسکرین اسٹار کونی سایر شامل ہیں
ان کے علاوہ ایسی شخصیات بھی اس سال ہم سے جد ا ہوئیں جن کی یاد کبھی دل سے محو ہوگی اورنہ ان کاصدمہ کبھی کم ہوگا ان ہستیوں میں ایک میرے پیارے دوست سینئر صحافی ، ماہر خطاط ، قرآنی آیات کو خوش رنگ دیدہ زیب اور خوش خط لکھنے کی سعادت حاصل کرنے والے غلام محی الدین کی والدہ محترمہ ہیں۔ غلام محی الدین اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتے ہیں۔

 

خورشید سلطانہ

میری امی خورشید سلطانہ جن کا 8اپریل 2018میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینے میں انتقال ہوا اور وہیں جنت البقیع میں ان کی تدفین ہوئی۔
میں عمرہ پر لے جانے سے ان کے بیمارہونے ، وہاں ہسپتال میں داخل ہونے اور انتقال کے بعد تدفین تک ہر لمحہ میں ان کے ساتھ تھا اور اب تک کچھ بھول نہیں پایا ہوں۔ بس یہی کسک رہتی ہے کہ ایک بار اور روضہ رسول پر حاضر ہو کر اپنی امی اور ان کے وسیلے سے اپنی مغفرت کی دعا مانگ لوں۔ اللہ ان ہستیوں کے وسیلے سے ہمیں معاف فرمائیں۔

سلیم آذرعمرہ کی ادائیگی کے بعد فورا بعد اپنی والدہ خورشید سلطانہ کے ہمراہ ان کا ساتویں دن بعد مدینے میں انتقال ہوگیا تھا

سلیم آذرعمرہ کی ادائیگی کے بعد فورا بعد اپنی والدہ خورشید سلطانہ کے ہمراہ ان کا ساتویں دن بعد مدینے میں انتقال ہوگیا تھا

Facebook Comments