صابر وسیم کا نمائندہ کلام : خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا

صابر وسیم کی 7 غزلیں

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا

خزاں سے سینہ بھرا ہو لیکن تم اپنا چہرہ گلاب رکھنا
تمام تعبیر اس کو دینا اور اپنے حصے میں خواب رکھنا

ہر اک زمیں سے ہر آسماں سے ہر اک زماں سے گزرتے رہنا
کہیں پہ تارے بکھیر دینا کہیں کوئی ماہتاب رکھنا

جو بے گھری کے دکھوں سے تم بھی اداس ہو جاؤ ہار جاؤ
تو آنسوؤں سے مکاں بنانا اور اس کے اوپر سحاب رکھنا

جو ان کہے ہیں جو ان سنے ہیں وہ سارے منظر بھی دیکھ لو گے
بس اپنی آنکھوں کی چپ میں روشن محبتوں کے عذاب رکھنا

مہیب راتوں کے جنگلوں میں ابد کے جیسا سکوت ہو جب
لہو کا اپنے دیا جلانا اور اپنا چہرہ کتاب رکھنا

تم اپنے اندر کی ہجرتوں سے نڈھال ہو کر جو لوٹنا تو
نہ خود سے کوئی سوال کرنا نہ پاس اپنے جواب رکھنا

یہ زندگی تو سفر ہے صابرؔ سفر میں جب بھی کسی سے ملنا
تمام صدمے بھلاتے رہنا محال ہوگا حساب رکھنا

٭٭٭

اک شور سمیٹو جیون بھر اور چپ دریا میں اتر جاؤ

اک شور سمیٹو جیون بھر اور چپ دریا میں اتر جاؤ
دنیا نے تم کو تنہا کیا تم اس کو تنہا کر جاؤ

اس ہجر و وصال کے بیچ کہیں اک لمحے کو جی چاہتا ہے
بس ابر و ہوا کے ساتھ پھرو اور جسم و جاں سے گزر جاؤ

تم ریزہ ریزہ ہو کر بھی جو خود کو سمیٹے پھرتے ہو
سو اب کے ہوا پژمردہ ہے اس بار ذرا سا بکھر جاؤ

جنگل کا گھنیرا اندھیارا اب آن بسا ہے شہروں میں
ان شہروں کو یوں ہی رہنا ہے اب زندہ رہو یا مر جاؤ

اک تاریک ہوا کا جھونکا رک کے یہ مجھ سے کہتا ہے
یہ روشن گلیاں جھوٹی ہیں تم صابرؔ اپنے گھر جاؤ

٭٭٭

جو بھی کچھ دیکھا، سنا، سب رائیگاں ہونے کوہے

جو بھی کچھ دیکھا، سنا، سب رائیگاں ہونے کوہے
یہ سفر اگلے سفر کی داستاں ہونے کو ہے

خوف کی گردش میں یوں ہی تو نہیں اہل جہاں
کچھ نہ کچھ تو اس جہاں میں ناگہاں ہونے کو ہے

یہ زمیں،میری زمیں،کس کی زمیں،کیسی زمیں
اک دھماکے سے یہ سب کچھ بے نشاں ہونے کو ہے

اک ستارہ جلتا بجھتا ہے رواں میری طرف
ایک حیرت بڑھتے بڑھتے بے کراں ہونے کوہے

آج پھر ٹھہرے ہوئے ہیں یہ زمین وآسماں
آج پھر کوئی کسی پر مہرباں ہونے کو ہے

٭٭٭

اک شکل بے ارادہ سر بام آ گئی

اک شکل بے ارادہ سر بام آ گئی
پھر زندگی میں فیصلے کی شام آ گئی

دشت و مکاں کے فاصلے بے رنگ و نور تھے
اک رنگ لے کے گردش ایام آ گئی

وہ رہ گزر جو آئی تو سر کو سجا لیا
دامن کی خاک آج مرے کام آ گئی

پھر اک حصار ٹوٹ گیا اختیار کا
پھر اک صدائے کوچۂ الزام آ گئی

ہم بولتے رہے تو رہے لفظ سنگ راہ
چپ ہو گئے تو منزل الہام آ گئی

صابرؔ زمیں پہ رنج بھی اس نے اتارے ہیں
لیکن یہ فرد جرم مرے نام آ گئی

٭٭٭

اک سفر پر اسے بھیج کر آ گئے

اک سفر پر اسے بھیج کر آ گئے
یہ گماں ہے کہ ہم جیسے گھر آ گئے

وہ گیا ہے تو خوشیاں بھی ساری گئیں
شاخ دل پر خزاں کے ثمر آ گئے

لاکھ چاہو مگر پھر وہ رکتے نہیں
جن پرندوں کے بھی بال و پر آ گئے

ہم تو رستے پہ بیٹھے ہیں یہ سوچ کر
جو گئے تھے اگر لوٹ کر آ گئے

اس سے مل کے بھی کب اس سے مل پائے ہم
بیچ میں خواہشوں کے شجر آ گئے

اس نے اس پار اپنا بسیرا کیا
ہم نے دریا کو چھوڑا ادھر آ گئے

ایک دشمن سے ملنے گئے تھے مگر
اک محبت کے زیر اثر آ گئے

٭٭٭

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں

اک آگ دیکھتا تھا اور جل رہا تھا میں
وہ شام آئی مگر ہاتھ مل رہا تھا میں

یہ عمر کیسے گزاری بس اتنا یاد ہے اب
اداس رات کے صحرا پہ چل رہا تھا میں

بس ایک ضد تھی سو خود کو تباہ کرتا رہا
نصیب اس کے کہ پھر بھی سنبھل رہا تھا میں

بھری تھی اس نے رگ و پے میں برف کی ٹھنڈک
سو ایک برف کی صورت پگھل رہا تھا میں

خدا صفت تھا وہ لمحہ کہ جس میں گم ہو کر
زمیں سے آسماں کے دکھ بدل رہا تھا میں

میں ایک عہد تھا اک عہد کی علامت تھا
ہزار چہروں میں دن رات ڈھل رہا تھا میں

بس ایک ابر کے سائے نے آ لیا مجھ کو
عذاب اوڑھ کے گھر سے نکل رہا تھا میں

٭٭٭

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے

لوگو یہ عجیب سانحہ ہے
مجھ میں کوئی قتل ہو رہا ہے

کس کی ہے تلاش کیا بتائیں
اپنا ہی وجود کھو گیا ہے

سوئیں گے ازل میں جا کے ہم سب
دنیا تو عظیم رت جگا ہے

سچ کو ہے دوام اس جہاں میں
مجھ سے تو یہی کہا گیا ہے

مرنا ہے یہاں بہت غنیمت
جینا تو محال ہو چکا ہے

دے گا وہ ضرور سنگ مجھ کو
جس نے تجھے آئنہ کیا ہے

آئی ہے طویل ہجر کی شب
یہ دل سر شام جل گیا ہے

٭٭٭

صابر وسیم کا خوش کن انداز

صابر وسیم کا خوش کن انداز

Facebook Comments