ابن انشا ۔۔۔ منفرد شاعر، ادیب، مترجم، مزاح نگار، کالم نگار، سفر نامہ نگار، ہمہ جہت شخصیت

ابن انشا 15 جون1927کو پیدا ہوئے اور 51برس کی عمر میں 11جنوری 1978کو لندن میں انتقال کرگئے، وہ اردو نظم وغزل میں نئے لہجے اورنثر خصوصاً کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں نئے اسلوب کے بانی تھے

 

شخصیات انسائیکلوپیڈیا

 

تحقیق و تالیف : سلیم آذر

ابن انشا اردو ادب کی منفرد شخصیت

انشا جی ہے نام انہی کا ، چاہو تو ان سے ملوائیں؟ ان کی روح دہکتا لاوا، ہم تو ان کے پاس نہ جائیں!

انشا جی ہے نام انہی کا ، چاہو تو ان سے ملوائیں؟
ان کی روح دہکتا لاوا، ہم تو ان کے پاس نہ جائیں!

بن انشا۔۔۔ اردو ادب کی ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ وہ منفرد شاعر، ادیب، مترجم، مزاح نگار کالم نگار، سفر نامہ نگار تھے۔
ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگار،شاعراور مایہ ناز قلم کاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے نظم اور نثر دونوں میدانوں میں اپنی انفرادیت، فن اور کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔وہ نظم میں نئے لہجے اورنثر خصوصاً کالم نگاری اور سفرنامہ نگاری میں نئے اسلوب کے بانی تھے۔

تاریخ پیدائش میں اختلاف

ابنِ انشادورِ جدید کی متمدن شہری فضاﺅں سے دور ایک معمولی بستی کے غریب کاشتکارگھرانے میں پیدا ہوئے اور محض اپنی ذاتی لیاقت او ر کوشش سے شعر گوئی میں میر اور نظیر کی روایت کے امین اورا ردو نثر میں شگفتہ نگاری کے ایک لازوال اسلوب کے مالک بن گئے۔
مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر کی تحصیل پھلو کا سرسبز و شاداب گاﺅں تھلہ ابن انشا کی جائے پیدائش ہے، منشی خاں اور مریم ان کے والدین تھے۔
ابن انشا اپنے کثیر العیال والدین کی ازدواجی زندگی کا پہلا ثمر تھے۔ پہلو ٹھی کی اولاد۔ ماں باپ نے اپنے پہلے بیٹے کا نام شیر محمد رکھا۔ شیر محمد کے بعد ان کے ہاں سردار محمد اور ریاض محمد نے جنم لیا۔ چار بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ جن کے نام بالترتیب عصمت آرا، نادرہ خاتون، حمیدہ بانو اور بلقیس ہیں۔
اپنی پیدائش کی قطعی تاریخ خود ابن انشا کو بھی معلوم نہیں۔ اپنی خود نوشت ڈائری میں انھوں نے اپنے وطن، نام اور تاریخ پیدائش کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے۔
”پیدائش ضلع جالندھر (مشرقی پنجاب) کے ایک دیہاتی کاشتکار گھرانے میں ہوئی۔ اس گھرانے میں تعلیم نہیں تھی۔ فقط والد صاحب نے چوتھی جماعت تک پڑھا تھا۔ پیدائشی نام شیر محمد ہے جو راجپوت ہونے کی نسبت سے شیر محمد خاں ہو گیا۔ پیدائش کی قطعی تاریخ معلوم نہیں۔ دیسی تاریخوں کا جو حساب معلوم ہوا اس سے ہاڑ کی سنکرانت یعنی اساڑھ مہینے کی پہلی تاریخ کا دن۔ 15 جون1927معلوم ہوتا ہے“۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے میٹرک کے سرٹیفکیٹ میں ان کی تاریخ پیدائش 4 جنوری1924درج ہے۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس زمانے میں غریب دیہاتی گھرانوں میں تعلیم کا رواج نہیں تھا۔ خصوصاً مسلمان نوجوانوں میں تو اس کا تناسب بہت ہی کم تھا، اگر کوئی تعلیم حاصل کرتا یا ویسے بھی بچے کی عمر عموماً زیادہ ہی بتائی جاتی تھی کیونکہ اس زمانے میں، سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے کم ازکم عمر کی حداٹھارہ سال تھی۔یہی صورت حال ابن انشا کے معاملے میں پیش آئی اور پہلی جماعت میں جب ان کی عمر پانچ ساڑھے پانچ سال ہو گئی تو انھیں آٹھ سال سے زائد کا ظاہر کیا گیا۔

دو چیزوں کا افسوس

اداس رات کے آنگن میں رات کی رانی مہک رہی ہے … دل بیقرار بات تو سن! ابن انشا

اداس رات کے آنگن میں رات کی رانی
مہک رہی ہے … دل بیقرار بات تو سن!
ابن انشا

ابن انشا کے چھوٹے بھائی سردار محمد کا کہنا ہے
” بھائی جان(ابن انشا) اکثر تاسف کا اظہار کیا کرتے تھے کہ زندگی میں دو چیزوں نے مجھے نقصان پہنچایا ہے۔ ایک میٹرک کے امتحان میں لکھی ہوئی میری زیادہ عمر اور دوسرے اوائل عمر کی میری شادی نے ۔“
واضح رہے کہ ابن انشا کی پہلی شادی 1941 میں لدھیانہ میں عزیزہ بی بی سے ہوئی تھی، عزیزہ بی بی سے ا بن انشا کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئی، بعد از اں گھریلو ناچاکی اور دونوں کی طبیعت میں فرق کے سبب عزیزہ بی بی اورابن انشا میں علیحدگی ہو گئی، مگر طلاق نہ ہوئی، لہٰذا عزیزہ بی بی نے باقی تمام عمر ان کی بیوی کی حیثیت ہی سے زندگی بسر کی لیکن ان سے الگ رہیں۔

معروف گائیگ جگجیت سنگھ ابن انشا کو خراج تحسین

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرا تیرا

 میر، نظیر، کبیر اور انشا … سارا ایک گھرانا

بہرحال ابن انشا کی تاریخ پیدائش 15 جون1927کو مستند مانا جاتا ہے۔ ابن انشا جالندھر کی تحصیل پھلو کے چھوٹے سے گاﺅں تھلہ آباد میں پیدا ہوئے لیکن جب لندن کے ایک ہسپتال میں قریباً 51 سال کی عمر میں ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کیں تو وہ کرہ ¿ارض کے تقریباً سبھی قابل دید نگر اور معروف بستیاں گھوم چکے تھے اور اردو میں شگفتہ نگاری کے ایک ایسے انداز کی داغ بیل ڈال چکے تھے جو انہی سے خاص تھا ۔ اپنے تراجم ، سیاحت ناموں، طنزومزاح کے مجموعوں، خطوط اور فکاہیہ کالموں کی بدولت ادبیات ا±ردو کا ایک وقیع اور معتبر نام قرار پاچکے تھے۔
دنیاوی قدر و منزلت کے لحاظ سے بھی ان کا عہدہ وزیر کے برابر تھا جسے اپنی ابتدائی زندگی میں ہندی اور گورمکھی کی ایک آدھ معمولی کتاب کے سوا کوئی ڈھنگ کی چیز پڑھنے کو نہ ملی، لیکن انھوںنے مملکت پاکستان میں کتابوں کی ترقی اور فروغ کے لیے بڑی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ کتابوں کی دنیا کے مسائل معلوم کر کے ان کے حل کے لیے مو¿ثر اقدامات تجویز کیے اور کئی منصوبوں اور ترقیاتی اسکیموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
وہ متعدد کتب میلوں، کتابوں کی نمائشوں اور تعارفی تقریبات کے روح رواں تھے، بیرون ملک پاکستانی مطبوعات کے نہایت کامیاب نمائندے، یونیسکو کے مطالعاتی پروگراموںکے سرگرم کارکن تھے، وہ ملک کے قریباً سبھی قابل ذکر روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کے ذریعے اپنی تمام مصروفیات سے عوام الناس کو اور اپنے خاص طنزومزاح سے بھرپور انداز میں ادبی قارئین کو مطلع رکھتے تھے۔
ان کا یہ بہروپ لوگوں کے دل میں گھر گیا لیکن وہ اپنی شاعری ہی کو اپنا اصلی روپ اور ویرانی دل کی حکایتیں سنانے اور جوگ بجوگ کی کہانیاں کہنے ہی کو اپنا فن جانتے تھے

انشا جی ہے نام انہی کا ، چاہو تو ان سے ملوائیں؟
ان کی روح دہکتا لاوا، ہم تو ان کے پاس نہ جائیں!
یہ جو لوگ بنوں میں پھرتے، جوگی بے راگی کہلائیں
ان کے ہاتھ ادب سے چومیں، ان کے آگے سیس نوائیں!
سید ھے من کو آن دبوچیں، میٹھی باتیں سندر بول
میر، نظیر، کبیر اور انشا … سارا ایک گھرانا

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے ، اب آن ملو تو بہتر ہو اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو ابن انشا

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے ، اب آن ملو تو بہتر ہو
اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو
ابن انشا

 

بچپن کے شاعری پر اثرات

شیرمحمد خان(ابن انشا) کے والد منشی خاں کو تعلیم کا بڑا شوق تھا لیکن ان کے گھر میں تعلیم کی روایت نہیں تھی ،وہ صرف چا ر جماعتیں ہی پڑھ پائے تھے ۔ انھیں افسوس تھا کہ شوق کے باوجود انھیں تعلیم سے محروم کر دیا گیا۔ اسی لیے جب ان کے اپنے بیٹے کی تعلیم کا سوال آیا تو وہ حلیم الطبع اور نرم خو ہونے کے باوجود ڈٹ گئے اور بیٹے کی تعلیم کی مخالفت میں کسی کی نہ سنی اور گاﺅں کے رسم و رواج کی بھی پروا نہیں کی۔چوہدری منشی خاں نے اپنے بڑے بھائی ملک لبھو خاں کھوکھر کی بھرپور مخالفت کے باوجود اپنے بیٹے شیر محمد کو تیسری گلی کی نکڑ پر واقع پرائمری اسکول کی پہلی جماعت میں لے جا کر بٹھادیا۔
ان کے چھوٹے بھائی سردار محمود کے بقول گھر کا ماحول تعلیم کے لیے قطعاً سازگار نہیں تھا۔ اس مشترکہ خاندانی نظام میں صرف ان کے والد ہی ابن انشا کو پڑھنے کے لیے ہر ممکن سہولت مہیا کرتے تھے۔
وہ اپنے بیٹے کوگھر کے ماحول سے دور رکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے وہ اسے چار چھ بکریاں دے کر باہر کھیتوں کی طرف چرانے کے لیے بھیج دیتے تھے تاکہ مشترکہ گھر کے ہنگاموں سے دور وہ اطمینان سے اپنے اسباق بھی دہرا سکے۔ شاید ابن انشا کے ہاں جن جذبات نے ان کے پہلے شعری مجموعے کی درج ذیل نظموں کا روپ دھارا، ان کی بنیاد گاﺅں سے باہر کھیتوں کی ان ہی فضاﺅں میں رکھی گئی ہو۔ خاص طورپر ان میں جن شاموں کا ذکر ہے ان سے انشا جی اپنے بچپن ہی میں آشنا ہو گئے تھے۔ جب کبھی شام ڈھلے اور رات گئے وہ ایک معصوم سوچتے ہوئے ذہن کے ساتھ گھر لوٹتے۔ مثلاً 1935 میں جب ان کی عمر اٹھارہ انیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔ کہی گئی ان کی نظم ‘انتظار کی رات’ اس طرح شروع ہوتی ہے :

امڈے آئے ہیں شام کے سائے
دم بدم بڑھ رہی ہے تاریکی!

اسی طرح اسی مجموعے میں شامل ان کی کئی دوسری نظموں کے نام اور ان کے آغاز بھی قابلِ غور ہیں۔ مثلاً اداس رات کے آنگن میں:

 

اداس رات کے آنگن میں رات کی رانی
مہک رہی ہے … دل بیقرار بات تو سن!

خزاں کی ایک شام :

شام ہوئی پر دیسی پنچھی گھر کو بھاگے
دل اپنا ہم کھول کے رکھیں کس کے آگے

اسی طرح ان کے دوسرے شعری مجموعے”’اس بستی کے اک کوچے میں“ میں بھی ایسے عنوان موجود ہیں۔ نظم …’ پھر شام ہوئی‘ کا آغازاس شعر سے ہوتا ہے

پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواں
اک اداسی کا تنتا ہوا سائباں!

تعلیم ،شعرگوئی کا آغاز اور تخلص رکھنے کی رو داد

ابن انشا نے1939 میں گورنمنٹ ہائی اسکول لدھیانہ کی سینئرا سپیشل کلاس میں داخلہ لیا۔ جس میں انھیں صرف انگریزی کا مضمون پڑھ کر ہائی کلاسوں میں پہنچنا تھا اور انگریزی کے ساتھ کوئی اور زبان… فارسی وہ شروع سے پڑھتے آ رہے تھے اور انھیں اس زبان سے شغف بھی تھا چنانچہ یہاں انھوں نے فارسی اور ہندی کو بطور اختیاری مضمون ترجیح دی۔
گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ ہی میں ابن انشا نے شعر گوئی کا باقاعدہ آغاز کیا اور اپنے تخلص کے بارے میں سنجیدہ ہوئے۔ پرائمری اسکول تھلہ سے فراغت پر وہ شیر محمد اصغر تھے۔ یہاں سے اپرہ وارد ہوئے تو شیر محمد مایوس عدم آبادی ہو گئے اور ورنیکلر مڈل کر کے لدھیانہ پہنچتے پہنچتے شیر محمد مایوس صحرائی ہو چکے تھے۔ ممکن ہے کسی کم ظرف شہری طالب علم نے دیہاتی ہونے کا طعنہ دے دیا ہو۔ چنانچہ انھوں نے بند صحرائی بننا زیادہ پسند کیا۔ اس روداد کا ذکر بھی ان ہی کی زبانی ملاحظہ کیجیے :
”سب سے پہلا تخلص اصغرتھا، پھر مایوس عدم آبادی، پسند آیا۔ ان کے اردو اور فارسی کے استاد مولوی برکت علی لائق نے بتایا کہ ‘مایوس’ اچھا تخلص نہیں ہے پھر’قیصر‘ کا د±م چھلا لگایا۔ ’ قیصر یا قیصر صحرائی ‘ بھی رہے لیکن چھپے تو ”’ابن انشا“’ کے نام سے۔یہ نام ا سکول ہی کے زمانے میں عمر کے پندرہویں سولہویںسال ہی میںاختیار کر لیا تھا،ا سکول میں مضامین اسی نام سے چھپتے ،اگرچہ شاعری ‘ قیصر’ کے تخلص سے کی۔ وہ اپنے ہر سال بدلتے تخلصوں سے مطمئن نہیں تھے چنانچہ ادبی ہوش سنبھالتے ہی انھوں نے اپنا نام ابنِ انشا رکھ لیا۔

تعلیم اور عملی زندگی کا آغاز

ہم تم کو نہیں‌بھولے ابن انشا

ہم تم کو نہیں‌بھولے ابن انشا                    ا

1944میں منشی فاضل کا امتحان پاس کرنے کے بعد اگلے سال ایف اے انگریزی کے پرچے میں کامیاب ہوئے، 1946میں جامعہ پنجاب سے بی اے کا امتحان پاس کیا اور 1953میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔
وہ امپیریل کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ اور پرسا انسٹی ٹیوٹ دہلی میں ملازم ہوئے۔ یہاں وہ ایک رسالے کی مجلس ادارت سے منسلک ہوئے۔ پھر آل انڈیا ریڈیو میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت کی درخواست دی ، بلاوا آ گیا
1962 میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ ٹوکیو بک ڈولپمنٹ پروگرام کے وائس چیئرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگرام ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن تھے
ایم اے کرنے کے بعد ڈاکٹریٹ کیلئے تحقیقی کام کرنے کا سوچا، بھاگ دوڑ کر کے مارچ 1954 میں پی ایچ ڈی کے لیے مقالہ ” اردو نظام کا تاریخی و تنقیدی جائزہ (آغاز تا حال) ملا مگر وہ اپنے اس مقالے کو مکمل نہ کر سکے کچھ عرصہ کراچی میں گزارنے کے بعد لاہور تشریف لے آئے۔
اورکالم نگاری کا راستہ اختیار کیا۔ وہ مختلف اخباروں کے لیے بڑی پابندی سے کالم لکھا کرتے تھے اور اپنی بے باک رائے پیش کیا کرتے تھے۔کالم نگاری آخری عمر تک جاری رہی۔

صحافت کا آغاز

ابن انشاکوصحافت ،علم و ادب سے دلچسپی تھی، اس وقت ” نوائے وقت ” ہفت روزہ تھا ،حمید نظامی صاحب سے خط و کتابت تھی، انہوں نے ایک خط میں مجید نظامی صاحب ( مرحوم) سے لاہور آ کر “نوائے وقت” میں ملازمت اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حمید نظامی کے مشورے پر ابن انشا لاہور آ گئے اور اسلامیہ کالج لاہور میں فرسٹ ایئر میں داخلہ لے لیا، ان کی رہائش کا بندوبست جناب حمید نظامی نے کیا مگر تین مہینے کے مختصر قیام کے بعد ابن انشااپنی طبیعت کے مطابق اور کچھ دیگر وجوہات کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑ کر لدھیانہ چلے گئے۔
پھر لدھیانہ سے انبالہ چلے گئے، وہاں ملٹری اوکاونٹس کے دفتر میں ملازمت اختیار کرلی۔لیکن جلد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑ دی اور دلی چلے گئے۔ اس دوران میں آپ نے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کرلیاتھا۔تھوڑے عرصے بعد انہیں اسمبلی ہاوس میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ بعد از اں آل انڈیا ریڈیو کے نیوز سیکشن میں خبروں کے انگریزی بلیٹن کے اردو ترجمے پر مامور ہوئے اور قیام پاکستان تک وہ آل انڈیا ریڈیو ہی سے وابستہ رہے۔
ابن انشا نے 1960 میں روزنامہ ”امروز“ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965میں روزنامہ ”انجام“ کراچی اور 1966میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔
مولانا چراغ حسن حسرت کی وفات کے بعد روزنامہ”امروز” کے کراچی ایڈیشن کی خدمات ان کے سپرد ہوئیں۔ اس میں وہ کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ پھر کئی روزناموں اور رسالوں میں باقاعدہ لکھتے رہے، ان کالموں نے ان کی شہرت کو چارچاند لگا دیئے۔ وہ ”پاکستان رائٹر گلڈ” کی مجلس عاملہ میں بھی رہے۔ 1955 میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ”اس بستی کے اک کوچے میں” شائع ہوا۔1961 میں سرکاری دورے پر بیلجیم گئے جہاں دنیا بھر کے شاعروں کا اجتماع تھا۔ اس میں انھوں نے پاکستان کی نمائندگی کی، اس دوران وہ دیگر کئی ممالک بھی گئے جہاں وہ کتاب ساز اداروں اور پبلشروں سے ملے تاکہ نیشنل بک سینٹرکے سربراہ کی حیثیت سے اپنی اہلیت اور استحقاق ثابت کر سکیں۔ 1964 میں وہ اس ادارے کے سربراہ ہوئے۔
روزنامہ جنگ کراچی اور روزنامہ امروز لاہورکے ہفت روزہ ایڈیشنوں اور ہفت روزہ اخبار جہاں میں ہلکے فکاہیہ کالم لکھتے تھے۔

تصانیف

ابن انشا کا پہلا مجموعہ کلام چاند نگر تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ”اس بستی کے ایک کوچے میں“ اور ”دلِ وحشی“ شامل ہیں۔انھوںنے اردو ادب کو کئی خوب صورت سفرنامے بھی عطا کیے جن میں ”آوارہ گرد کی ڈائری“، ”دنیا گول ہے“، ”ابن بطوطہ کے تعاقب میں“، ”چلتے ہو تو چین کو چلیے“ اور”نگری نگری پھرا مسافر“شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں ”اردو کی آخری
کتاب“، ”خمارِ گندم“، ”باتیں انشا جی کی“ اور ”قصہ ایک کنوارے کا“آپ سے کیا پردہ۔خط انشا جی کے۔اس کے علاوہ آپ نے متعدد تراجم بھی کیے (اندھا کنواں اور دیگر پر اسرار کہانیاں۔مجبور۔ لاکھوں کا شہر۔ شہر پناہ چینی نظمیں ، سانس کی پھانس، وہ بیضوی تصویر، ، عطر فروش دوشیزہ کے قتل کامعمہ،۔کارنامے جناب تیس مار خان کے۔ شلجم کیسے اکھڑا بچوں کیلئے ایک پرانی روسی کہانی کا ترجمہ۔ یہ بچہ کس کا بچہ ہے ۔قصہ دم کٹے چوہے کا۔ میں دوڑتا ہی دوڑتا ”اختر کی یاد میں“ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سندھی شاعری کا اردو ترجمہ کرنے کا بھی اعزار ابن انشا نے ہی حاصل کیا۔
اس کے بعد انھوں نے نکولس کے ایک ناول کا ترجمہ کیا جسے وہ آپ بیتی کہتے ہیں اسے انھوں نے ”محبوبہ” کے نام سے شائع کیا، یہ ان کی پہلی نثری ادبی کاوش تھی
قیام پاکستان کے بعدشہر لاہور ان کی نئی منزل تھا جہاں سے تقریباً ساڑھے چار سال پہلے کسمپرسی کے عالم میں لدھیانہ سدھارے تھے، لیکن اب اور تب میں بہت فرق تھا۔ ان کے اہل خانہ بعد ازاں چند دن بعد ان سے آن ملے۔
اب لاہور کے لکشمی چوک کے ہوٹلوں میں سرشام محفلیں جمتیں جن میں ابن انشا ، احمد ندیم قاسمی، حمید اختر، ظہیر کاشمیری، احمد راہی، عبداللہ ملک، قتیل شفائی، اے حمید اور بہت سے نئے لکھنے والے جمع ہوتے۔ وہ اس وقت روزنامہ امروز سے وابستہ تھے۔ ریڈیو کے بعد کبھی ”امروز” کبھی ”سویرا” اور کبھی ‘ادب لطیف” کے دفاتر میں فراغت کے لمحات بسر کرتے اور اے حمید کے ساتھ شہر کی گلیوں میں مٹر گشت کرتے۔ شام کو ”ٹی ہاﺅس” آ جاتے جہاں سبھی دوست موجود ہوتے۔انہی ایام میں (49۔1948) میں وہ مختلف چینی شاعروں کی نظموں کے انگریزی تراجم پڑھنے لگے اور اردو میں ان کے ترجموں کی طرف متوجہ ہوئے۔ یہ نظمیں ان کے اپنے احوال کے قریب تھیں۔انھوں نے ”ٹھنڈا پربت” کے نام سے انھیں اردو میں منتقل کر دیا۔

میں ٹھنڈے پربت کا راہی
اس راہ کا کٹنا سہل نہیں

ٍ چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔
(چینی نظمیں) شائع ہوا۔

کیا جھگڑا سود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو

باتیں میاں کی

انھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میاں قیس کے انتقال کے ساتھ یہ قوم ناپید ہو گئی تھی وہ اس سے ملیں۔ یہ ہماری نہیں اس کی اپنی فرمائش ہے :

انشا سے ملو اس سے نہ روکیں گے و لیکن
اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی!
مشہور ہے ہربزم میں اس شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی!”

دوسری شادی

ابن انشا کے یوم وفات پر پاکستان کے تمام چینل اور اخبارات میں ان کی یاد میں خبریں و پروگرام نشر کیے گئے

ابن انشا کے یوم وفات پر پاکستان کے تمام چینل اور اخبارات میں ان کی یاد میں خبریں و پروگرام نشر کیے گئے

1969 میںانہوں نے دوسری شادی کی۔ دوسری بیگم کا نام شکیلہ بیگم تھا۔شکیلہ بیگم کے ساتھ ان کی شادی ممتاز مفتی کی بیگم کی وساطت سے ہوئی ، کہتے ہیں کہ دوسری شاد ی والدہ کے اصرار پر ہوئی ۔ دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے سعدی اور رومی پیدا ہوئے۔کسی حد تک یہ پسند کی شادی تھی۔

دکھ سے بھری زندگی

ابن انشا کی دکھ سے بھری زندگی کی بنیادی وجہ ان کی شادی ہے ، اس کا تذکرہ ان کی پہلی بیگم عزیزہ بی بی نے کیا ہے جو1951 سے 1983 تک اپنے چھوٹے بھائی عبدالرشید خلجی کے ہاں فیصل آباد کی ایک کالونی میں رہائش پذیر رہی، وہ ابن انشا کے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی ماں ہیں۔ ان خاتون کے ساتھ ابن انشا نے ازدواجی زندگی کے گیارہ سال بسر کیے لیکن پھر اپنی موت تک قریباً ستائیس سال کوئی سروکار نہ رکھا۔ اگرچہ انھوں نے اس نہایت مہذب اور سادہ دل عورت کو طلاق بھی نہ دی! اور اپنے پہلے تین بچوں عبدالستار، محمد انوار اور اپنی بیٹی راحت بانو کو بھی وہ محبت اور پدرانہ شفقت مہیا نہ کی جس کے وہ ہر لحاظ سے مستحق تھے لیکن قابل رحم کیفیت یہ ہے کہ خود ابن انشا بھی اس صورت حال سے خوش نہ تھے۔
کراچی تعیناتی کے دوران ابن انشا نے پہلی بیوی کو کراچی لے جانے کی کوشش کی۔ ساس بہو کے اختلاف کی وجہ سے یہ کوشش بھی رائیگاں گئی۔انھیں ماں کے احکامات کی بجا آوری اور بیوی بچوں کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری… دونوں میں سے ایک کو بچانا تھا۔ انھوں نے ماں کے جذبات کو ترجیح دی۔ ابن انشا کا بیٹا انوار تو چھوٹی عمر میں انتقال کر گیا لیکن اس خاتون سے انشا جی کے باقی دونوں بچوں یعنی عبدالستار اور راحت بانو نے انشا جی کے والدین کے گھر میں ہی اپنی دادی اور پھوپھیوں کی زیر نگرانی پرورش پائی اور شادی بیاہ کے بعد گھر بار والے ہوئے۔

علاج کے لیے لند ن روانگی

ابن انشا اک طویل عرصے تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انھیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں
وہ 26 فروری1977 کو علاج کی غرض سے ابن انشا لندن روانہ ہوئے۔ لندن قیام کے دوران مختلف شاعر ادیب دوستوں سے خط و کتابت جاری رہی جن میں احمد ندیم قاسمی، بیگم سرفراز اقبال اور کشور ناہید وغیرہ شامل ہیں۔ اس دوران بھی وہ ”جنگ” کے لیے کالم لکھتے رہے اور اس دوران وہ برٹش میوزیم کتب خانے سے مستفید بھی ہوتے رہے اور کئی کتابوں، مخطوطوں اور قیمتی دستاویزات کی مائیکرو فلمیں بنوا کر پاکستان بھیجیں۔ اس دوران وہ پاکستانی سفارتخانے سے بھی عارضی طور منسلک رہے۔ لندن قیام کے دوران اسی سال دسمبر میں ان کی حالت تشویشناک ہو گئی اور سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کردیا۔ ابن انشا 51 سال کی عمر میں دنیائے فانی سے رخصت ہوئے۔

 

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے ، اب آن ملو تو بہتر ہو
اس بات سے ہم کو کیا مطلب، یہ کیسے ہو، یہ کیونکر ہو
انشا جی اب اجنبیوں میں چین سے باقی عمر کٹے
جن کی خاطر بستی چھوڑی نام نہ لوان پیاروں کا

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا

”انشا جی اٹھو اب کوچ کرو“ نظم کہنے کے ایک ماہ بعد ابن انشا کی وفات ہوئی۔اردو ادب کا یہ بے حد مقبول و اہم شاعر و ادیب ،مزاح نگار، جس نے اپنی زندگی کے زیادہ تر ایامکراچی ، لاہور یعنی پاکستان میں گزارے ، مگر جب اجل کا وقت قریب آیا تو وہ اپنے وطن سے سات سمندر پار انگلستان میں مقیم تھے۔وہیں انہوں نے 11 جنوری 1978کو وفات پائی اور پاپوش نگر قبرستان،کراچی میں آسودہ خاک ہوئے۔
یہ عظیم شاعر و ادیب ، سفرنامہ نگار کالم نگار ابن انشا جسمانی طور پر ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہوگیا۔ انھیں دنیا سے رخصت ہوئے 41 برس بیت گئے مگر وہ اپنی تخلیقات کے ذریعہ آج بھی زندہ ہیں

جب دیکھ لیاہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اِس شہر سے دور
اِک کٹیا ہم نے بنائی ہے
اس اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے۔۔۔!!!

٭٭٭

Facebook Comments