گلاب چانڈیو ،سندھی و اردو کے لیجنڈ اداکار کراچی میں انتقال کرگئے

گلاب چانڈیو کاانتقال ہوگیا ۔ یہ اندوہناک خبر سنتے ہی دل غم سے بھرگیا۔
گلاب چانڈیو منفرد لہجے میں ڈائیلاگ بولنے والے پاکستان کے ڈراما اور فلمی دنیا کے لیجنڈ تھے، انھوں نے 300سے زائد اردو وسندھی ڈراموں اور 6 فلموں‌میں‌اداکاری کے جوہر دکھائے
گلاب چانڈیو ٹیلی وژن اور فلموں میں 40 سال سے اپنے فن کے جوہر دکھا رہے تھے۔ وہ بہترین فن کار اور نفیس انسان تھے۔ ان کی عمر ساٹھ برس تھی وہ کافی عرصے سے شوگر، دل کے عارضے اور دیگرامراض میں مبتلا تھے۔ گزشتہ دو روز قبل حالت زیادہ خراب ہونے کے باعث انھیں نجی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبرنہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی تدفین آبائی گائوں نوابشاہ میں کی جائے گی۔
گلاب چانڈیو نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

اردو اور سندھی ڈراموں‌کے ورسٹائل فن کار گلاب چانڈیو

اردو اور سندھی ڈراموں‌کے ورسٹائل فن کار گلاب چانڈیو

شخصیات انسائیکلوپیڈیا

وہ پاکستان کے ڈراما اور فلمی دنیا کے لیجنڈ تھے۔ انھوں نے 1980میں اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا۔ یوں تو انھوں نے کراچی: ٹیلی وژن پر سندھی ڈراموں میں اداکاری سے اپنے فن کا آغاز کیا تھا مگر جلد ہی انھوں نے اردو ڈراموں اور فلموں میں بھی ادکاری کے جوہر دکھا ئے اور اپنی جگہ بنالی۔
انھوں نے ولن کے ساتھ ساتھ ہیرو کے کردار بھی ادا کیے اور کریکٹر ایکٹر کے رول میں بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔ وہ ایسے فن کار تھے کہ ان کے مداحوں نے انھیں ہر طرح کے کردار میں سراہا۔
ان کے مشہور ڈراموں میں چاند گرہن نمایاں ہے جس میں انھوں نے سندھی وڈیرے کا کردا اس خوبی سے ادا کیا کہ اس میں حقیقت کارنگ بھر دیا

 گلاب چانڈیو نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں

گلاب چانڈیو نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں

اس کے علاوہ ان کے مشہور ڈراموں میں نوری جام تماچی، زہر باد، سچائیاں ، سانس لے اے زندگی، بے وفائیاں، ساگر کا موتی، ماروی، پانچواں موسم اور غلام گردش شامل ہیں.
نوری جام تماچی میں ان کے کردار اور پرفارمنس کو ان کے مداحوں خصوصاً سندھی مداحوں نے بہت پسند کیا
گلاب چانڈیو منفرد انداز اور لہجے میں ڈائیلاگ بولنے میں شہرت رکھتے تھے۔ گلاب چانڈیو نے 300 سے زائد اردو، سندھی ڈراموں اور6 فلموں میں اداکاری کے جوہردکھائے۔
حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 14 اگست 2016 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ 

 گلاب چانڈیو نے 1980میں اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا

گلاب چانڈیو نے 1980میں اپنی فنی زندگی کا آغاز کیا

Facebook Comments