منی بجٹ نہیں اصلاحات کا پیکیج ہے ، وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، قومی اسمبلی میں خطاب

منی بجٹ میں درآمدی موبائل اور سیٹلائٹ فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ، 30 ڈالر سے کم قیمت کے موبائل پر سیلز ٹیکس 150 روپے ہو گا، 30 سے 100 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر 1470 روپے سیلز ٹیکس، 350 سے 500 ڈالر قیمت کے درآمدی موبائل پر سیلز ٹیکس 6000 روپے سیلز ٹیکس ہوگا

منی بجٹ کے اہم خدوخال

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنے کسانوں کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنے کسانوں کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے دوسرا منی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا، وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں کہا کہ بجٹ نہیں اصلاحات کا پیکج پیش کررہا ہوں،
ہمیں عوام نے مسائل کے حل اور ان کے ادراک کے لیے ایوان میں بھیجا ہے، ہمیں ایسی معیشت بنانی ہے کہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو۔ ایسا نہ ہو اگلی حکومت آکر آئی ایم ایف کو فون کرے کہ ہم تباہی کے دہانے پر آگئے ہیں ہماری مدد کیجیے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ہم عوام کو اپنا حکمران سمجھتے ہیں، ہم خود کو خادم اعلیٰ بولتے نہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں، وزیر خزانہ نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر کے بغیر روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہوسکتے، ایس ایم ای سیکٹر کے بینک قرضوں پر آمدن کا ٹیکس20 فیصد کررہے ہیں۔ چھوٹے کاروباری اداروں پر ٹیکس آدھا کیا جارہا ہے۔ بینک ڈیپازٹس پر عائد ودہولڈنگ فوری طور پر فائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہا ہے۔
ہمیں غریبوں کے لیے گھر بنانے ہیں، اس لیے چھوٹے گھروں پر بینک قرض آمدنی کا ٹیکس 39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں۔5 ارب سے قرض حسنہ اسکیم شروع کررہے ہیں۔قرض حسنہ کی یہ رقم متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے فراہم کی جائے گی۔ چھوٹے شادی ہالز پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کرکے 5 ہزار کردیا گیا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ بجٹ میں نان فائلر پر نئی گاڑی خریدنے پر پابندی تھی تاہم اب نان فائلر800 سے 13 سو سی سی تک گاڑی خریدسکے گا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حقیقی جمہوریت کیلیے آزاد صحافت چاہیے، اس لئے نیوز پرنٹ پر امپورٹ ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے ،کچھ صنعتی خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی جب کہ کچھ پر ختم کی جارہی ہے۔ کیمیکل کے شعبے کے لیے خام مال پرسیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔
1800 سی سی سے زائد انجن کی کاروں، جیپوں اور گاڑیوں کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سولر پینل اور ونڈ ٹربائن پاکستان میں ہی بنے، اس لیے دوسرے ضمنی بجٹ میں قابل تجدید توانائی اور مینوفیکچرنگ یونٹ کے قیام پر 5 سال کے لئے ٹیکس سے چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔

کسانوں کے لیے خصوصی پیکج

وفاقی وزیرخزانہ اسد عمرنے کسانوں کے لیے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا، انھوں نے کہا کہ کاشتکاروں کے لیے ڈیزل انجن پر سیلز ٹیکس 17 سے کم کر کے 5 فیصدکرنے ، کھاد کے شعبے پر ٹیکس کم کرنے سے فی بوری 200 روپے سستی ہوگی جبکہ کھاد فیکٹریوں پر گیس ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان تمام اقدامات سے کسانوں کو ریلیف ملے گا۔

Facebook Comments