آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ نے مسترد کردی

آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف  سپریم کورٹ نے مدعی قاری سلام کی نظر ثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا  کہ کیا جھوٹی شہادتوں پر کسی کو پھانسی دی جاسکتی ہے؟

مرضی کے بیانات پرمرضی کا انصاف مانگ رہے ہو، کوئی اورمقدمہ ہوتا تو گواہوں پر جعلسازی کا مقدمہ بناتے، چیف جسٹس
ایسا مدعی جس نے وقوعہ خود دیکھا نہ سنا آپ کہتے ہو اس کی گواہی پر ملزمہآسیہ بی بی  کو پھانسی لگادیں، قاری سلام کے وکیل سے مکالمہ

سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف مدعی قاری سلام کی نظر ثانی اپیل مسترد کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ کیا جھوٹی شہادتوں پر کسی کو پھانسی دی جاسکتی ہے؟منگل کو چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ نے درخواست گزار کے وکیل کی طرف سے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ میرٹ پر نظر ثانی کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔نظر ثانی اپیل کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے سربراہ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریما رکس دئیے کہ کوئی اور مقدمہ ہوتا تو گواہوں پر جعلسازی کا مقدمہ بناتے۔جسٹس کھوسہ نے کہا قانون کے مطابق اگر کسی مقدمے میں جس میں سزائے موت ہوسکتی ہو گواہ جھوٹ بولے تو انھیں سمری ٹرائل کے ذریعے عمر قید دی جاسکتی ہے، اس کیس میں گواہوں کا کیا کریں؟انھوں نے حلف پر متضاد بیانات دیئے،کیاانھیں سزا دیں تاکہ معاشرے کے لئے سبق حاصل ہو؟ مدعی کے وکیل نے فیصلے پر تکنیکی اعتراضات کئے تو چیف جسٹس نے مخاطب کرتے ہوئے انھیں کہا کہ پہلے حقائق سے بتائے اگر کوئی چیز رہ گئی ہوگی تو ہم اس پر غور کرلیں گے لیکن فیصلے میں ایک ایک نکتے کو بیان کیا گیا ہے،مدعی نے اندراج مقدمہ کے لئے درخواست وکیل سے لکھوائی لیکن انھیں وکیل کے نام کا پتہ نہیں،ایک ایسا مدعی جس نے وقوعہ خود دیکھا نہ سنا اور آپ کہتے ہو کہ ان کی گواہی پر ایک ملزمہ کو پھانسی لگادیں۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کیا مرضی کے بیانات پر عدالت سے مرضی کا انصاف مانگ رہے ہو،یہ کہا جارہا ہے کہ ملزمہ کیوں بری کی گئی،کیوں گواہوں کوقابل اعتبار نہیں سمجھا گیا؟اگر یہ کیا تو آپ واجب القتل ہیں۔ کیس کی سماعت شروع ہوئی تو مدعی کے وکیل نے کہا کہ معاملہ قومی اور امہ کی اہمیت کا ہے اس لئے لارجر بینچ تشکیل دے کر مذہبی سکالرز کو بلا کر ان کی رائے حاصل کی جائےاس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ تو مذہب کا نہیں بلکہ حقائق کا ہے،جب شواہد سے جرم ثابت نہیں ہوتا پھر رائے کس مقصد کے لئے،رائے تو تب لیتے جب جرم ثابت ہورہا ہو،ہم نے شہادتوں پر فیصلہ کیا ہے آپ بتاد یں فیصلے میں کیا غلطی ہے؟فاضل وکیل نے کہا کہ ایک غلط معاہدہ رسول ﷺ سے منسوب کردیا گیا اور فیصلے میں بھی اس کا ذکر آگیا جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ فیصلے میں معاہدے کے بارے کچھ نہیں کہا گیا ،فیصلہ گواہوں کے غلط بیانی پر دیا گیا ،آپ ثابت کریں کہ گواہوں نے سچ بولا ہے،مدعی قاری صاحب کے اپنے بیان میں تضادات ہیں جبکہ افضل اور قاری صاحب کے بیانات میں بھی تضاد ہے،عدالت نے طویل سماعت کے بعد مدعی کے وکیل کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اورایک مختصر فیصلے کے ذریعےنظر ثانی درخواست مسترد کردی ، آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف اپیل کی سماعت کے موقع پر ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظ

Facebook Comments