آسیہ بی بی آزاد شہری ہیں،جہاں جانا چاہے جاسکتی ہیں،ڈاکٹر فیصل

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد آسیہ بی بی مکمل آزاد ہیں، پاکستان کے اندر یا بیرون ملک جہاں جانا چاہتے ہیں

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد آسیہ بی بی آزاد شہری ہیں،جہاں جانا چاہے جاسکتی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ ایک بیان میں کہا کہ عدالتی فیصلے بعد آسیہ بی بی آزاد شہری ہے، وہ اپنی نقل و حرکت میں مکمل آزاد ہے، پاکستان کے اندر یا بیرون ملک جہاں جانا چاہے جا سکتی ہے۔گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کی بریت کے فیصلے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا تھا۔سپریم کورٹ نے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔آسیہ بی بی کی سزا کالعدم قرار دینے اور رہائی کے خلاف قاری محمد سلام نے عدالتِ عظمیٰ میں نظر ثانی اپیل دائر کی تھی، جسے 29 جنوری کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ مدعی فیصلے میں ایک بھی غلطی نہیں بتاسکے، انہیں فیصلے میں عام باتوں پر اعتراض ہے، فیصلے پر نہیں۔ضلع شیخوپورہ میں جون 2009ء میں فالسے کے کھیتوں میں کام کے دوران 2 مسلمان خواتین کا آسیہ مسیح سے جھگڑا ہوا جس کے بعد ان پر الزام لگایا گیاتھاکہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کہے۔آسیہ بی بی کے خلاف ان کے گاؤں کے امام مسجد قاری سلام نے پولیس میں مقدمہ درج کرایا، 5 روز بعد درج کی گئی واقعے کہ ایف آئی آر کے مطابق آسیہ بی بی نے توہین رسالت کا اقراربھی کیا۔امام مسجد کے بیان کے مطابق آسیہ بی بی کے مبینہ توہین آمیز کلمات کے بارے میں پنچایت ہوئی،جس میں ہزاروں افراد کے شرکت کرنے کا دعوی کیا گیا تھا لیکن جس مکان کا ذکرکیا گیا،وہ بمشکل پانچ مرلے کاتھا۔مقدمے کے اندراج کے بعد آسیہ بی بی کو گرفتارکرلیا گیا اوربعدازاں ٹرائل کورٹ نے 2010 میں توہین رسالت کے جرم میں 295 سی کے تحت انھیں سزائے موت سنا دی،جسے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اکتوبر 2014 میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقراررکھاتھا۔جس پر 2014 میں ہی آسیہ بی بی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔ان اپیلوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے گذشتہ برس 8 اکتوبرکو فیصلہ محفوظ کرلیاتھا،جو31 اکتوبرکوسنایا گیا اورعدالت نے آسیہ بی بی کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

Facebook Comments