پاک بحریہ کی چھٹی کثیرملکی امن مشقوں کا آغاز

پاکستان نیوی کے تحت بحری مشقوں ’امن2019‘ کا آج سے آغاز ہوگیا، مشقوں میں 46 ملکوں کے بحری دستے حصہ لے رہے ہیں۔حری استحکام ہمارے قومی تحفظ میں نقطہ اوّل کی حیثیت کا حامل ہے،ترجمان پاک بحریہ

رواں سال بھی 08-12 فروری کو، پینتالیس سے زائد ممالک اپنے بحری جہازوں کے ساتھ اورمندوبین کے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔یہ مشق دو اہم مراحل پر مشتمل ہے

پاکستان نیوی کے تحت بحری مشقوں ’امن2019‘ کا آج سے آغاز ہوگیا،مشقوں میں 46 ملکوں کے بحری دستے حصہ لے رہے ہیں۔ترجمان پاک بحریہ وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا کہنا ہے کہ بحری استحکام ہمارے قومی تحفظ میں نقطہ اوّل کی حیثیت کا حامل ہے، پاکستان دہشت گردی پھیلانے والی قوتوں کے خلاف مستعد کھڑا رہا ہے۔کثیرالقومی بحری مشق امن 2019 کے سلسلے میں پاکستان نیوی فلیٹ ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈر پاکستان فلیٹ وائس ایڈمرل امجد خان نیازی نے بتایا کہ 2007 سے مشق امن کا انعقاد باقاعدگی سے کیا جارہا ہے۔ رواں سال بھی 08-12 فروری کو، پینتالیس سے زائد ممالک اپنے بحری جہازوں کے ساتھ اورمندوبین کے طور پر شرکت کر رہے ہیں۔یہ مشق دو اہم مراحل پر مشتمل ہے ، جس میں ہاربر فیز اور سی فیز شامل ہیں۔ہاربر فییز کے دوران مختلف سیمینارز، مباحثے اور عملی مظاہروں پر مشتمل ہے۔علاوہ ازیں عالمی سیاست کے تغیروتبدل ؛ بحیرہ ہند میں ابھرنے والی نئی میری ٹائم جہتوں پر غورو فکرکے موضوع پر تین روزہ بین الالقوامی میری ٹائم کانفرنس کا انعقادکیا گیا ۔ ماضی قریب میں پاکستان بہت مشکل ادوار سے گزرا ہے، مگر ہم دہشت گردی اور خوف و حراس پھیلانے والی قوتوں کے خلاف مستعد کھڑے رہے۔متعدد نقصانات اور قربانیوں کے باوجود ، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے جسے اقوام عالم میں اپنے کردار اور اہمیت کا مکمل احساس ہے۔انہوں نے کہاکہ کسی بھی بحری قوم کی طرح پاکستان کے بھی میری ٹائم سیکٹر میں قابل قدرمفادات ہیں۔محفوظ اور جرائم سے پاک سمندری راستے مندرجہ ذیل حقائق کی وجہ سے ناگزیر ہیں،پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ بحری امن و استحکام صرف پاکستان کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے لیے بھی ناگزیر ہے جن کی ترقی سمندری تجارت سے جڑی ہے۔ہم صدیوں پرانی کہاوت پر یقین رکھتے ہیں کہ سمندر جوڑتا ہے جبکہ زمین تقسیم کرتی ہے۔جب ہم بات کرتے ہیں مشترکہ آپریشنز کی ، تو ہمیں دوران آپریشنز کھلے سمندروں میں درپیش خطرات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے، جس میں بحری دہشت گردی، قزاقی اور موسم کی تبدیلی شامل ہیں۔سمندروں کی وسعت کو ہم دوہری پیچیدگی کی طور پر لیتے ہیں یعنی سمندر صرف دنیا کی تجارت کو ہی متحرک نہیں کرتا بلکہ مخالف قوتوں کو بھی بحری امن و استحکام خراب کرنے کے بہت سے مواقع فراہم کرتا ہے۔دوہری پیچیدگی کا رجحان اس مفروضے کو تقویت دیتا ہے کہ متشدد غیر ریاستی عناصر سے کوئی ملک تنہا نبرد آزما ہو نہیں سکتا۔سمندروں کو ہم سب کے لیے محفوظ بنانے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، امن مشق بحری خطرات سے متحد ہو کر نمٹنے کی مسلمہ حقیقت کا مظہر ہے۔کمانڈر پاکستان فلیٹ نے کہا کہ مشق کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کے بحری نظریات اور کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھنا اور سمندر میں درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانا ہے۔ یہ مشق شریک ممالک کے دوستانہ تعلقات میں معاون ہوگی جس سے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے اور یکساں طریقہ کار کی مشق کرنے سے ان بحری خطرات سے نبرد آزما ہونے کا راستہ متعین ہوگا جس سے ہم سب اثر انداز ہو رہے ہیں۔ایڈمرل نیازی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ میڈیا پاک بحریہ کی اس کوشش کا درست تاثر اور امن مشق کے مقاصد کو نمایاں کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔اس تمام تر کاوش کا مقصد یہ ہے کہ سمندروں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ تمام مثبت بحری سرگرمیاں کسی خوف و خطرے کے بغیر جاری رہ سکیں۔ امن مشق ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں متعدد ممالک کی بحری افواج ایک عزم کے ساتھ مل کر کام کریں اور وہ عزم ہے ۔

Facebook Comments