مودی کا جنگی جنون،راجستھان میں بھارتی فضائیہ کی بڑی جنگی مشقیں

بھارتی فضائیہ نے کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سیکیورٹی فورسزپرحملے کے واقع کے بعد پاکستان کی سرحد سے متصل بھارتی ریاست راجستھان میں بڑی فضائی مشقیں کی ہیں جن میں فضائیہ میں شامل تمام طرزکے جہازوں اورحملہ آوورہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا،بھارتی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی

بھارتی فضائیہ نے کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سیکیورٹی فورسزپرحملے کے واقع کے بعد پاکستان کی سرحد سے متصل بھارتی ریاست راجستھان میں بڑی فضائی مشقیں کی ہیں جن میں فضائیہ میں شامل تمام طرزکے جہازوں اورحملہ آوورہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا ہے۔بھارتی خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ فضائی مشقیں پوکھران کے علاقے میں کی گئیں اوران میں بھرپورجنگی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا۔بھارت کے کئی ذرائع ابلاغ میں یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ یہ مشقیں کرانے کا منصوبہ بہت پہلے بنا لیا گیاتھا۔خیال رہے کہ یہ مشقیں ایک ایسے وقت کی گئیں ہیں جب بھارت کی مختلف ریاستوں میں پلوامہ کے حملے کا نشانہ بننے والے فوجیوں کے جنازے انکے آبائی علاقوں میں پہنچے ہیں اور بھارت میں پاکستان مخالف جذبات اپنے عروج پرہیں۔اس دوران وزیراعظم نریندرمودی سمیت تمام سیاسی اوردیگرشعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی طرف سے اس مرتبہ ٹھوس کارروائی کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔بھارتی نریندرمودی اس سلسلے میں فوج کو پہلے ہی اجازت دے چکے ہیں کہ وہ جو چاہیں اورجس وقت چاہیں کارروائی کرسکتے ہیں۔وایو شکتی نامی ان فضائی مشقوں میں بھارتی فضائیہ نے مقامی طور بنائے گئے ہلکے لڑاکا طیارے تیجا،ایڈوانس لائٹ ہیلی کاپٹروں،زمین سے فضا میں مار کرنے والے آکاش اورفضا سے فضا میں مارکرنے والے استرا میزائلوں کو بھی آزمایا۔پی ٹی آئی کے مطابق لڑاکا طیاروں نے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں بھی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ بھارتی فضائیہ نے مقامی طورپر بنائے گئے ہلکے حملہ آوور ہیلی کاپٹروں اور آکاش میزائلوں کا جنگی مشقوں کے دوران استعمال کیا ہے۔انڈین ایئر فورس نے روسی ساخت کے بہتر بنائے گئے مگ 29 طیاروں کو زمینی اہداف کو نشانے بنانے کے لیے استعمال کیا۔ان مشقوں میں مجموعی طورپر137 طیاروں جن میں ایس یو تھرٹی، میراج 2000 ، جیگوار اور مگ 21، مگ 27، اور مگ 29 اور آیی ایل 78 ہرکولیس اور ایے این 32 نے بھی حصہ لیا۔بھارتی فوج کے سربراہ بپن راوت کے علاوہ مختلف ملکوں کے دفاعی اتاشیوں نے بھی ان مشقوں کا مشاہدہ کیا۔

Facebook Comments