احتساب عدالت، آغا سراج درانی 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

احتساب عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا,پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، عدالت کے باہر پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی

عدالت سے ادویات اوراہلِ خانہ سے ملاقات کی درخواست،میں بینظیر بھٹو کا جیالا ہوں، مجھے نہیں پتا کہ یہ کیا ڈرامہ تھا، مجھے انکوائری میں بلایا ہی نہیں تو کہاں سے تعاون کروں، آغا سراج درانی کی میڈیا سے بات چیت

احتساب عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیاہے۔نیب نے جمعرات کو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا۔دوران سماعت آغا سراج درانی نے گھر کے کھانے، ادویات اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی درخواست دے دی جس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ جن ادویات کی آپ کوضرورت ہے وہ لکھ کردے دیں، عدالت آرڈر جاری کردے گی۔عدالت میں سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلا ریمانڈ ہے، 14 روزہ ریمانڈ مانگ رہے ہیں، نیب قانون میں 90 روزہ ریمانڈ ہوسکتا ہے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ ہمارے پاس ڈاکٹرزموجود ہیں، ملزم کا میڈیکل کرایا گیا ہے، آغا سراج درانی نے کہا کہ گھرسے کیا لے گئے ہیں اورکیا اپنے پاس سے شامل کریں گے، معلوم نہیں ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ آغا سراج درانی کا معاملہ انکوائری اسٹیج پر ہے جس پر آغا سراج کے وکیل نے کہا کہ نیب کی مختلف اداروں سے بات چیت چل رہی ہے اور کل ان کے گھر پر چھاپہ مار کر خواتین سے بد تمیزی کی گئی اور انہیں ہراساں کیا گیا۔آغا سراج درانی کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کے موکل سے کوئی ذاتی دشمنی ہے اس لیے ان کے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔بعدازاں احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار ہونے والے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو یکم مارچ تک جسمانی ریمانڈ پرنیب کے حوالے کردیا۔آغا سراج درانی کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، عدالت کے باہر پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی۔احتساب عدالت انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کیا پولیس صورت حال کنٹرول کرسکتی ہے، رینجرزکی معاونت درکار ہوتو بھی بتایا جائے۔عدالت انتظامیہ نے کہا تھا کہ صورت حال قابومیں نہ رہے تورینجرزطلب کی جا سکتی ہے، احتساب عدالت کی ہدایت کے بعد تھانہ پریڈی سے اضافی نفری طلب کرلی گئی۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اور کارکنان بڑی تعداد میں احتساب عدالت پہنچے۔ آغاسراج درانی کی کمرہ عدالت میں پیپلزپارٹی رہنماوں سے ملاقات ہوئی ہے،کمرہ عدالت میں قائم علی شاہ ،شہلا رضا،سعید غنی اوردیگررہنما بھی موجود تھے۔پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران سراج درانی نے کہا کہ میں بینظیر بھٹو کا جیالا ہوں، مجھے نہیں پتا کہ یہ کیا ڈرامہ تھا، مجھے انکوائری میں بلایا ہی نہیں تو کہاں سے تعاون کروں، میرے گھر میں میرے بچوں کو بند کرکے 6 گھنٹے کارروائی کی گئی، میرے گھر کی بے حرمتی کی گئی۔واضح رہے کہ آغا سراج درانی کو گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا تھا ، مقامی عدالت سے نیب نے ان کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ لیا تھا۔ انہیں گزشتہ رات اسلام آباد سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

Facebook Comments