بھارت نے جارحیت دکھائی تو آخری سانس تک ملک دفاع کریںگے، پاک فوج

بھارت نے جارحیت دکھائی تو خون کے آخری قطرے تک ملک کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے،پاکستان مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اس لئے ہم بھارت کے ساتھ کسی قسم کا تنازع نہیں چاہتے،میجرجنرل آصف غفور

پلواما حملے میں مقامی گاڑی استعمال ہوئی اورجس نوجوان نے حملہ کیا وہ بھی کشمیری تھا،ھارت میں الیکشن قریب ہیں تو کہاں کہاں ایسے حملے کیے جا سکتے ہیں،پریس کانفرنس

بھارت نے جارحیت دکھائی تو پاک فوج آخری سانس تک ملک کا دفاع کرے گی,ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاکستان مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اس لیے ہم بھارت کے ساتھ کسی قسم کا تنازع نہیں چاہتے لیکن اگر جارحیت دکھائی گئی تو آخری سانس تک پاک فوج ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان کا پیغام دکھاتے ہوئے کہا کہ خون کے آخری قطرے تک ملک کے چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پلواما حملے میں مقامی گاڑی استعمال ہوئی اورجس نوجوان نے حملہ کیا وہ بھی کشمیری تھا،بہت سے افراد ایسے واقعات کی پیشگوئی کرچکے تھے کہ بھارت میں الیکشن قریب ہیں تو کہاں کہاں ایسے حملے کیے جا سکتے ہیں۔ویڈیو کا تکنیکی جائزہ لیں توبہت سے نکات کی نشاندہی ہوگی۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے بھارت کے اس مؤقف کو رد کیا کہ پاکستان جنگی تیاریاں کررہا ہے،انہوں نے کہا کہ جواب دینا اوردفاع کرنا ہمارا حق ہے جو ہم استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 70 سال سے آپ کو ہی دیکھا اور ردعمل بھی آپ کیلئے ہے۔پاکستانی افواج کبھی بھی آپ سے سرپرائزنہیں لیکن آپ کو کردے گی،کسی بھی دھمکی کا بھرپورجواب دیں گے۔وزیراعظم کی تقریری کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے پلواما حملے پرذمہ دارانہ رویہ اختیارکرتے ہوئے ثبوت طلب کیے،اگرثبوت دیں تو پاکستان خود کارروائی کرے گا۔وزیراعظم نے یہ تک کہا کہ بھارت کے دہشتگردی پربات کرنے کے مطالبے پر بھی بات کرنے کو تیارہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ بھارت نے اپنی ناکامیوں کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دی،کلبھوشن کی صورت میں بھارتی دہشتگردی کا ثبوت موجود ہے۔میجرجنرل آصف غفور نے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھی پاکستان میں کوئی اہم ایونٹ ہو بھارت میں دہشتگردی کا واقعہ ہوجاتا ہے۔پلوامہ حملے کا فائدہ کس کو پہنچا؟انہوں نے کہا کہ اس ساری صورتحال میں بھارتی میڈیا جنگی صحافت کررہا ہے جبکہ پاکستانی میڈیا نے ذمہ دار کردارادا کیا۔میجرجنرل آصف غفورنے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ خطے کا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے،آیے اس پربات کریں،ریاستی دہشتگردی کی پالیسی ناکام ہورہی ہے،آپ سیکیولر ملک ہیں تو اقلیتوں کو تکلیف کیوں دی جا رہی ہے؟ امن اورترقی چاہتے ہیں تو ہمارے ملک میں کلبھوشنوں کو مت بھیجیں، خطے کا امن تباہ نہ کریں،ترقی کے مواقع نہ گنوائیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے امید ظاہرکی کہ بھارت حکومت پاکستان کی امن کی پیشکش پرغور کرتے ہوئے خطے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا،انہوں نے کہا کہ جنگی حالات پیدا کر کے پاکستان سے دشمنی کرلیں لیکن انسانیت سے دشمنی نہ کریں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان بہت مشکلوں سے گزر کر یہاں پہنچا، ہم واحد فوج ہیں جس نے دہشتگردی کا مقابلہ کر کے اسے اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ پاکستان خطے میں امن کی کوش کرکے معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ے، غلطیاں کیں لیکن سیکھا بھی، اب غلطی کی گنجائش اور نہ کوئی ارادہ ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پس منظر پر بات کرتے ہوئے کہا بھارت آج تک پاکستان کے آزاد ہونے کی حقیقیت کو تسلیم نہیں کرسکا اور 1947 سے کشمیر میں مظالم جاری ہیں۔ 1965 میں ملک ترقی کی راہ پر گامزن تھا لیکن بھارت کے ساتھ جنگ ہوئی جس کے اثرات مرتب ہوئے۔ مکتی باہنی کا کردار سب کے سامنھ ہے جب حالات خراب کروائے گئے اور ہمیں دو لخت کیا گیا۔ سن 1971 سے 84 تک مشرقی سرحدوں پر صورتحال پرسکون تھی۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا ملک امن و استحکام کی طرف بڑھ رہا تھا کہ سیاہ چن کا واقعہ ہوا، بھارت نے ہمارے علاقے پر قبضہ کیا، تب سے آج تک پاکستانی افواج ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1998 میں اپنے دفاع میں جوہری طاقت حاصل کی، بھارت نے غیر روایتی حکمت عملی اپناتے ہوئے ملک میں دہشتگردی کو فروغ دینا شروع کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 2003 میں ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن قائم کر کے فائر بندی کی گئی جس کی بھارت خلاف ورزیاں کرتا رہا۔ 2004 سے 2008 تک 5 مرتبہ مذاکرات ہوئے لیکن ممبئی حملوں کو بنیاد بنا کر انہیں معطل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 2008 میں دہشتگردی کیخلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل ہو رہی تھی تو بھارت ایک بار پھر اپنی افواج بارڈر پر لے آیا، کلبھوشن کیس بھی اسی بات کا ثبوت ہے۔جنرل اسد درانی کی کتاب سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق جنرل اس درانی ملٹری قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے، اسی بنا پر اب وہ پنشن اور دیگر مراعات کے اہل نہیں رہے لیکن ان کا رینک برقرار رہے گا۔

Facebook Comments