بحریہ ٹائون کی تحقیقات ختم کرانے کیلئے سپریم کورٹ کو 485 ارب کی پیشکش

بحریہ ٹاون نے کراچی سمیت مختلف شہروں میں اراضی کے عوض سپریم کورٹ کو چار سو پچاسی ارب روپے کی نئی پیشکش کردی۔ ساری رقم آٹھ سال میں ادا کی جائے گی

کراچی سپر ہائی وے منصوبہ کیلئے 440 ارب،دوسری جانب تخت پڑی اراضی کیلئے22 ارب اورمری میں موجود منصوبے کیلئے23 ارب روپے دیئے جائیں گے،وکیل بحریہ ٹائون

شخصیات ویب ڈیسک
بحریہ ٹاون نے کراچی سمیت مختلف شہروں میں اراضی کے عوض سپریم کورٹ کو چار سو پچاسی ارب روپے کی نئی پیشکش کردی۔ ساری رقم آٹھ سال میں ادا کی جائے گی۔ آفر کی منظوری پر بیس ارب کی پہلی قسط ادا کریں گے۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے نئی پیشکش عدالت میں جمع کرادی۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی عمل درآمد بینچ کل اس پیشکش کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔عدالت میں جمع کرائی گئی تحریری پیشکش میں بتایا گیا کہ بحریہ ٹاون کراچی سپر ہائی وے منصوبہ کیلئے 440 ارب دینے کیلئے تیارہیں۔ دوسری جانب تخت پڑی اراضی کیلئے22 ارب اور مری میں موجود منصوبہ کیلئے23 ارب روپے دیئے جائیں گے۔بحریہ ٹاون کے وکیل کا عدالت میں کہنا تھا کہ 485 ارب 8 سالوں میں ادا کریں گے۔پیشکش کی منظوری میں پہلی قسط 20 ارب روپے کی ہوگی۔پہلے پانچ سالوں میں ماہانہ 2 ارب ادا کیے جائیں گے۔باقی تین سالوں میں 8.33 ارب روپے کی ماہانہ قسط ادا کی جائے گی۔بحریہ ٹاون نے یہ بھی بتایا کہ 4ارب 70 کروڑ سندھ حکومت کو ادا کرچکے ہیں، جب کہ 10ارب 75 کروڑ سپریم کورٹ کے پاس پہلے ہی جمع ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیشکش منظور کرکے عدالت زیر قبضہ زمین کو بحریہ ٹاون کے نام منتقل کرے۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کی طرف سے کراچی میں 16 ہزار ایکڑ اراضی کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے چار کھرب روپے جمع کرنے کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔بحریہ ٹاون کے معاملے پر نیب کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاون کے معاملے میں ایک ریفرنس کراچی میں، جب کہ چار دیگر ریفرنس بھی دائر کیے جائیں گے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو یہ پیشکش کی تھی کہ اگر وہ کم ازکم پانچ سو ارب ادا کر دیں تو ان کے خلاف تمام مقدمات کو ختم کر دیا جائے گا لیکن بحریہ ٹاؤن کے مالک نے اس آفر کو قبول نہیں کیا تھا۔

Facebook Comments