کرائسٹ چرچ، مسجد میں فائرنگ سے 49افراد کی شہادت پر عالمی رہنمائوں کا اظہار مذمت

کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں

، وزیراعظم پاکستان عمران خان، وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسیکا آرڈرن، آسڑیلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ،روسی صدر ولادی میر پیوٹن ،برطانوی وزیراعظم تھریسامے ، میئر لندن صادق خان،جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس ودیگرعالمی رہنمائوں کا رد عمل، متاثرین سے اظہار ہمدردی
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ میں مساجد میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے پر صدمے کی حالت میں ہوں۔
اس حملے نے ہمارے موقف کو ثابت کر دیا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ متاثرہ خاندان کے لیے دعا گو ہیں۔

کرائسٹ چرچ میں مساجد پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان،،برطانوی وزیراعظم تھریسامے

کرائسٹ چرچ میں مساجد پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان،،برطانوی وزیراعظم تھریسامے

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ9/11 کے بعد مسلمانوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔اسلام اور ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ایسا کرنے کا مقصد مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کو مسخ کرنا تھا۔
امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں خطرناک قتل عام پر میں نیوزی لینڈ کے عوام کے لیے نیک خواہشات اور متاثرین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 49 افراد کو بے حسی سے قتل کردیا گیا جبکہ متعدد بری طرح زخمی ہیں، امریکا مشکل کی اس گھڑی میں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہے اور ہم ا±ن کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔
روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے بھی کرائسٹ چرچ دہشت گرد حملے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے تعزیت کی۔
برطانوی وزیراعظم تھریسامے کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں ہونے والی ہولناک دہشت گردی کی مذمت اور متاثرین سے دلی تعزیت کرتی ہوں، میری تمام نیک تمنائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔
لندن کے میئر صادق خان نے تمام مساجد کی سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری کو وہاں تعینات کردیا۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ میٹرو پولیٹن پولیس مساجد کے باہر واضح طور پر نظر آئے گی۔ انہوں نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لندن دہشت گرد حملے کا سامنے کرنے والے کرائسٹ چرچ کے عوام کے بشانہ بشانہ کھڑا ہے۔
آسڑیلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد نے کیا، اس کے ساتھ انہوں نے حملہ آور کی آسٹریلوی شہری ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی حکام اس حوالے تحقیقات کررہے یں۔

آج ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسیکا آرڈرن، ملزم ہمارا شہری تھا، آسٹریلین وزیراعظم اسکاٹ موریسن

آج ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسیکا آرڈرن، ملزم ہمارا شہری تھا، آسٹریلین وزیراعظم اسکاٹ موریسن

جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ اور نیوزی لینڈ کے عوام سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس خطرناک دہشت گرد حملے میں پرامن انداز میں نماز پڑھتے ہوئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، اگر لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو یہ ہم سب پر حملہ ہے۔
خیال رہے کہ حملہ آور برینٹن ٹیرنٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جو کچھ سال قبل تک نیوساﺅتھ ویلز کے شہر گرافٹن میں ایک جم میں ٹرینر کے طور پر کام کرتا رہا تھا۔
نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے مغربی میڈیا کا دہرا معیار بھی سامنے آیا، مشہور صحافتی اداروں نے مسجد پر ہونے والے حملے کو دہشت گرد لکھنے سے گریز کیا اور سفید فام شخص کو بھی کسی نے دہشت گرد نہیں لکھا۔
نیوزی لینڈمساجد پر حملے کے بعد برطانوی شاہی محل، وزیراعظم ہاو¿س اور وزارتِ داخلہ کی عمارتوں پر برطانوی پرچم سرنگوں کردیے گئے

Facebook Comments