سوڈان میں22 سالہ لڑکی 30سال سے برسر اقتدا ر صدر عمرالبشیر کے لیے خطرہ بن گئی

سوڈان میں22 سالہ لڑکی 30سال سے برسر اقتدا ر صدر عمرالبشیر کے لیے خطرہ بن گئی

سوڈان کے لیے امید کی علامت سوڈانی خواتین کی نمائندہ اور انقلابی لیڈربن کر ابھرنے والی 22سالہ صلاح آرکیٹیکچرکی طالبہ 30سال سے برسر اقتدا ر صدر عمرالبشیر کے لیے خطرہ بن گئی
سوڈان کے لیے امید کی علامت بن کر ابھرنے والی 22سالہ صلاح آرکیٹیکچرکی طالبہ ہیں
سوڈان میں سوشل میڈیا پر الا صلاح کوسوڈانی خواتین کی نمائندہ اور انقلابی لیڈر قرار دے دیا گیا

 صلاح سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ہونے والے مظاہرے میں شریک لوگوں سے خطاب کر رہی ہیں


صلاح سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ہونے والے مظاہرے میں شریک لوگوں سے خطاب کر رہی ہیں

سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی تصاویر 8 اپریل 2019 کو دارالحکومت خرطوم میں ہونے والے مظاہرے کے دوران اس وقت کھینچی گئی

تھیں جب وہ مظاہرے میں شریک لوگوں کے ہجوم سے خطاب کر رہی تھیں
ویڈیوز میں سفید لباس میں ملبوس نوجوان لڑکی صلاح کو لوگوں کے ہجوم سے جوشیلا خطاب کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ ویڈیوز میں نوجوان لڑکی کو گاڑی کے اوپر کھڑے ہوکر پرجوش انداز میں مظاہرین سے نعرے لگواتے بھی دیکھا جاسکتا تھا
سوڈان کی فوج نے ملک پر 30 سال تک حکومت کرنے والے صدر عمر البشیر کو ایک ایسے وقت میں گرفتار کرکے حکومت کے انتظامات سنبھالے جب 2 دن قبل ہی ایک سوڈانی لڑکی کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں۔

سوڈان کے لیے امید کی علامت 22سالہ صلاح

سوڈان کے لیے امید کی علامت 22سالہ صلاح

سوڈان کے وزیر دفاع نے بھی ملک کی فوج کی جانب سے حکومتی انتظامات کو سنبھالنے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ 2 سال کے اندر عام انتخابات کرائے جائیں گے۔
اس لڑکی کی حکومت مخالف مظاہروں کے دوران سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوڈان کے بڑے شہروں، خصوصی طور پر دارالحکومت خرطوم میں مظاہروں میں نوجوانوں کی تعدادمیں اضافہ ہوا۔برطانوی اخبار ’دی گارجین ‘ کے مطابق ابتدائی 2 دن تک انٹرنیٹ پر اس لڑکی کی تصاویر وائرل ہوتی رہیں اور اسے سوڈان کے ایک نئے لیڈر کے طور پر جانا جانے لگا۔ اس لڑکی کے حوالے سے کچھ تفصیلات سامنے آ چکی ہیں، اس نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی لہر اور نوجوانوں میں بیداری کا باعث بنیں۔

 سوڈانی خواتین کی نمائندہ الا صلاح دیگر خواتین کے ہمراہ محو گفتگو ہیں

سوڈانی خواتین کی نمائندہ الا صلاح دیگر خواتین کے ہمراہ محو گفتگو ہیں

رپورٹ کے مطابق اس لڑکی کی شناخت 22 سالہ آلاء صالح کے طور پر ہوئی ہے جو آرکیٹکچر کی طالبہ ہیں۔الا صالح نے بتایا کہ ان کی وائرل ہونے والی تصاویر 8 اپریل 2019 کو دارالحکومت خرطوم میں ہونے والے مظاہرے کے دوران اس وقت کھینچی گئی تھیں جب وہ مظاہرے میں شریک لوگوں کے ہجوم سے خطاب کر رہی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق کسی سیاسی گھرانے سے نہیں ہے ، تاہم وہ سوڈان میں بہتری کے لیے سڑکوں پر آئیں اور لوگوں کے ہجوم میں شامل ہوکر نوجوانوں کا حوصلہ بڑھانے لگیں۔ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انہوں نے مظاہرین کو مزید جوش دلوانے کے لیے تیاری کی اور انہوں نے مظاہروں کے دوران انقلابی شاعری پڑھنا اور نعرے لگوانا شروع کئے۔
اگرچہ بغاوت میں اس لڑکی کا براہ راست کوئی کردار نہیں، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ ان کی جانب سے مظاہروں میں نوجوان نسل کا جوش بڑھانے کی وجہ سے فوج نے آگے آنے کا فیصلہ لیا۔
30 سال تک حکومت کرنے والے صدر کے خلاف ان مظاہروں میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا اور رواں ماہ کے آغاز میں یہ مظاہرے پر تشدد ہو گئے اور گزشتہ ہفتے تک کم سے کم مظاہروں کے دوران 10 افراد کے ہلاک ہوجانے کی اطلاعات بھی آئیں۔ عمر البشیر نے 1989 سے سوڈان کا اقتدار سنبھالا ہوا تھا۔

سوڈان میں دسمبر 2018 سے صدر عمر البشیر کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری ہیں جو گزشتہ 30 سال سے اقتدار پر قابض ہیں۔

مظاہرین کے نعروں میں ایک نعرہ ’آزادی، امن اور انصاف‘ اور دوسرا نعرہ ’ ایک فوج اور ایک قوم‘ مقبول ہورہے ہیں

مظاہرین کے نعروں میں ایک نعرہ ’آزادی، امن اور انصاف‘ اور دوسرا نعرہ ’ ایک فوج اور ایک قوم‘ مقبول ہورہے ہیں

مظاہروں کاآغاز اس وقت ہوا جب دسمبر میں حکومت نے بچت مہم کے دوران اشیائے خور و نوش پر سبسڈی کے خاتمے کا اعلان کیا اور ملک میں مہنگائی کا طوفان آگیا۔
روٹی کی قیمت میں تین گنا اضافہ ہوگیا جبکہ تیل کی قیمتیں بھی آسمان پر جا پہنچیں۔
گزشتہ ایک دہائی سے سوڈان کی معیشت ویسے بھی مشکلات کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق سوڈان کی 13 فیصد آبادی کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
اب اس معاشی بدحالی کی وجہ سے سوڈان کی عوام سڑکوں پر ہے، برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے نعروں میں ایک نعرہ آزادی، امن اور انصاف‘ اور دوسرا نعرہ ’ ایک فوج اور ایک قوم‘ مقبول ہورہے ہیں۔
اس موقع پر فوج نے صدر کا ساتھ دیا اور دارالحکومت میں کرفیو نافذ کردیا تاہم مظاہرین نے فوج کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کرفیو کا نفاذ غیر قانونی ہے۔
مظاہروں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شریک ہے جو صدر عمر البشیر کے خلاف نعرے لگا رہی ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لوگوں نے الا صلاح کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ صلاح نہ صرف سوڈان کے لیے ایک امید کی علامت بن کر ابھری ہیں بلکہ وہ سوڈانی خواتین کی نمائندہ ہیں۔ 

لوگوں کا کہنا ہے، ’صلاح کی آواز ہر سوڈانی خاتون کی آواز ہے‘
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سوڈان میں جاری مظاہروں میں اب تک 51 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دارالحکومت میں ایوان صدر کے قریب ظاہرین نے سنگ باری بھی کی جس کے بعد فورسز اور مظاہرین کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔

Facebook Comments