شاہ زیب قتل کیس کے مجرموں کا فیصلہ، شاہ رخ جتوئی اورسراج تالپور کی سزائے موت ٹل گئی

 قاتل و مقتول شاہ زیب و شاہ رخ جتوئی

قاتل و مقتول شاہ زیب و شاہ رخ جتوئی

شاہ زیب قتل کیس کے مجرموں کی اپیلوں کا سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنادیا، شاہ رخ جتوئی اورسراج تالپور کی سزائے موت ٹل گئی
شاہ زیب قتل کیس، شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل ،سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار

شخصیات ویب رپورٹ :

سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مجرموں کی اپیلوں کا فیصلہ سنادیا ہے، عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی جبکہ دیگر دو مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔پیر کو جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس نظر اکبر پر مشتمل سندھ ہائیکورٹ کے خصوصی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور اور دیگر کی سزاﺅں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔شاہ زیب قتل کیس کے مجرم شاہ رخ جتوئی اورسراج تالپور کی سزائے موت ٹل گئی،سندھ ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنادیا۔ شاہ رخ جتوئی اور دیگر مجرمان کی اپیلیں مسترد کردی گئیں۔ مدعی کے وکیل محمود عالم رضوی ایڈووکیٹ نے اپنے دلائل میں کہا کہ مدعی مقدمہ اور مقتول کے والد کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ فریقین کے درمیان صلح بھی ہوچکی ہے۔ صلح نامہ کی بنیاد پر تمام مجرمان کو بری کردیا جائے۔مدعی مقدمہ کے وکیل کی طرف سے دلائل میں کہا گیا کہ سرکار نے ملزمان اور مدعی کے درمیان سمجھوتہ پر اعتراض اٹھایا تھا۔ دھمکیوں اور خطرات کی وجہ سے مقتول کے اہلخانہ منظر عام پر آنا نہیں چاہتے۔رجسٹرار سمیت کوئی بھی عدالتی نمائندہ انٹرنیٹ پر اسکائپ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کرسکتا ہے، برطانیہ میں بھی پاکستانی میڈیا موجود ہے لیکن خواتین اصل میں سوشل میڈیا سے خوفزدہ ہیں۔ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہاکہ دہشت گردی کے مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح نہیں ہوسکتی۔ وکلا صفائی کا شاہ رخ جتوئی کو قتل کے وقت نابالغ قرار دینا درست نہیں۔ واقعے کے وقت شاہ رخ جتوئی کی عمر 18 سال سے زائد تھی۔عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور دیگر کی سزا?ں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزمان شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جبکہ مرتضی لاشاری اور سجاد تالپور کی عمر قید برقرار رکھنے کا حکم دیا۔عدالت نے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر 11مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا ،انسداددہشتگردی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کوموت کی سزا سنائی تھی۔واضح رہے کہ شاہ رخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے 24 اور 25 دسمبر 2012 کی درمیانی شب کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں فائرنگ کرکے شاہزیب خان کو قتل کر دیا تھا۔سات سال قبل پیش آنے والے شاہ زیب قتل کیس نے نہ صرف ملکی، بلکہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی تھی، سول سوسائٹی حرکت میں آگئی، ملزم بیرون ملک فرار ہوگیا، مگر چیف جسٹس آف پاکستان کے سوموٹو ایکشن اور میڈیا اور عوامی دبا? کے بعد تفتیشی اداروں کو لامحالہ ایکشن لینا پڑا۔7 جون 2013 کو قتل کا جرم ثابت ہونے پرکراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔28 نومبر 2017کو سندھ ہائی کورٹ نے صلح نامہ کی بنیاد پر شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی اور ملزمان کو رہا کردیا گیا۔سپریم کورٹ نے فروری 2018 میں شاہ زیب قتل کیس میں متفرق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے شاہ رخ جتوئی سمیت 3 ملزمان کو دی جانے والی ضمانت اور مذکورہ کیس دوبارہ سول عدالت میں چلانے کا فیصلہ معطل کرکے ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیاتھا۔

Facebook Comments